Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / مودی کابینہ کے 5 وزراء کا مستقبل غیر یقینی

مودی کابینہ کے 5 وزراء کا مستقبل غیر یقینی

راجیہ سبھا کے لئے دوبارہ انتخاب میں مشکلات حائل
نئی دہلی۔/10مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹیم میں شامل بی جے پی کے 4اور تلگودیشم کے ایک وزیر کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے ،کیونکہ راجیہ سبھا کی میعاد قریب الختم ہے اور یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ کابینہ میں بہت جلد ردوبدل کیا جائیگا۔ وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو اور ان کے مملکتی وزیر مختار عباس نقوی، وزیرتوانائی پیوش گوئل، وزیر کامرس نرملا سیتا رامن ( تمام بی جے پی ) اور مملکتی وزیر سائنس و ٹکنالوجی سوجنا چودھری ( تلگودیشم ) کی راجیہ سبھا کی میعاد ماہ جولائی میں ختم ہوجائیگی اور انہیں کابینہ میں برقراری کیلئے دوبارہ منتخب ہونے کی ضرورت ہے تاہم وینکیا نائیڈو، واحد کابینی وزیر ہوں گے ۔ ماہ جولائی میں سبکدوشی کے فوری بعد کرناٹک سے دوبارہ منتخب ہوجائیں گے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر جی ایس یدی یورپا نے بھی اس خصوص میں وینکیا نائیڈو کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ان کی میعاد 30جون کو ختم ہوجائیگی۔ بی جے پی کے ذرائع نے بتایا کہ 66سالہ نائیڈو نے حال ہی میں نریندر مودی سے کہا ہے کہ خرابی صحت کی بناء وہ سرگرم رول ادا کرنے سے قاصر ہیں لیکن وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ ان کی خدمات کی ضرورت ہے اور اب بھی کابینی وزیر کی حیثیت سے برقرار رہیں گے۔ تاہم پارٹی کے ایک گوشہ میں یہ افواہ بھی ہے کہ وینکیا نائیڈو کو کسی ریاست کا گورنر بنایا جائے گا بشرطیکہ جب بھی یہ دستوری عہدہ خالی ہوجائے۔ مختار عباس نقوی بھی اترپردیش سے دوبارہ انتخاب کے خواہشمند ہیں جہاں سے وہ راجیہ سبھا میں نمائندگی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پیوش گوئل مہاراشٹرا سے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ تاہم نرملا سیتاجی رامن کا دوبارہ انتخاب آندھرا پردیش میں تلگودیشم کی حمایت پر منحصر ہے۔ اگرچیکہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہیں لیکن دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت کے مطابق راجیہ سبھا کی ایک نشست زعفرانی پارٹی کے حق میں آئیگی۔

توقع ہے کہ نرملا سیتا رامن کو دوبارہ انتخاب کے لئے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ ایک اور مرکزی وزیر سوجنا چودھری کا انتخاب بھی بہ آسانی ہوجائیگا بشرطیکہ تلگودیشم سربراہ این چندرا بابو نائیڈو اپنا ذہن تبدیل نہ کرلیں جو کہ فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ دریں اثناء بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس اور 4 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی مصروفیت کی وجہ سے راجیہ سبھا کے امیدواوں کے ناموں پر غور و خوض ہنوز شروع نہیں کیا گیا۔ ممکن ہے کہ میعاد کی تکمیل کے بعد بعض وزراء کو دوسری ریاستوں سے منتخب کروایا جاسکتا ہے۔ بی جے پی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ جو کہ ماہ جولائی میں سبکدوش ہوں گے اے منجوناتھ ( کرناٹک )، وی پی سنگھ بھدورے ( راجستھان) ، ترون وجئے ( اترا کھنڈ )، نند کمار سائی ( چھتیس گڑھ ) ، انیل داوے اور چندن مترا ( مدھیہ پردیش )۔

TOPPOPULARRECENT