Monday , September 25 2017
Home / Editorial News / مودی : سیکولر اتحاد کیلئے چیلنج

مودی : سیکولر اتحاد کیلئے چیلنج

بہار کے عوام آئندہ چند ماہ میں ایک نئی حکومت منتخب کرنے والے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی منشور کو تیار کرنے میں عوام کے مسائل اور ان کی بہبود کا خاص خیال رکھیں گی۔ سیکولر اتحاد کے نام پر جنتادل (یو)، آر جے ڈی اور کانگریس نے ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔ موجودہ حکمراں نتیش کمار کے لئے یہ انتخابات سخت آزمائش والے ہوں گے ان کے کٹر حریف وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ ریاست بہار کا 3 مرتبہ دورہ کیا ہے۔ اپنے دو روزہ دورہ متحدہ عرب امارات سے واپسی کے فوری بعد بہار کا دورہ کرتے ہوئے 1.65 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کا وعدہ کیا ہے۔ یہ پیاکیج پسماندہ ریاست بہار کی ترقی کے لئے ہوگا۔ بہار کی قسمت مکمل طور پر بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے بہار کے عوام سے بشکل ووٹ آشیرواد دینے کی اپیل کی ہے۔ بی جے پی اور مودی کیلئے بہات انتخابات غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت کی دیڑھ سالہ کارکردگی پر بہار کے عوام کا ووٹ ریفرنڈم بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے نریندر مودی اور ان کی ٹیم بہار انتخابات میں کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ بہار کے وام کے لئے فی الحال 1.65 لاکھ کروڑ کے ترقیاتی فنڈس کا استعمال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے متقاضی ہوگا۔ اگر بہار میں جنتادل (یو) آر جے ڈی اتحاد کو کامیابی ملتی ہے تو مرکز کی جانب سے مذکورہ فنڈ 1.65 لاکھ روپئے جاری کئے جائیں گے یا نہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔ جب انتخابات اور سیاستدانوں کے وعدے عوام کے ووٹ دینے کے فیصلہ پر مرکوز ہوں گے تو پھر بہار میں اس وقت بڑا گیم پلان چل رہا ہے

 

جس سے عوام الناس کو چوکس رہنا ہوگا۔ نریندر مودی اور نتیش کمار کے درمیان سیاسی دشمنی آگے چل کر بہار کی رہ سہی صورت ہی بگاڑ دے گی تو یہ افسوسناک صورتحال ہوگی۔ بہار کی نتیش کمار حکومت کی بقاء کانگریس اور آر جے ڈی کی حمایت پر ہے جبکہ مرکز میں جنتادل (یو) پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے بشمول راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے ہر قدم کی بھی وہ حمایت کرتے آرہی ہے۔ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے سیکولر اتحاد کو وقت کا تقاضہ سمجھا جارہا تھا لیکن نریندر مودی کی انتخابی حکمت عملی کے سامنے اس کو سیکولر اتحاد کو پہلے سے زیادہ مؤثر رول ادا کرنے اور سیکولر رائے دہندوں کو متحد رکھنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی۔ وزیراعظم اگر بہار کے عوام کے ووٹوں کا سودا لاکھوں کروڑ کے پیاکیج کے اعلان سے کررہے ہیں تو یہ اعلان سراسر ووٹوں کے لئے بولی لگانے کے مترادف متصور کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نتیش کمار نے ہی سوال اٹھایا ہے کہ آخر وزیراعظم مودی کو آج ہی یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ بی جے پی اور جنتادل (یو) میں دو سال قبل تک مضبوط اتحاد تھا مگر اقتدار کی رسہ کشی اور اپنی بالادستی کے لئے لیڈروں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ناپسندیدہ دوڑ کے باعث بی جے پی ۔ جنتادل (یو) میں علیحدگی ہوئی۔ بی جے پی کے ساتھ 17 سالہ اتحاد کو توڑنے والے نتیش کمار نے بہار کے عوام کے لئے بہت کچھ کیا ہے تو آنے والے انتخابات میں عوام ہر حال ان کے نئے سیکولر اتحاد کو ووٹ دینے میں پس و پیش نہیں کریں گے۔ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے سیکولر اتحاد کو اپنے مشترکہ جدوجہد میں جارحانہ تیور دکھانے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی نے نتیش کمار حکومت کو جنگل راج سے تعبیر کیا ہے اور بہار میں جنگل راج کی دوبارہ واپسی کو روکنے کے لئے اپنی انتخابی مہم کا مضبوط نعرہ اسی کو بنایا ہے تو نتیش کمار اور ان کے اتحادی جماعتوں کو اس کا موثر جواب تیار کرنا ہوگا۔ نتیش کمار کو عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال کی بھی اخلاقی و سیاسی تائید حاصل ہوگئی ہے تو انتخابی میدان کا منظر بدلنے کی اُمید پیدا ہوگی۔ گزشتہ دو ماہ سے کئی مسائل پر نتیش کمار اور کجریوال کے درمیان چار مرتبہ ملاقات ہوئی ہے تو بہار میں عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کو مخالف بی جے پی مہم میں سرگرم کرتے ہوئے سیکولر اتحاد کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ نتیش کمار کو مسلسل 3 مرتبہ بہار کے چیف منسٹر منتخب ہونے کا اعزاز ملنا اور عوام کے فیصلہ پر منحصر ہے۔ دہلی میں مقیم بہاریوں کی وجہ سے بھی نتیش کمار کو ووٹ ملنے کی اُمید ہے کیوں کہ کجریوال کے کلین امیج کا فائدہ نتیش کمار کو بھی ہوسکتا ہے۔ دہلی میں مقیم بہاریوں کی بڑی تعداد جب ووٹ ڈالنے اپنے وطن واپس ہوگی تو اروند کجریوال ۔ نتیش کمار دوستی کا مثبت اثر رائے دہی پر پڑے گا۔ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے اور وزیراعظم مودی کی حکومت کی کارکردگی کے خلاف بہار کے انتخابات ایک نیا موڑ پیدا کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT