Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / مودی مسلمانوں کے مخصوص فرقہ کی حمایت نہیں کرتے

مودی مسلمانوں کے مخصوص فرقہ کی حمایت نہیں کرتے

وہ سب کے وزیراعظم ہیں ، مرکزی وزیر نجمہ ہبت اللہ کی وضاحت
نئی دہلی ۔ /12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر نجمہ ہبت اللہ نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ وزیراعظم نریندر مودی مسلمانوں کے صرف ایک مخصوص طبقہ کی ہی حمایت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر شخص کو مساوی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ سارے ملک کے وزیراعظم ہیںکسی طبقہ کے مخصوص فرقہ تک محدود نہیں ہے ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کیلئے سب مساوی ہیں ۔ اسی لئے انہیں کسی مخصوص طبقہ تک محدود کرنے کی کوشش مناسب نہیں ہے ۔ آج پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوال پر انہوں نے یہ بات کہی ۔ نجمہ ہبت اللہ نے وزیراعظم نریندر مودی کی عالمی صوفی فورم میں شرکت اور پھر سعودی عرب دورہ کے بارے میں سوالات پوچھے جانے پر کہا کہ وزیراعظم جب بیرونی دورہ پر ہوتے ہیں تو وہ سارے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ کسی مخصوص فرقہ کی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کسی ایک طبقہ ، فرقہ یا سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ سارے ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ سعودی عرب کا دورہ کریں یا امریکہ یا کہیں اور کا دورہ کریں جب وہ بیرونی دورہ پر ہوتے ہیں تو وہ سارے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی صوفی کانفرنس میں شرکت اور سعودی عرب دورہ سے مسلمانوں میں تفرقہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ختم ہوگا ۔ انہوں نے سعودی عرب کے باوقار شہری اعزاز کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ آپسی تقسیم کو ختم کرنے کا اشارہ ہے ۔ انہوں نے نریندر مودی کے اس دورہ کو دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میںاہمیت کا حامل قرار دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورہ کے موقع پر ہندوستان کے حج کوٹہ میں 20 فیصد کٹوتی کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس دورہ میں وہ شامل رہتی تو زیادہ بہتر ہوتا ۔ نجمہ ہبت اللہ نے جواب دیا وزیراعظم جب کبھی بیرونی دورہ پر جاتے ہیں تو کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے جاتے اور ان کا اس دورہ میں موجود رہنا ضروری نہیں کیونکہ مودی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان (نجمہ ہبت اللہ ) کی ہی آواز ہے ۔ایسے میں مجھے جانے کی کیا ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT