Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / مودی نے محبوبہ مفتی سے کوئی وعدہ نہیں کیا: نیشنل کانفرنس

مودی نے محبوبہ مفتی سے کوئی وعدہ نہیں کیا: نیشنل کانفرنس

سرینگر 12اگست (سیاست ڈاٹ کام ) جموں وکشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ریاست کو دفعہ 35A اور دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی موقف کے خاتمے کی سازشوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی ،آر ایس ایس اور دیگر بھگوا جماعتوں کے ساتھ مکمل اشتراک میں ہے ۔پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر کشمیر ناصر اسلم وانی نے یہاں جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے یقین دہانی کا کھوکھلا دعویٰ اُس وقت سفید جھوٹ ثابت ہوا جب بی جے پی کے سینئر قائدین نے باضابطہ اس بات کا برملا اظہار کیا کہ دفعہ35Aاور دفعہ370کا خاتمہ پارٹی کا بنیادی ایجنڈہ ہے اور اس سے متعلق پارٹی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے چند گھنٹوں کے بعد ہی بی جے پی قائدین نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ آرٹیکل370 اور دفعہ35Aکے خاتمے کے لئے سرگرمیاں جاری ہیں اور آگے بھی رہیں گی۔ بی جے پی قائدین کے ان ریمارکس سے نہ صرف وزیرا عظم سے ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی کا دیا ہوا بیان جھوٹا ثابت ہوا ہے بلکہ اُس اقل ترین مشترکہ پروگرام (ایجنڈآف الائنس) کی بھی قلعی کھل کر رہ گئی ہے جس کے مطابق کشمیریوں کو پی ڈی پی نے یہ بھروسہ دلایا تھا کہ بی جے

پی کے ساتھ دفعہ370پر جوں کی توں پوزیشن کا معاہدہ ہوا ہے ۔
این سی قائدین نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کو ریاست کی خصوصی پوزیشن میں آئینی ترمیم کے لئے ایک سیاسی ہتھیار کے بطور استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی ہی ہیں جنہوں نے دفعہ35Aپر حملے کی گنجائش پیدا کی۔ پی ڈی پی کے ایجنڈہ آف الائنس کو بی جے پی نے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے ۔ بی جے پی ہر اُس وعدے سے مکر گئی ہے جو پی ڈی پی والوں نے اُن کے ساتھ اتحاد کرتے وقت کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈہ آف الائنس اب ایک بھونڈا مذاق بن کر رہ گیا ہے اور محبوبہ مفتی کی طرف سے آج بھی اس بے معنی معاہدہ کی باتیں کرنا اُس سے بھی بڑا مذاق ہے ۔نیشنل کانفرنس قائدین نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت اُس وقت تک کیا کررہی تھی جب تک بھارت کے اٹارنی جنرل نے دفعہ35Aکے خلاف دائر عرضی کا تحریری جواب نہیں دیا۔ اگر پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ایجنڈہ آف الائنس کے تحت ریاست کی خصوصی پوزیشن پر جوں کی توں پوزیشن کا معاہدہ ہوا ہے تو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس عرضی کے خلاف تحریری جواب کیوں نہیں دیا۔اس کے برعکس اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں وسیع تر مباحثے کے حق میں تھی جس سے پی ڈی پی کی لیڈر اور اُس پارٹی پول کھل گئی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT