Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی نے کیا اپنے ہمنواؤں سے بھی دشمنی مول لی ہے؟

مودی نے کیا اپنے ہمنواؤں سے بھی دشمنی مول لی ہے؟

نوٹ بندی کے فیصلہ پر ہندو مہا سبھا کی سخت برہمی، وزیر اعظم پر شدید تنقید
حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) نوٹ بندی معاملہ میں ہندوستان کے 125کروڑ عوام کو پریشان کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنے ہمنواؤں سے دشمنی مول لی ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جو ان دنوں زور پکڑتا جارہا ہے۔ چونکہ گذشتہ دنوں ہندو مہا سبھا وزیر اعظم کے فیصلے پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے  اپنے کڑے رخ کو واضح کردیا اور نوٹ بندی کے معاملہ میں مودی کو بھی نہیں بخشا ریاست اتر پردیش کے ترجمان اشوک کمار پانڈے نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ وہ اور بی جے پی کے چند ارکان ملک میں اسلامی بینکنگ کو فروغ دینے کیلئے سازگار ماحول فراہم کررہے ہیں اور اسلامی بینکنگ کے لئے راہ ہموار کررہے ہیں تو دوسری جانب ہندو عوام کو خاص طور پر دیوالی کے بعد ان کی خوشیاں چھین لی۔ تہوار کے بعد شادیوں کے اس موسم میں نوٹ بندی کی اسکیم سے عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہندو مہا سبھا کی قومی جنرل سکریٹری پوجا شکن پانڈے نے نوٹ بندی اسکیم پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اسکیم کس وجہ سے لائی گئی اس کو سمجھنے سے ہم قاصر ہیں۔ غریب عوام جو روزانہ تین سو روپئے کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں یا پھر وظیفہ یاب جو وظیفوں پر زندگی گذارتے ہیں انہیں بڑی شدید تکلیف کا سامنا ہے

 

جبکہ مالدار کو کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ شادی کے موسم میں اس اسکیم کے سبب کئی شادیاں ناکام ہوگئی ہیں اور چھوٹے کاروباری تاجر پیشہ مزدور پیشہ افراد قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی کے نام پر عوام کی خوشیوں کو چھین لیا گیا ہے۔ عوام شادی کے موسم میں شادی تقاریب کو یا تو ملتوی کرنے پر مجبور ہیں یا پھر رشتے ہی منسوخ ہورہے ہیں۔ پوجا شکن پانڈے نے کہا کہ مہاراشٹرا کے وزیر اور بی جے پی ایم ایل اے سبھاش دیشمکھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر شولاپور میں شرعی اصول کے حامی دکھائی دے رہے ہیں۔ ان دنوں انہوں نے شرعی اسلامی بینکنگ سرویس کا افتتاح بھی کردیا۔ جبکہ پورے ملک میں لوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  شولا پور کے لوک منگل کوآپریٹیو بینک جس کا کنٹرول سبھاش دیشمکھ کے ہاتھ میں ہے اس غیر سودی کھاتے کی اسکیم کے تحت نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ ہندوؤں سے بھی ڈپازٹ قبول کئے جارہے ہیں جبکہ اس کا بڑا حصہ بلا سودی نظام کے طور پر اقلیتی برادری کو دیا جاتا ہے۔ پوجا پانڈے نے کہا کہ مودی کا نوٹ بندی کا فیصلہ مودی کے خاتمہ کا فیصلہ ہوگا۔ مودی کے اس فیصلہ کو ملک کی وفاداری کے ساتھ جوڑدیا گیا اس وجہ سے عوام کی اکثریت خاموش ہے اور اس وجہ سے تکالیف کو بھی برداشت کرلیا گیا۔عوام کو بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر قطار میں لگاکر شدید تکالیف دی جارہی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT