Tuesday , August 22 2017
Home / سیاسیات / مودی نے کشمیر پالیسی پر آج تک لب کشائی نہیں کی

مودی نے کشمیر پالیسی پر آج تک لب کشائی نہیں کی

محبوبہ مفتی کے ریمارک پر کانگریس کا شدید ردعمل ، آزاد رکن اسمبلی کا مارچ ناکام
سرینگر 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں سیول سکریٹریٹ کی دوبارہ کشادگی کے موقع پر آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالراشد اور اُن کے حامیوں نے احتجاج منظم کرنے کی کوشش کی جنھیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ شیخ عبدالراشد اور اُن کی عوامی اتحاد پارٹی کے حامیوں نے مگرمل باغ سے سیول سکریٹریٹ تک احتجاج منظم کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے اگزیبیشن کراسنگ کے قریب اُنھیں روک دیا۔ پولیس کے عہدیدار نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے لیان گیٹ کی نمائندگی کررہے رکن اسمبلی اور اُن کے حامی آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے شیخ عبدالراشد اور اُن کے حامیوں کو تحویل میں لے لیا۔ اس دوران جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے مولانا آزاد روڈ پر پارٹی ہیڈ آفس کے قریب پرامن دھرنا منظم کیا۔ اس احتجاج کی قیادت صدر جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی غلام احمد میر کررہے تھے۔ اُنھوں نے اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ محبوبہ مفتی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے۔ وہ چیف منسٹر سے پوچھنا چاہئیں گے کہ آخر حکومت کیا کام کررہی ہے۔ حریت کانفرنس سے بات چیت نہیں کی جارہی ہے۔ فوج کو خصوصی اختیارات سے متعلق قانون (افسپا) سے دستبرداری کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ برقی پراجکٹس کے بارے میں مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ اسکولس اور کالجس بند ہیں۔ ترقیاتی کام مسدود ہیں اور سیاحت ختم ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آخر حکومت کیا کام کررہی ہے۔ اب یہاں صرف آکسیجن رہ گئی ہے۔ محبوبہ مفتی کے اِس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ صرف وزیراعظم مودی ہی مسئلہ کشمیر کو حل کرسکتے ہیں کیوں کہ اُنھیں بھرپور عوامی تائید حاصل ہے، غلام احمد میر نے کہاکہ وزیراعظم نے تین سال میں مرکز کی کشمیر پالیسی پر ایک لفظ بھی نہیں کیا۔ ہمارا یہ جمہوری حق ہے کہ کس بنیاد پر محبوبہ مفتی اِس طرح کی بات کررہی ہیں، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT