Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مودی حکومت کی مقبولیت سے کانگریس کو بوکھلاہٹ

مودی حکومت کی مقبولیت سے کانگریس کو بوکھلاہٹ

پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے پر مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کا اظہار ِافسوس
بنگلور۔26جولائی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)مرکزی وزیر پارلیمانی امور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا ہے کہ مرکز میں این ڈی اے کی نریندر مودی قیادت والی حکومت کی روز افزوں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کانگریس مشکل میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے مسائل کو اٹھا کر جاریہ مانسون اجلاس کی کارروائی کو ٹھپ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ مرکزی حکومت نے اپوزیشن کو اس بات کا تیقن دیا ہے کہ وہ اس کی تمام شکایات کو بغور سنے گی مگر اس تیقن کے باوجود کانگریس نے ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دیاہے جو کہ سراسر غیر جمہوری عمل ہے۔انھوں نے کہا کہ کانگریس کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ عوام نے این ڈی اے کو بھاری مقدار میں اپنا مینڈیٹ دیا ہے جب کہ کانگریس کو حکومت یہ تیقن بار بار دے رہی ہے کہ وہ اس کے تمام مسائل بشمول للت مودی کیس،ویاپم معاملہ اور تحویل اراضی بل پر نہ صرف بحث کرنے کا بلکہ اس کی بات کو سننے کا بھی یقین دے رہی ہے مگر اس کے باوجود کانگریس اور اس کے ارکان ایوان میں بحث میں حصہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں۔یہ سو سالہ پارلیمانی تاریخ کے دوران کانگریس کیجانب سے پیش کردہ بدترین غیرجمہوری مثال ہے۔انھوں نے کہا کہ جب میں نے ایوان کی کارروائی کے آغاز سے قبل کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا اس دوران26پارٹیوں کے41 لیڈروں نے مجھے اس بات کا تیقن دیا تھا کہ ایوان کی کارروائی کو موثر اور پرامن انداز میں چلنے دیا جائے گامگر جب ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا کانگریس نے کسی کی بھی ایک نہ چلنے دی اور غیر ضروری طور پر ان تمام معاملات کو اٹھا کر خواہ مخواہ کا ہوا کھڑا کر دیا ہے ۔کانگریس نے این ڈیا ے پر کرپشن کا الزام تو عائد کیا ہے مگر اپنے آنگن میں ہو رہے کرپشن کو وہ بھول چکی ہے۔مسٹر نائیڈو نے اس بات پر اصرار کیاہے کہ مرکزی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے نہ تو کوئی غلطی کی ہے اور نہ ہی کوئی غیر انسانی حرکت۔وہ ہماری کابینہ کی سب سے زیادہ موثر اور سرگرم وزیر ہیں اور ملک کے لیے ایک اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ایک ایسے شخص کی مدد کرنا جب کہ ضرورت مند کسی مجرمانہ واقعہ میں ملوث نہ ہوکوئی غلطی نہیں ہے۔تاہم محترمہ سوراج ایوان میں اس موضوع پر بحث کرنے کو تیار ہیں اور کانگریس ان کی کسی بات کو سننے کو راضی نہیں ہے اور وہ ان سے بار بار استعفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔اے آئی سی سی کے نائب صدر مسٹر راہل گاندھی کے اس بیان کا جس میں انھوں نے محترمہ سوراج کی حرکت کو مجرمانہ عمل قرار دیا تھا سخت الفاظ میں نوٹس لیتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے کہا کہ یہ کانگریس کی عادت ہے کہ وہ ایسی گھٹیا سیاست میں ملوث رہا کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT