Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / مودی کا جادو ختم ، بہار انتخابی نتائج وزیراعظم کیلئے شخصی دھکا

مودی کا جادو ختم ، بہار انتخابی نتائج وزیراعظم کیلئے شخصی دھکا

دادری ، دلت اور دال نے بی جے پی کو زبردست سبق سکھایا ، گائے دودھ دیتی ہے ووٹ نہیں ، سوشیل میڈیا پر طنزیہ ریمارکس

پٹنہ / نئی دہلی ۔ /8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج وزیراعظم نریندر مودی کیلئے شخصی طور پر دھکا تصور کئے جارہے ہیں  کیونکہ مرکز میں بی جے پی اقتدار پر آنے کے فوری بعد دہلی میں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور پھر اب بہار میں بھی پارٹی کا سیکولر اتحاد کے مقابلے عملاً صفایا ہوگیا ہے ۔ دہلی میں 70 اسمبلی نشستوں پر انتخابی مقابلہ ہوا تھا جہاں عام آدمی پارٹی نے 67 پر کامیابی حاصل کی اور بی جے پی کو صرف 3 نشستوں پر کامیابی ملی ۔ لوک سبھا انتخابات منعقدہ مئی 2014 ء میں پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس کے بعد نریندر مودی نے مہاراشٹرا ، ہریانہ اور جھارکھنڈ میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بنایا تھا ۔ جموں و کشمیر میں جہاں مارچ میں انتخابات ہوئے بی جے پی نے اچھا مظاہرہ کیا اور پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت کا حصہ بنی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں ۔ بہار میں نریندر مودی نے جارحانہ انتخابی مہم چلائی لیکن بیف ، دادری اور پاکستان کے علاوہ دلت جیسے موضوعات نے بی جے پی کے کامیابی کے سفر کو روک لگادی ہے ۔ یہ بالخصوص نریندر مودی کیلئے دھکا ہیں کیونکہ انتخابی نتائج کا مرکز اور اس کی پالیسیوں پر بھی یقیناً اثر پڑے گا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی کا جادو اب ختم ہونے لگا ہے ۔ بی جے پی نے ترقی کا نعرہ دے کر مرکز میں اقتدار حاصل کیا

لیکن اس کے فوری بعد وہ اپنے وعدہ سے منحرف ہوگئی اور ملک میں فرقہ وارانہ و عدم رواداری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ بہار انتخابی مہم کے دوران بھی بعض ایسے ریمارکس کئے گئے تھے جن کی بنا عوام نے بی جے پی اور اس کی فرقہ پرستانہ پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے ۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے بھی کئی ریالیوں سے خطاب کیا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا کہ اگر بہار میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو ’’پاکستان میں آتش بازی ہوگی ‘‘ ۔ نریندر مودی نے انتخابات سے قبل بہار کیلئے 1.25 لاکھ کروڑ پیاکیج کا اعلان کیا تھا لیکن عوام ان کے ترقی کے وعدوں پر اب بھروسہ نہیں کررہے ہیں ۔ بہار انتخابی نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام کو مودی کے وعدوں پر اب بھروسہ نہیں رہا اور وہ ملک میں عدم رواداری کے ماحول سے اکتا گئے ہیں ۔ انتخابی نتائج پر سوشیل میڈیا میں بھی کافی چرچے رہے اور مختلف نوعیت کے ریمارکس کئے گئے ۔ بعض نے بیف تنازعہ کے پس منظر میں یہ ریمارک کیا کہ ’’گائے دودھ دیتی ہے، ووٹ نہیں ‘‘ ۔ اسی طرح ایک اور تبصرہ یہ کیا گیا کہ ’’دادری ، دلت ، دال نے بہار میں بی جے پی کا صفایا کردیا ‘‘ امیت شاہ کے پاکستان میں آتش بازی ریمارکس پر بھی کافی تبصرے ہوئے اور بالخصوص بیف کی سیاست پر شدید تنقیدیں کی گیئں ۔ فلم اداکار شاہ رخ خاں کو ’’ پاکستان جاؤ‘‘ مشورہ اور اس کے علاوہ عدم رواداری و فرقہ پرستی کے ماحول پر آج سوشیل میڈیا میں کافی تبصرے کئے جارہے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی بہار انتخابی نتائج کے اثرات واضح طور پر نظر آئے ۔نریندر مودی آئندہ ہفتہ برطانیہ کا دورہ کرنے والے ہیں اور یہاں کے اخبار گارجین نے لکھا ہے کہ بہار میں بی جے پی کی ناکامی کو یہ اشارہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ووٹرس سے مودی کی اپیل اب بے اثر ہوتی جارہی ہے ۔

بہار میں بی جے پی کی شکست مودی کیلئے بہت بڑا دھکا ہے ۔ اخبار میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ گزشتہ سال انتخابات میں مودی نے جو معاشی ترقی کے وعدے کئے تھے اب تک ان کی شروعات بھی نہیں ہو پائی ۔ پاکستان میں سرکردہ اخبار ڈان نے لکھا کہ مودی کی ’’ہندوستانی رواداری کی روایت اور کھانے کے عادات و اطوار کے خلاف گائے کی سیاست ‘‘ مہنگی ثابت ہوئی ۔ اسی طرح دی نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بی جے پی کی یہ شکست وزیراعظم کیلئے زبردست دھکا ہے ۔ نیویارک ٹائمز نے بھی اس شکست کو مودی کیلئے دھکا قرار دیا ۔ چین سرکاری خبررساں ایجنسی ژنوہا نے بھی بہار انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی کی حکمراں بی جے پی کو مشرقی ریاست میں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے زبردست دھکا پہونچا ۔ ان انتخابات کو مودی کے معاشی پروگرام پر ریفرنڈم تصور کیا جارہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT