Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / مودی کا ’ قبرستان ۔ شمشان ‘ ریمارک ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش

مودی کا ’ قبرستان ۔ شمشان ‘ ریمارک ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش

واجپائی کی بہ نسبت موجودہ وزیر اعظم زیادہ آمرانہ مزاج کے حامل ۔ کشمیر میں اعتماد سازی کے اقدامات کا فقدان ۔ سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری

نئی دہلی 20 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کے قبرستان اور شمشان سے متعلق ریمارکس پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ یہ در اصل اترپردیش میں رائے دہندوں کی فرقہ وارانہ تقسیم کیلئے راست اپیل ہے ۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے پی ٹی آئی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ در اصل راست اپیل ہے ۔ یہ فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کی کوشش ہے ۔ یہ بات چیت قبرستان اور شمشان کی ہے ‘ ہولی اور عید کی ہے ‘ دیپاولی اور رمضان کی ہے ۔ ان الفاظ کو ایک دوسرے کے مد مقابل استعمال کرنا ہی فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی اپیل ہے ۔ کل فتح پور میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ سب کو مشترکہ ترقی دی جائے ۔ کل مودی نے کہا تھا کہ ’’ اگر قبرستان میں بجلی ہے تو شمشان میں بھی ہونی چاہئے ۔ اگر رمضان میں بجلی آتی ہے تو دیوالی میں بھی آنی چاہئے ۔ بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہئے ‘‘ ۔ یچوری نے مودی کا سابق وزیر اعظم و سینئر بی جے پی لیڈر اٹل بہاری واجپائی سے تقابل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی زیادہ جمہوری طرز کے حامل تھے جبکہ مودی آمرانہ طرز کے حامل ہیں۔ یچوری نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اترپردیش میں بی جے پی کی کاٹ پاٹ کی زبان والی انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ مودی جہاں کسانوں کا قرض معاف کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسرے بی جے پی قائدین ساتھ ہی رام مندر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نفرت والی زبان ہے ۔ اس طرح کی تقاریر نہیں ہونی چاہئے ۔ جہاں ایک طرف معیشت اور قرض معافی کی بات کی جاتی ہے تو وہیں دوسری طرف فرقہ وارانہ تقسیم کی راست اپیل کی جاتی ہے ۔ بی جے پی نے اس حکمت عملی کو مخصوص کردیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا اس طرح کی حکمت عملی سے آیا بی جے پی ہی کا نقصان ہوگا یچوری نے کہا کہ انہیں ایسی ہی امید ہے ۔ مودی کو مزید نشانہ بناتے ہوئے یچوری نے واضح کیا کہ 1998 سے 2004 تک پہلی این ڈی اے حکومت کی قیادت کرنے والے واجپائی مختلف سطحوں پر موجودہ نریندر مودی سے بہت مختلف تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی طرح واجپائی نے کبھی بھی پارلیمنٹ میں جوابدہی سے فرار اختیار نہیں کیا تھا اور انہوں نے کٹر ہندوتوا ایجنڈہ کو پس پشت ڈال دیا تھا جو دائیں بازو کی تنظیمیں آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ موجودہ اقتدار میں آر ایس ایس کا ہندوتوا ایجنڈہ مختلف سطحوں پر نظر آتا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تین طلاق ‘ یکساں سیول کوڈ اور دفعہ 370 جیسے مسائل کا حوالہ دیا ۔ یچوری نے مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے انداز پر بھی واجپائی کی ستائش کی جب وہ ملک کے وزیر اعظم تھے ۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی نے انسانیت ‘ کشمیریت اور جمہوریت کا نعرہ دیا تھا اور آج کے کشمیری بھی اس نعرہ کی بات کرتے ہیں۔ مودی حکومت پر کشمیر میں اعلان کے باوجود اعتماد سازی کے اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسطرح کے اقدامات نہ کرنے کے نتیجہ میں کشمیری عوام اپنی بھلائی کے تعلق سے حکومت میں اعتماد سے محروم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کا اگر مودی سے تقابل کیا جائے تو وہ بہت زیادہ جمہوری طرز کے حامل تھے جبکہ مودی اپنے طرز میں آمریت رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT