Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی کا فیصلہ : ریٹیل کاروبار کو 55 تا 90 فیصد نقصان

مودی کا فیصلہ : ریٹیل کاروبار کو 55 تا 90 فیصد نقصان

حیدرآباد ۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد ریٹیل کاروبار کو 55 تا 90 فیصد نقصان ہوا ہے۔ شادیوں کے سیزن میں اچانک 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کردینے سے ریٹیل کاروبار بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ریٹیل کاروبار کرنے والے افراد بڑے پیمانے پر اپنے دکانات میں اسٹاک کو اکٹھا کرچکے تھے۔ تاہم وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بڑی نوٹوں کو منسوخ کردینے کے بعد عوام نقد رقم سے محروم ہوگئے ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے علاوہ روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل کیلئے اشیائے ضروریہ خریدنے سے قاصر ہیں جس سے تاجرین سخت پریشان ہیں۔ وہ گاہک کا انتظار کررہے ہیں مگر انہیں ہر دن مایوسی سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ صدر تلنگانہ اسٹیٹ فیڈریشن آف چیمبرس اینڈ کامرس اے پرکاش نے بتایاکہ جاریہ سیزن میں ہر سال 40 فیصد کا کاروبار ہوتا ہے۔ 500 اور 1000 کے نوٹ کا چلن بند کردینے سے کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔ عوام اور تاجرین دونوں پریشان ہیں۔ گاہکوں کے طلب کو پورا کرنے کیلئے ریٹیل کاروباری افراد اسٹاک اکٹھا کرچکے ہیں مگر گاہکوں کی قوت خرید گھٹ گئی ہے، جس سے مارکٹ پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے۔ حیدرآباد میں کپڑوں (ملبوسات) کا کاروبار 80 تا 82 فیصد، گاڑیوں کی خرید و فروخت 80 فیصد، فرنیچر صنعت 90 فیصد، ہوٹل انڈسٹری 58 فیصد، کرانہ کا کاروبار 55 فیصد، سینیٹری، الیکٹریکل اور ہارڈویر پر 85 فیصد، الیکٹرانکس شعبہ 90 فیصد نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ نقد رقم کی عدم موجودگی سے لین دین کی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ فٹ پاتھ کا کاروبار بھی گھٹ گیا ہے۔ کالادھن پر کنٹرول کرنے کیلئے کئے گئے فیصلہ سے عام زندگی مفلوج ہوگئی۔ ہر کوئی اپنی جگہ بے بسی محسوس کررہا ہے۔ عوام بینک کھاتوں میں پیسے رکھنے کے باوجود اس کے استعمال سے محروم ہیں۔ کاروباری  اداروں کے پاس اسٹاک فل ہے مگر وہ فروخت نہیں کرپارہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT