Saturday , June 24 2017
Home / سیاسیات / مودی دوسروں کے باتھ روم میں جھانکنا بند کریں ‘ حکمرانی پر توجہ دیں

مودی دوسروں کے باتھ روم میں جھانکنا بند کریں ‘ حکمرانی پر توجہ دیں

اپوزیشن کو دھمکانے عوام نے آپ کو اقتدار نہیں دیا ۔ اقتدار سے ہٹتے ہی آپ کا کچا چٹھا بھی سامنے آجائے گا ۔ سامنا کا اداریہ

ممبئی 13 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی پر ‘ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کی حلیف شیوسینا نے آج مودی سے کہا کہ وہ دوسروں کے باتھ روم میں جھانکنا بند کریں ‘ اپنے عہدہ کا وقار برقرار رکھیں اور اپوزیشن کو ان کے ماضی پر دھمکانے کی بجائے حکمرانی پر توجہ دیں۔ پارٹی نے اپنے ترجمان اخبار ’ سامنا ‘ کے ایک اداریہ میں تحریر کیا ہے کہ مودی اترپردیش میں مہم چلا رہے ہیں جہاں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو دھمکایا ہے کہ ان کے پاس اپوزیشن کا مکمل کچا چٹھا موجود ہے ۔ چیف منسٹر اکھیلیش یادو نے بھی جواب میں کہا تھا کہ سبھی کا کچا چٹھا انٹرنیٹ پر پہلے سے موجود ہے ۔ شیوسینا نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کس حد تک نچلی سطح پر آگئی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ کم از کم وزیر اعظم اور چیف منسٹر کو تو اس طرح کے ریمارکس سے باز رہنا چاہئے ۔ جس کرسی پر وہ فائز ہیں اس کی بہت اہمیت ہے اور جو شخص اس پر فائز ہوتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اس عہدہ کا وقار برقرار رکھے ۔ پارٹی نے کہا کہ اترپردیش انتخابات میں جو کچھ ہونا ہے وہ ہوگا لیکن وزیر اعظم کو دہلی پر توجہ دینا چاہئے اور چیف منسٹروں کو اپنی ریاستوں پر توجہ دینا چاہئے ۔ کسی کو بھی دوسروں کے باتھ روم میں جھانکنے سے گریز کرنا چاہئے اور اس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ شیوسینا نے کہا کہ جو لوگ دستوری عہدے رکھتے ہیں اگر وہ اپوزیشن کو دھمکانے کیلئے سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہیں تو یہ سب سیاسی کرپشن ہے ۔ تاہم آج کے دور میں یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے وزیر اعظم اور چیف منسٹر انتخابی مہم کے دوران دوسروں کو دھمکا رہے ہیں ‘ چیلنجس کر رہے ہیں ‘ اعلانات اور وعدے کر رہے ہیں ۔ کس قانون کے تحت ایسا سب کچھ کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ شیوسینا نے کہا کہ اپوزیشن کا کچا چٹھا اگر کسی کے پاس ہے تو وہ اقتدار کی وجہ سے ہے ۔ آپ کسی کی کنڈلی نکالتے ہوئے اقتدار کا بیجا استعمال کر رہے ہیں۔ آپ ایسا کرنے کیلئے اقتدار پر منتخب نہیں ہوئے ہیں۔ جیسے ہی آپ اپنے عہدہ سے ہٹ جائیں گے آپ کا کچا چٹھا بھی سب کے سامنے آجائیگا ۔ اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی خرابی کے تعلق سے مودی کے ریمارکس پر سینا نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر ریاست سے بی جے پی کے منتخب ارکان پارلیمنٹ کیا کر رہے ہیں ؟ ۔ وہ کچھ کیوں نہیں کرتے ۔
مہاراشٹرا کے عوام وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار
اس دوران شیوسینا نے ادعا کیا ہے کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا کے وزرا پارٹی صدر ادھو ٹھاکرے کی ہدایت کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ریاستی حکومت سے اپنے استعفے پیش کردیں۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ بی جے پی اقتدار سے لو گ خوش نہیں ہیں اور وہ وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار ہیں۔ پارٹی ترجمان منیشا کائندے نے کہا کہ ان کی پارٹی چیف منسٹر کے طرز کارکردگی سے خوش نہیں ہے ۔ بی جے پی کے پاس اب کوئی ہتھیار نہیں رہ گیا ہے اور وہ صرف ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کام کاج پر سوال کر رہے ہیں۔ اگر یہاں صورتحال اتنی ابتر ہے تو پھر بی جے پی ہمارے ساتھ اقتدار میں شریک کیوں رہی ؟ ۔ واضح رہے کہ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے چند دن قبل ہی کہا تھا کہ ریاست میں دیویندر فرنویس کی حکومت نوٹس کا وقت گذار رر ہی ہے اور اس کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT