Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / مودی حکومت کے تین سال ، بدعنوانی کا داغ نہیں مگر کئی وعدوں میں ناکامی

مودی حکومت کے تین سال ، بدعنوانی کا داغ نہیں مگر کئی وعدوں میں ناکامی

نئی دہلی، 25مئی (سیاست ڈاٹ کام) ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی مودی حکومت پر تین سال کی مدت کے دوران بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں لگا لیکن پاکستان، کشمیر، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے جیسے معاملے میں اس پر ناکامی کے الزام ضرور لگے۔ 26مئی2014کو اقتدار میں آئی مودی حکومت نے نیا ہندوستان بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور حکومت کے کام کاج کے طریقے کو تبدیل کرنے اور بدعنوانی روکنے کی سمت اس نے کئی جرات مندانہ فیصلے کرکے ناقدین کے منہ بند کردیئے ۔ ان میں کرنسی نوٹوں کی منسوخی، جی ایس ٹی، ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں شامل کرنے ، بجٹ پیش کرنے کے وقت میں تبدیلی اور پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک جیسے اقدامات اہم ہیں۔ اقتدار سنبھالتے ہی ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے بدعنوانی اور کالے دھن پر پابندی لگانے کے لئے نہ صرف نوٹوں کی منسوخی کے ذریعے 500 اور 1,000 کے نوٹ بند کرنے کا تاریخی اور جرأت مندانہ قدم اٹھایا بلکہ بے نامی جائیداد پر لگام لگانے اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں شفافیت لانے کا قانون بنایا۔ ان کی مسلسل کوششوں سے ملک نقدی سے عاری لین دین کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھا۔ بدعنوانی دور کرنے کیلئے حکومت نے کئی اقدامات کئے لیکن وہ ابھی تک لوک پال کی تقرری نہیں کر پائی ہے جس سے اسے اپوزیشن کی تنقید جھیلنی پڑ رہی ہے ۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے آدھار کارڈکی مخالفت کرتی رہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اقتدار میں آنے کے بعد آدھار کو قانونی جامہ پہنایا اور پیان کارڈ کے ساتھ ساتھ اپنے تمام منصوبوں کو اس سے جوڑ دیا۔ اس کی وجہ سے رازداری کی خلاف ورزی اور اس کے عمل درآمد میں آنے والی دقتوں کے سبب اس کی مخالفت ہورہی ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا، جہاں اب اس پر آخری فیصلہ آنا باقی ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی حکومت نے بڑے زور شور سے ’سوچھ بھارت مشن‘ سے ملک بھر میں صفائی مہم شروع کی اور غریب لوگوں کومکان مہیا کرانے کیلئے پردھان منتری آواس یوجنا، اسمارٹ سٹی یوجنا اور خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی دیہی خواتین کیلئے اُجولا پروگرام کے تحت مفت رسوئی گیس کنکشن جیسے عوامی فلاحی منصوبوں کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک کو مختلف شعبوں میں خود کفیل بنانے کیلئے میک اِن انڈیا، اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسکل انڈیا، ڈیجیٹائزڈ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا، مدرااورجن دھن یوجنا بھی لائی گئی۔ مودی حکومت نے غریبوں اور عام آدمی کی حالت بہتر بنانے کیلئے سرکاری پالیسیوں میں ردوبدل کرکے کئی نئی پالیسیاں اور منصوبے بنائے جن میں نئی ہیلت پالیسی، سستے ہوائی سفر کیلئے اُڑان یوجنا و دیگر شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT