Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / مودی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ

مودی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ

ظلمتیں اُجالوں پر فتح پا نہیں سکتیں
اک چراغ بجھتا ہے سو چراغ جلتے ہیں
مودی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ
دکن میں یہ کہاوت مقبول ہے کہ اوقات سے زیادہ کسی کو مل جائے تو وہ بے قابو ہوجاتا ہے۔ صبر و تحمل سے کام لینے والے اُمور کو جب نادانی کی پھلجھڑی لگاکر چھوڑ دیا جائے تو اس سے مختصر وقفہ تک چمک دکھائی دیتی ہے بعدازاں وہی تاریکی چھا جاتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بنانے کی کوشش نئی نہیں ہے۔ ملک میں ایسی طاقتیں اس وقت سوکھے کنویں کے مینڈک کی طرح آوازیں نکالتی ہیں جب وہ کئی محاذوں پر ناکام ہوتی ہیں۔ مرکز میں برسر اقتدار حکمراں پارٹی کا ایجنڈہ صرف مسلمان اور کشمیر ہی رہ گیا ہے اور اس موضوع پر اس نے اپنے اشاروں پر رقص کرنے والے قائدین، کارکنوں اور صحافیوں کو میدان شور میں مشغول کردیا ہے۔ سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر طلاق ثلاثہ کے خلاف عرضی داخل کرنے والی چند سازش کا شکار مسلم خواتین کی آڑ میں مرکز اور اس کے قانونی اداروں نے مسلمانوں کی شرعی زندگیوں میں طوفان بدتمیزیوں کا سیلاب لانے کی کوشش شروع کی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ہی ہر زاویہ سے نشانہ بنانے کے حالیہ برسوں میں ہندو قوم پرست گروپس نے یکساں سیول کوڈ اور انفرادی حقوق کے نظریہ کا زبردست شور مچایا ہے۔ وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس نے جس طرح کی شرپسندانہ بحث چھیڑی ہے یہ خود مسلمانوں کے بعض آزاد پسند ارکان کو اپنا طرفدار بنالیا ہے۔ 2015 ء سے بی جے پی نے یکساں سیول کوڈ کے ذریعہ پرسنل لاء پر نظرثانی کرنے کی بات کو دہرانا شروع کیا۔ اگسٹ 2016 ء میں کانگریس پارٹی کارکن سے سیاستداں بننے والے حسین دلوی نے پارلیمنٹ میں ایک خانگی رکن بل متعارف کروایا اور طلاق ثلاثہ کو چیلنج کیا گیا۔ اس کے بعد سے یکساں سیول کوڈ، مساوات یا بہتات کی وکالت کی جانے لگی اور تمام سیاسی پارٹیوں میں تبدیلی کے لئے ناقابل تردید خواہش پیدا کردی گئی اور اس کے لئے سماجی تحریکوں کو بھی ہوا دی جارہی ہے۔ دو زاویوں سے صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایک تو یکساں سیول کوڈ لایا جائے یا پھر پرسنل لا کو بدل کر رکھ دیا جائے۔ اس مسئلہ پر شدت کی تلوار لٹکار حکومت نے لاء کمیشن آف انڈیا تشکیل دیا۔ یہ مسئلہ اب اس لاء کمیشن کے زیرغور ہے جس نے تمام طبقات سے ان کی رائے طلب کی ہے۔ خاص کر مسلمانوں کے سامنے جو سوالنامے پیش کئے گئے انھیں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یکسر مسترد کردیا ہے۔ دستور ہند کے منافی قدم اُٹھاتے ہوئے جب کوئی طاقت اپنی بات منوانے کی کوشش کے طور پر مختلف بہانے اور تاویلات پیش کرکے گمراہ کن مہم چلاتی ہے تو پورے معاشرہ کی ذہنیت کو منتشر کرکے رکھ دیا جاتا ہے۔ شاہ بانو تا سائرہ بانو کیس کو بڑی نزاکت اور مطلب براری کے ساتھ قانونی کی کیل پر اٹکاکر رکھ دیا گیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء نے مودی حکومت کی گھناؤنی سازشوں کو بھانپ کر مؤثر جواب دیا ہے۔ مگر ملک کے موجودہ حالات میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کو کمزور بنانے کی جو درپردہ مہم چلائی جارہی ہے اس سے یہ بورڈ کس حد تک چوکنا رہ سکے گا اور مسلمانوں کی اکثریتی آبادی اپنے شرعی قوانین کے تحفظ میں بورڈ کا کس حد تک ساتھ دیں گے یہ انفرادی بلکہ اجتماعی ذمہ داریوں کے تابع ہوگا۔ لہذا مسلمانان ہند کو مخالف اسلام طاقتوں کی کوششوں اور گمراہ ہونے والے مسلم خواتین و مرد حضرات کے بارے میں شعور بیداری اور دینی اُمور کی سوجھ بوجھ سے ذہنوں کی تعمیر میں ایک مؤثر رول ادا کرنا ہر مسلم فرد و تنظیموں کا کام ہے۔ دستور ہند کے مختلف دفعات کے حوالے سے غیر ضروری اُلجھن پیدا کرکے جس طرح کی تاویلات کے ساتھ بحث کی جارہی ہے یہ سراسر شرعی اُمور میں دراندازی کی کوشش ہے۔ مودی حکومت کی اب تک کی حکمرانی اور کارکردگی صفر درجہ تک ہی محدود ہے۔ اس کی ناکامیوں پر توجہ دینے کے بجائے سارے ہندوستان کی توجہ ایک خاص طبقہ کے شرعی اُمور اور کشمیر جیسے حساس مسئلہ تک ہی مرکوز کرکے رکھ دی گئی ہے۔ یوپی اسمبلی انتخابات میں کامیابی کی دوڑ نے حکمراں بی جے پی اور اس کے قائدین کو اس مقام پر لاکھڑا کردیا ہے کہ وہ اپنی بقاء کی جدوجہد میں بُری طرح ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ ناکامی اس کا تعاقب کرتی رہے گی۔ نامعلوم افراد کی گونج تو اب سب ہی کی آواز بنانے کی سازش میں الیکٹرانک کا زر خرید صحافی ٹولہ بھی برابر کا شریک ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا انگریزی پرنٹ میڈیا کے چند گوشے اپنے صحافتی اقدار پر زعفرانی چادر ڈال کر سیکولر ہندوستان کی نبض کو ٹٹولنے میں جب ناکام ہوں گے تو اس وقت ان کے سیاسی آقاؤں کی حالت دیدنی ہوگی اور یہ الیکٹرانک میڈیا کے کیمرے میں شرماکر آنکھیں موند لیں گے۔ مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے شرعی مسائل کو بازار کی زینت بنانے والوں کا بازو پکڑیںاور اندرون شریعت طلاق، کثرت ازدواج، خواتین کے حقوق کی یکسوئی کی کوشش کریں اور مودی حکومت کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ مسلمانوں کے شرعی اُمور پر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
ہندوستانی مارکٹ میں چین کی اشیاء
ہندوستان کے بازاروں میں چین میں تیار اشیاء کی فروخت میں اضافہ اور سستے پراڈکٹس کی طلب بڑھنے کے درمیان وزارت کامرس اور صنعت نرملا سیتا رامن نے مارکٹ کے چند گوشوں کی رائے کے برعکس قدم اُٹھایا ہے کہ چین سے آنے والی تمام برآمدات پر مکمل امتناع عائد نہیں کیا جائے گا۔ جب سے چین کی جانب سے ہندوستانی سلامتی کے لئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے چین کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کا خیال زور پکڑ رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں کوئی کمی بھی آئی ہے۔ چین کے لئے ہندوستان کی مارکٹ ایک مضبوط ترین مرکز بن گیا ہے۔ اس کے برعکس چین کی مارکٹ تک ہندوستانی اشیاء کی رسائی میں رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ حکومت ہند نے اب تک باہمی تعلقات و تجارت کے بارے میں صرف تیقنات اور مشوروں تک ہی خود کو محدود رکھا تھا۔ حالیہ مہینوں میں چین کی مارکٹ تک ہندوستانی آئی ٹی اور فارما کمپنیوں کو رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے دونوں ایشیائی معیشتوں کے درمیان تجارتی توازن پیدا ہوگا۔ چین کی مارکٹوں میں ہندوستانی اشیاء کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے تو اس سے ہندوستانی فارما کمپنیوں کو اپنے قدم جمانے میں مدد ملے گی۔ چین کے باشندے ہندوستانی فارما کمپنیوں کی جزک ادویات میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان ادویات کا حصول ان کے لئے مشکل ہے۔ اس لئے چین میں ہندوستانی فارما کمپنیوں کو قدم جمانے کا موقع فراہم کرنے کے لئے حکومت ہند کو تجارتی نکتہ نظر سے کوشش کرنی چاہئے۔ ہندوستانی مارکٹوں کو چین کی اشیاء کے لئے کشادہ کیا جارہا ہے تو چین کو بھی جوابی قدم کے طور پر اپنی تجارتی منڈیوں میں فراخدلانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT