Wednesday , August 16 2017
Home / مضامین / مودی کا جانشین یوگی؟

مودی کا جانشین یوگی؟

سشیل ارون
عام انتخابات 2014 ء میں کامیابی اور مرکز میں حصول اقتدار کے بعد بی جے پی نے متعدد ریاستوں کے انتخابات میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کی اور ان کامیابیوں کے لئے بی جے پی نے کیا حکمت عملی اپنائی اس بارے میں سب جانتے ہیں۔ اترپردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو اس کی توقع سے کہیں زیادہ بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ چیف منسٹر اترپردیش کے عہدہ کے لئے جب بی جے پی یوگی آدتیہ ناتھ کے نام پر غور کررہی تھی، تب اس کے ذمہ داروں کے ذہنوں میں صرف ایک ہی بات گردش کررہی ہوگی اور وہ بات یوگی میں پائی جانے والی فرقہ پرستی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کو ہمیشہ سے ہی ڈرانے دھمکانے اور اشتعال انگیز بیان بازی سے فائدہ ہی حاصل ہوا اور جس کسی میں یہ خوبیاں یعنی فرقہ پرستی  اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت پائی گئی، وہ پارٹی میں توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پارٹی نے انھیں انعام سے بھی نوازا اور ایسے قائدین کو انعامات سے نوازا جاتا رہے گا۔ مثال کے طور پر اگر تیجندر پال سنگھ بگا کو جس نے انسانی حقوق کے جہدکار اور قانون داں پرشانت بھوشن پر حملہ کرکے ان کا سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی، دہلی میں پارٹی کا ترجمان بنادیا گیا۔ بگا نے خود کہا تھا کہ اس نے کشمیر سے متعلق نقطہ نظر کے لئے پرشانت بھوشن کا سر توڑنے کی کوشش کی تھی۔ ایسے میں یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کے عہدہ چیف منسٹر پر فائز کیا گیا ہے تو اس میں حیرت کی چنداں ضرورت نہیں اس لئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنے اشتعال انگیز بیانات کے لئے کافی بدنام ہے۔ اس نے ایک مرتبہ ملک کی ہر مسجد میں گنیش کی مورتی نصب کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ ایسے شخص کو یوپی کے عہدہ چیف منسٹری پر فائز کئے جانے سے کوئی بھی یہ فرض کرسکتا ہے کہ اے بی وی پی کے ان کارکنوں کا بھی مستقبل روشن ہوگا  جنھوں نے گزشتہ ماہ رام جاس کالج میں اپنے تشدد کے ذریعہ ایک سمینار میں گڑبڑ کرتے ہوئے خلل پیدا کی تھی۔ بی جے پی کی پالیسی اور حکمت عملی سے تو ایسا لگتا ہے کہ تشدد برپا کرنے والے اے بی وی پی کارکنوں کا ایک روشن مستقبل منتظر ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کا چیف منسٹر بنائے جانے سے بی جے پی کا وہ دعویٰ کھوکھلا دکھائی دیتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ترقی اس کی حکمرانی کی اولین ترجیح ہے۔
پروفیسر اپوروانند کے مطابق یوگی کا کیرئیر مسلم مخالف بنانات سے بھرا پڑا ہے اور 2007 ء کے مسلم کش فسادات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ ایسے واقعات ہیں جس کے ذریعہ یوپی چیف منسٹر کی سیاست کے بارے میں ساری غلط فہمیاں دور ہوجانی چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کہ بحیثیت چیف منسٹر یوپی کی میعاد اترپردیش میں سماجی مساوات اور توازن میں ڈرامائی تبدیلیوں سے پُر ہوگی اور اقتدار تک یوگی کی رسائی سے ایسا لگ رہا ہے کہ مسلمانوں کو مکمل طور پر قابو میں کرنے یا انھیں اپنا تابعدار بنانے کی سمت اقدامات کئے جائیں گے۔ یوپی میں جو ہندوتوا کے کھیل کا ایک میدان بن گیا ہے، پرتاب بابو مہتا ، یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ یوپی میں پہلے ہی سے اقلیتیں سیاسی طور پر حاشیہ پر لائی جاچکی ہیں۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں اس رجحان کو ایک ایسے پروگرام میں تبدیل کیا جائے گا جس کے ذریعہ اقلیتوں کو تہذیبی و سماجی اعتبار سے ماتحتی میں لایا جائے گا۔ یعنی ہندوستان میں اگر مسلمانوں کو رہنا ہے تو سنگھ کے شرائط کے مطابق رہنا ہوگا پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ بی جے پی کا یہی مقصد ہے اور وہ اپنے اس مقصد کی کسی دوسرے چیف منسٹر کے ذریعہ بھی تکمیل کرسکتی ہے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ یہ کام دوسروں کی بہ نسبت بہتر انداز میں کرسکتے ہیں اور وہ ایسی خواہش رکھنے والوں کو مطمئن بھی کرسکتے ہیں۔ ایک بات تو ضرور ہے کہ ماضی کی حکومتوں میں مسلمانوں کو سیاستدانوں، سرکاری عہدیداروں اور پولیس عہدیداروں سے جو کچھ مدد ملی ہے اب اسے خطرہ پیدا ہوگیا ہے یا مدد کا وہ جذبہ ختم ہوگیا۔ اگر وزیراعظم نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی شخصیتوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں کئی باتیں مشترک ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعلق سے بڑے دلچسپ حالات دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ یوپی کے عہدہ چیف منسٹری پر یوگی کے تقرر سے ان متوسط طبقات میں مودی کی شبیہہ کس قدر متاثر ہوچکی ہے جس نے ان کی تائید کی ہے۔ یہ طبقہ پورے جوش و ولولہ کے ساتھ اس بات میں ایقان رکھتا ہے کہ مودی یہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ ہندوستان کے لئے کیا اچھا اور کیا بُرا ہے۔ اب اس طبقہ کو اس بات پر حیرت ہوگی کہ ملک کو ترقی کی جس وہیکل کی ضرورت ہے یقینا وہ آدتیہ ناتھ ہی ہیں۔ سنگھ پریوار شائد اس بات سے بھی باخبر ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ملک کے نظریاتی ماحول میں تبدیلی اور شہریوں کو اپنے ہندوتوا حکمرانی سے متعلق طریقہ کار کا مودی سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں عادی بناسکتے ہیں اور آر ایس ایس کا ایسا سوچنا ہی وزیراعظم مودی کے لئے پشیمانی کا باعث ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ریاست یوپی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کریں گے اور اگر انھیں آر ایس ایس قیادت کی حوصلہ افزائی حاصل رہی تو پھر وہ زیادہ عرصہ تک مودی یا کسی اور کے ماتحت بنے رہنا پسند نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ آخر یوگی آدتیہ ناتھ کو کیسے عہدہ چیف منسٹر پر فائز کردیا گیا حالانکہ 11 مارچ کو نتائج کے اعلان کے بعد بی جے پی قائدین کی بات چیت اور اس میں جن ناموں کو اس عہدہ کے لئے قطعیت دی گئی تھی ان میں دور دور تک یوگی کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مودی ،امیت شاہ اور ان کا گروپ جو بی جے پی پر کنٹرول رکھتا ہے کسی اور خاص طور پر مرکزی وزیر مواصلات منوج سنہا کو چیف منسٹر بنانے کا خواہاں تھا لیکن آر ایس ایس کی مداخلت پر قرعہ فال یوگی آدتیہ کے نام نکلا نہیں بلکہ جان بوجھ کر نکالا گیا۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ یوپی میں ہندوتوا ایجنڈہ کی تکمیل کے لئے آر ایس ایس نے یوگی آدتیہ ناتھ کو سب سے زیادہ موزوں پایا۔ یوگی آدتیہ کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اُن چیف منسٹروں میں سے نہیں جن کا انتخاب مودی نے کیا۔ مثال کے طور پر چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھٹار اور چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس، یہ دونوں ایسے قائدین ہیں جو اپنی اپنی ریاست میں قابل لحاظ تائید و حمایت نہیں رکھتے بلکہ وہ آر ایس ایس کے حکم پر اقدامات کرتے ہیں۔ دہلی میں ہرش وردھن جیسے بااثر عوامی لیڈر کو نظرانداز کرتے ہوئے سابق آئی پی ایس آفیسر کرن بیدی کو دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران عہدہ چیف منسٹری کا امیدوار بنایا گیا تھا۔ اب جبکہ آدتیہ ناتھ کو عہدہ چیف منسٹری پر فائز کیا گیا وہ 2019 ء کے عام انتخابات میں ایسے امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کے خواہاں ہوں گے جو ان کے وفادار ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ رام مندر کی تعمیر میں پیشرفت کریں گے یا ایک اور ایسا علامتی مسئلہ پیدا کردیں گے جس کی تائید و حمایت کرنا سنگھ کے لئے ضروری ہوجائے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو آر ایس ایس اور بی جے پی نے قابو میں رکھنے کی کافی کوشش کی لیکن اُنھوں نے خود کو آزاد رکھتے ہوئے ہندو یوا واہنی قائم کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندو یوا واہنی اپنی تحریکیں دفتر چیف منسٹر سے چلائیں گیا یا نہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مودی کے لئے یہ صورتحال بڑی پریشان کن ہوگی۔ ایک اور بات یہ ہے کہ عہدہ چیف منسٹری پر یوگی کے تقرر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سنگھ کے لئے کوئی بھی فرد کاز سے عظیم تر نہیں ہے اور یہ وقت مستقبل کی تیاریوں کا ہے۔ مودی نے بھی ایسی ہی تیاریاں کی تھیں اور ان تیاریوں کا آغاز سال 2002 ء سے ہوا تھا اور انھیں وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہونے کے لئے 12 سال کا عرصہ لگا۔ ہوسکتا ہے کہ 2029 ء کے عام انتخابات تک بہت کچھ بدل جائے گا۔ اقتدار پر بٹھانے اور اتارنے والے عناصر فی الوقت مودی کا ساتھ ہی دیں گے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب تجارتی گھرانے یوگی کی ستائش کریں گے۔ ان کی اشتعال انگیز تقاریر کو یو ٹیوب سے ہٹادیا جائے گا۔ میڈیا بھی ان کے سیاسی تدبر کی تعریف کرتے ہوئے ان کی شان میں چیخ و پکار شروع کردے گا اور یہ سب کچھ 2029 ء کے لئے ہوگا جب مودی کی عمر 78 اور آدتیہ ناتھ کی عمر صرف 55 سال ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT