Wednesday , August 16 2017
Home / اداریہ / مودی لاہور میں

مودی لاہور میں

کیا عجب دوستی ہو ہی جائے
ہاتھ اپنا بڑھا کر تو دیکھو
مودی لاہور میں
وزیراعظم نریندر مودی کا اچانک دورہ پاکستان پڑوسی ملک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں ایک خوشگوار تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے ۔ نریندر مودی ماسکو سے افغانستان  پہنچے اور وہاں سے ان کی لاہور میں آمد ہوئی ۔ لارہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی و چیف منسٹر پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے معزز مہمان کا والہانہ خیرمقدم کیا ۔ ویسے بھی نریندر مودی نے اپنے دورہ کابل کے موقع پر ہی ٹوئیٹر پر ایک پیام ٹوئیٹ کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ وہ کابل سے دہلی واپسی کے دوران کابل میں توقف کے خواہاں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ ہندوستانی وزیراعظم نے بڑے غور وفکر کے بعد لاہور میں چند گھنٹوں کیلئے توقف کا فیصلہ کیا یا پھر صرف میاں محمد نواز شریف کو ان کی سالگرہ کی مبارکباد دینے کیلئے اپنے طیارہ کا جس میں ان کے ہمراہ 150سے زائد عہدیدار ہیں رُخ لاہور کی طرف موڑ دیا ۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ آج سابق وزیراعظم اور بی جے پی کے بزرگ رہنما اٹل بہاری واجپائی کی بھی سالگرہ ہے جنہوں نے بحیثیت وزیراعظم 2004ء میں پاکستان کا تاریخی دورہ کرتے ہوئے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات میں بہتری لانے کی اچھی کوشش کی تھی ‘ اس وقت بھی حسن اتفاق سے پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت تھی اور میاں محمد نواز شریف عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز تھے ۔ اُس دورہ میں ہند ۔ پاک تعلقات بہتر بنانے کی خاطر لاہور اعلامیہ جاری کیا تھا لیکن کچھ ناذیدہ طاقتوں نے جنہیں ہم ہند۔ پاک دوستی اور ان کے خوشگوار تعلقات کی دشمن کہہ سکتے ہیں ان پڑوسی ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکنے کیلئے نہ صرف لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا بلکہ ہندوستان کے مختلف مقامات پر دہشت گرد  حملے کروائے ۔ نتیجہ میں امن دشمن طاقتوں کے عزائم کی تکمیل ہوئی ۔ تاہم پاکستان کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی کامیابی اور  2014 کے دوران ہندوستان میں  ہوئے عام انتخابات میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی کامیابی کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی راہیں ہموار ہوئیں ۔ اس سلسلہ میں میں مودی نے پہل کرتے ہوئے اپنی تقریب حلف برداری میں سارک ممالک کے قائدین کو مدعو کرنے کے بہانے میاں محمد نواز شریف کو بطور خاص مدعو کیا ۔ میاں صاحب کے اُس دورہ نے دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی تلخیوں کو کسی حد تک دور کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ حالیہ عرصہ کے دوران روس کے اوفا میں مودی ۔ نواز ملاقات نے ایشیاء کی ان جوہری طاقتوں کو ایک دوسرے کے قریب  لانے میں کارکر ثابت ہوئی پھر فرانس کے دارالحکومت میں ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر بھی دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات نے باہمی تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کئے اور وہاں جس طرح نریندر مودی اور نواز شریف میں راز و نیاز کی باتیں ہوئیں اس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ آنے والے دنوں میںہند ۔ پاک تعلقات میں خوشگوار تبدیلی واقع ہونے والی ہے ۔ چنانچہ جاریہ ماہ 10ڈسمبر کو منعقدہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کیلئے ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں ہندوستان ۔ پاکستان نے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی خوشخبری دنیا کو سنائی ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک لاہور پہنچنے پر ملک میں اپوزیشن نے شدید تنقیدوں کا سلسلہ شرع کردیا ہے ۔ نریندر مودی نے روس کے دورہ کے موقع پر ہی اٹل بہاری واجپائی اور میاں محمد نواز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد دی تھی جبکہ آج کا دن پاکستانیوں کیلئے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی یوم پیدائش بھی آج ہی منائی جارہی ہے ۔ دوسری جانب میڈیا میں اس بات کے بھی چرچے ہیں کہ نریندر مودی کو دراصل محمد نواز شریف نے اپنی پوتی کی شادی میں مدعو کیا ہے اور وہ شادی کیلئے ہی لاہور پہنچے ہیں ۔ بہرحال مودی کے دورہ کی جو بھی وجہ ہو ایک بات تو یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اُس’’ خوشگوار حیرت ‘‘ سے ان دو پڑوسیوں  کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی جنہوں نے 1947ء میں ملک کی تقسیم کے بعد سے تین جنگیں لڑی ہیں جن میں سے دو جنگیں مسئلہ کشمیر پر ہوئی ہیں ۔ موجودہ حالات میں ہندوستان اور پاکستان اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دوستی اور باہمی تجارت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ملکوں کے اہم مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بیروزگاری ‘ غربت اور بیماریوں کا بھی خاتمہ ہوگا ۔ انڈین ڈپارٹمنٹ آف کامرس کے مطابق 2013-14ء میں ہندوستان سے پاکستان کیلئے برآمدات 2.3ارب ڈالرس کی راہیں  جبکہ پاکستان سے ہندوستان کیلئے برآمدات 430 ملین ڈالرس ریکارڈ کی گئی ۔اس کے برعکس چین جیسے کٹر حریف کے ساتھ ہندوستان کی باہمی تجارت 70ارب ڈالرس اور پاکستان اور چین کی باہمی تجارت 16ارب ڈالرس مالیتی ہے ۔ ایسے میں ہندوستان اور پاکستان بھی دوستی اور باہمی تجارت کو بڑھانے کے مواقعوں سے استفادہ کیوں نہیں کرتے ۔

TOPPOPULARRECENT