Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / مودی سے محمود مدنی گروپ کی ملاقات

مودی سے محمود مدنی گروپ کی ملاقات

ظفر آغا
پہلے پہلو خان اور پھر اس کے بعد سیاسی گفتگو۔ دو ہفتے قبل راقم الحروف نے اسی کالم کے ذریعہ قارئین سے پہلو خان کے اہل خانہ کی مدد کیلئے ایک اپیل کی تھی، مجھے یہ لکھتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ حیدرآباد اور لکھنؤ دونوں شہروں ( جہاں یہ کالم چھپا ) سے لوگوں نے پہلو خان کی امداد کے سلسلہ میں چیک کے ذریعہ رقم بھیجی، وہ رقم لاکھوں میں تو نہیں بلکہ تقریباً ساٹھ ستر ہزار یا اس سے کچھ کم ہے۔ یقینا اس سے مرحوم کے اہلِ خانہ کے آنسو تو پونچھے جاسکیں گے خواہ ان کی مصیبتیں حل ہوں یا نہ ہوں۔ افسوس کہ 20 کروڑ سے زیادہ آبادی والی ہندوستانی مسلم قوم پہلو خان جیسے دردناک واقعہ کے بعد بھی اس کے اہل خانہ کی چند لاکھ روپیوں سے مدد نہیں کرسکی۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے دس ، دس ہزار کے چیک بھیجے۔ایک ایسا چیک احمد آباد اور ایک ایسی ہی رقم یعنی 10,000 کا چیک لکھنؤ سے موصول ہوا۔ میں اپنی جانب اور صہبا خان ( جو پہلو خان کے اہل خانہ کی مدد کے سلسلہ میں پیش پیش ہیں ) کی جانب سے ہر اس شخص کا شکرگذار ہوں جنہوں نے اس سلسلہ میں مدد فرمائی، اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کوجزائے خیر دے اور دوسروں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں کچھ امداد کریں۔

خیر یہ تو رہا پہلو خان کا معاملہ، اب ذرا مسلم قائدین ملت پر ایک نظر، ان دنوں مشرقی ہندوستان کے محض اردو میڈیا ہی نہیں بلکہ ہر زبان کے میڈیا میں جمعیت العلماء ہند کے روح رواں حضرت مولانا محمود مدنی کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے چرچے ہیں۔ اس سے قبل کہ اس خبر کا تبصرہ ہو، یہاں اس بات کا ذکر لازمی ہے کہ قاری کو یہ احساس دلادیا جائے کہ مولانا محمود مدنی کس جلیل القدر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، اور اس خاندان کی دینی اور سماجی و سیاسی معاملات میں کس قدر قربانی اور خدمات رہی ہیں۔ مولانا محمود مدنی کسی معمولی شخصیت کا نام نہیں ہے، حضرت مولانامحمود مدنی جید عالم دین اور مشہور و معروف جنگ آزادی کے مجاہد حضرت حسین احمد مدنی کے پوتے ہیں۔ یہ وہ جلیل القدر ہستی ہیں جنہیں انگریزوں نے بغاوت کے الزام میں مالٹا کی جیل میں مدتوں قید رکھا اور یہ کوشش بھی کی گئی تھی کہ مولانا حسین احمد مدنی کسی طرح انگریزوں کے آگے سر جھکادیں۔ لیکن مولانا حسین مدنی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے انعام و اکرام جیسے ہر لالچ کو ٹھکرادیا۔ حضرت حسین احمد مدنی کی دینی خدمات کا یہ حال تھا کہ آج بھی عالم اسلام بالخصوص مکہ میں ان کے علم کے چرچے ہیں۔ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ حضرت حسین احمد مدنی گاندھی جی اور مولانا آزاد کے شانہ بہ شانہ جنگ آزادی میں برابر کے شریک رہے اور انگریزوں کے خلاف اسوقت انہوں نے علمائے دین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مولانا کفایت اللہ کے ساتھ جمعیت علماء ہند جیسی تنظیم قائم کی۔  مولانا کفایت اللہ کی وفات کے بعد حضرت حسین احمد مدنی جمعیت کے دوسرے صدر منتخب ہوئے۔ جمعیت علماء نے مذہبی بنیاد پر قیام پاکستان کی مخالفت کی جس کے سبب آج بھی ہندوستانی سماجی حلقوں میں جمعیت کی قدر و احترام باقی ہے۔ حضرت مولانا محمود مدنی ایسی جلیل القدر شخصیت اور ایسے عظیم الشان خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور پھر وہ جمعیت علماء ہند کے ایک گروہ کے جنرل سکریٹری بھی ہیں، ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے فراق میں کونسا سیاستداں ایسا ہوگا جو محمود مدنی کی صحبت کا خواہشمند نہ ہوگا۔یہ تو مولانا محمود مدنی صاحب کا اپنا ذاتی اور ان کی جماعت کا اپنا فیصلہ ہی ہوسکتا ہے کہ وہ یہ طئے کریں کہ موجودہ سیاسی حالات میں کس سیاسی شخصیت سے ملاقات کریں اور کس سے نہ کریں۔ مولانا کو اپنے طور پر آزادی ہے کہ وہ جس سے چاہیں ملیں اور جس سے چاہیں نہ ملیں۔ بھلا کون وزیر اعظم سے ان کی ملاقات پر انگلی اٹھا سکتا ہے؟ لیکن مولانا محمود مدنی صاحب کی پچھلے ہفتہ جمعیت کے اپنے گروہ کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کے وقت ملک کے سیاسی پس منظر پر غور کرنا ہر شخص کا فریضہ ہے، ظاہر ہے کہ مولانا صاحب نے نریندر مودی سے مسلم معاملات میں گفتگو کی ہوگی۔ میڈیا خبروں کے مطابق اور خود جمعیت کے پریس ریلیز کے مطابق ان کی وزیر اعظم کی گفتگو کے دو اہم پہلو تھے۔ اولاً انہوںنے پہلو خان جیسے واقعات کی طرف وزیر اعظم کا دھیان دلایا اور دوسرے مسلم پرسنل لا کے بارے میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ یہ مسلمانوں کا آپسی معاملہ ہے جو انہیں خود حل کرنا چاہیئے۔ ساتھ ہی انہوں نے مودی جی کو ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ نعرہ کی یاددہانی بھی کروائی۔مودی کا جواب جو میڈیا میں آیا وہ یہ تھا کہ ’ ’ حکومت کو مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز برتنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ مسلم پرسنل لا کے معاملہ میں مودی نے مولانا کو آگاہ کیا کہ اس معاملہ میں کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیئے ، یعنی سپریم کورٹ جو کرے گا اس کو مسلم علماء خاموشی سے تسلیم کریں۔’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کے بارے میں مودی جی کا یہ اعلان ہے کہ اگر مسلمانوں کو قبرستان کیلئے زمین ملے تو ہندوؤں کو شمشان گھاٹ کیلئے بھی زمین ملے۔عید میں اگر مسلم محلوں میں بجلی کا انتظام ہو تو دیوالی میں ہندو محلوں میں بھی بجلی کا انتظام ہو۔ یعنی ہندوستانی مسلمانوں کو اگر کوئی سرکاری مراعات مل رہی تھیں وہ ان کے دور حکومت میں نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے کہ محمود مدنی کو پہلو خان واقعہ یعنی گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی اور اس سلسلہ میں حکومت ہند اور مختلف بی جے پی برسراقتدار ریاستوں میں وہاں کی حکومتوں کی جو پالیسی ہے وہ معلوم نہیں تھی۔ مولانا اس بات سے بھی بخوبی واقف ہوں گے کہ مودی جی آر ایس ایس کے پرچارک تھے۔ ان کے گجرات کے دور حکومت میں جیسے مسلم مخالف فسادات ہوئے اس کی مثال آزاد ہندوستان میں آج تک نہیں ملتی۔ مودی جی جب سے ہندوستان کے وزیر اعظم بنے تب سے آج تک ہندوستانی مسلمان جس خوف و دہشت میں جی رہے ہیں اس طرح خوف و دہشت کا احساس انہیں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان دنوں ملک کو بغیر اعلان کے ایک ہندو راشٹر بناکر مسلمانوں کو باقاعدہ دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا احساس دلایا جارہا ہے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔

ان سیاسی حالات میں مولانا محمود مدنی کی وزیر اعظم سے ملاقات نہ صرف حیرت ناک ہے بلکہ چونکا دینے والی بھی ہے۔ محمود صاحب اور ان کی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس  سے چاہیں ملاقات کریں ۔ مجھے اس بات کا اندازہ نہیں کہ محمود مدنی کی مودی سے ملاقات کا فائدہ بھلا مسلمانوں کو ہوا یا خود مولانا کو ہوا،لیکن ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کے جد امجد حضرت مولانا حسین احمد مدنی اگر بقید حیات ہوتے تو موجودہ سیاسی حالات میں نریندر مودی جیسے وزیر اعظم کے دربار میں ہرگز حاضر نہیں دیتے۔

TOPPOPULARRECENT