Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / مودی میرا مذاق اڑائیں لیکن میرے الزامات کا جواب دیں ‘ راہول

مودی میرا مذاق اڑائیں لیکن میرے الزامات کا جواب دیں ‘ راہول

New Delhi: Congress Vice President Rahul Gandhi during a press conference at Parliament in New Delhi on Wednesday. PTI Photo by Subhav Shukla (PTI12_14_2016_000052B)

وزیر اعظم کا کوئی سوٹ بوٹ والا ساتھی بینک کی قطار میں نہیں کھڑا ہے ۔ کانگریس نائب صدر کا عوامی برہمی ریلی سے خطاب
بہرائچ 22 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت کے خلاف پرعزم راہول گاندھی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کا مضحکہ اڑانے پر جوابی وار کیا ۔ راہول نے کہا کہ ومیر اعظم ان کا مذاق اڑا سکتے ہیں لیکن انہیں ان کے خلاف عائد کئے گئے شخصی کرپشن کے الزامات کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ اترپردیش میں جن آکروش ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ ان ( راہول ) کا جتنا چاہے مذاق اڑاسکتے ہیں لیکن انہیں ان سوالات کے جواب دینے کی ضرورت ہے جو انہوں نے اٹھائے ہیں۔ راہول نے جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے کاہ کہ یہ سوالات تنہا انہوں نے نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں نے اٹھائے ہیں ۔ نوجوانوں کا یہ احساس ہے کہ مودی نے انہیں روزگار کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا ہے ۔ مودی کے خلاف الزامات پر مشتمل کاغذات لہراتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ جواب دیں کہ یہ دستاویزات درست ہیں یا نہیں۔ مبینہ طور پر ان دستاویزات میں تحریر ہے کہ نریندر مودی نے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے برلا اور سہارا گروپس سے رشوتیں حاصل کی تھیں۔ اپنے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے راہول نے کہا کہ مودی نے گجرات کے چیف منسٹر رہتے ہوئے سہارا گروپ سے 9 قسطوں میں  40 کروڑ روپئے وصول کئے تھے ۔

یہ ادائیگیاں 2013 اور 2014 میں کی گئی تھیں۔ نوٹ بندی کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے مودی نے یہ اچانک فیصلہ ملک کے غریبوں کی مدد کرنے کیلئے نہیں بلکہ ہندوستان کے 50 امیر ترین خاندانوں کی مدد کیلئے کیا ہے ۔ مودی پر راست طنزکرتے ہوئے راہول نے کہا کہ مودی ایک بہترین ایونٹ مینیجر ہیں جنہوں نے غریبوں سے پیسہ لے کر ان امیروں کو دینے کی منصوبہ بندی کی ہے جو بینکوں کو 8 لاکھ کروڑ روپئے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی غریبوں سے پیسہ لے کر امیروں کو دے رہے ہیں۔ وہ 99 فیصد لوگوں سے پیسہ چھین کر ایک فیصد افراد کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کا مقصد کالے دھن کا خاتمہ کرنے اور غریبوں کی مدد کرنا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کالا دھن اور کرپشن ختم کرنے کوئی فیصلہ کرتی ہے تو کانگریس اسکی تائید کریگی لیکن نوٹ بند کرنے کا فیصلہ کرپشن اور کالے دھن کے خلاف نہیں ہے ۔ مودی کہتے ہیں کہ جو لوگ بینک کی قطاروں میں ہیں وہ چور ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ بینکوں کی قطاروں میں کھڑے ہیں ۔ یہ چور نہیں بلکہ ملک کے ایماندار غریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کی قطاروں میں سوٹ بوٹ پہنا ایسا کوئی فرد نہیں ہے جو ان کے ساتھ طیارہ میں ہوتا ہے جب وہ بیرونی ممالک کو جاتے ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے ٹوئیٹر پر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا تھا کہ یہ بتایا جائے کہ سہارا گروپ سے آئے 10 پیاکٹس میں کیا تھا ؟ ۔

TOPPOPULARRECENT