Sunday , October 22 2017
Home / مضامین / مودی کا ’ نیا ہندوستان ‘ مسلمانوں کیلئے جگہ نہیں ؟؟

مودی کا ’ نیا ہندوستان ‘ مسلمانوں کیلئے جگہ نہیں ؟؟

خلیل قادری
حالیہ عرصہ میں ملک میں جس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں اس سے ہر فکرمند شہری کو تشویش لاحق ہوگئی ہے ۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد سے جس طرح سے پارٹی اور اس کے قائدین نے ’’ کانگریس مکت بھارت ‘‘ کا نعرہ دیا تھا ۔ اس نعرہ کو عملی شکل دینے کیلئے ہر طرح کی کوششیں کی گئی تھیں اور کانگریس کو حاشیہ پر لا کھڑا کردیا گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی حالانکہ وقتی طور پر مسائل کا شکار ہے لیکن گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اس کیلئے نتائج سوائے اترپردیش کے دوسری ریاستوں میں زیادہ مایوس کن نہیں رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت نے اپنے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گوا اور منی پور میں جس طرح سے اقتدار حاصل کیا ہے وہ سبھی کے سامنے ہے ۔ ان ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتوں کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے جس جس نے جو جو رول ادا کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ کانگریس مکت ہندوستان کا نعرہ دینے والی بی جے پی کے کچھ قائدین اور خاص طور پر ایک سادھوی نے بعد میں کہا تھا کہ ہم نے ہندوستان کو کانگریس سے مکت تو کردیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کو مسلمانوں سے مکت کیا جائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پس پردہ کام کرنے والے عناصر اور آر ایس ایس کے پرچارک اب اسی ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور وہ مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتیں بھی ایسا لگتا ہے کہ بالواسطہ طور پر اسی سمت میں پیشرفت کرنا چاہتی ہیں۔ وہ عملی اقدامات کا آغاز کرچکی ہیں۔ مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنا سبھی گوشوں کا مقصد حیات بنتا نظر آر ہا ہے ۔ کوئی شعبہ ایسا نظر نہیں آتا جس میں مسلمانوں کو نشانہ نہ بنایا جا رہا ہو یا انہیں یہ احساس نہیں دلایا جا رہا ہو کہ وہ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور ان کے کوئی حقوق نہیںہوسکتے ۔ انہیں اگر اس ملک میں رہنا ہے تو اکثریت کے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ آر ایس ایس اور دوسرے ہندو فاشسٹ عناصر کے رحم و کرم پر اور ان کی مرضی کے مطابق زندگی گذارنا ہوگا ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ گائے کے تحفظ کے نام پر عملا سارے ملک میں مسلمانوںکو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گوشت کے کاروبار اور اس کو بیرون ملک فروخت کرنے کے کاروبار میں اکثریت ہندووں کی ہے اور ان کے کاروبار کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جب سے نریندر مودی کی حکومت مرکز میں قائم ہوئی ہے اس وقت سے تو ان اکثریتی طبقات کے افراد کے کاروبار میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی جا رہی ہے ۔ ہندوستان گوشت کی برآمدات کرنے والا سب سے بڑا ملک بنتا جا رہا ہے ۔ اس تجارت کو روکنے کی کسی گوشے سے بات نہیں ہوتی ۔ شر انگیزی ہوتی ہے تو صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ۔ یہ حکومت اور بی جے پی کے دوہرے معیارات ہیں۔ حالانکہ گوا اور منی پور میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے لیکن ان ریاستوں میں بیف پر کسی طرح کا امتناع عائد نہیں کیا جاتا بلکہ وہاں یہ کاروبار کافی عروج پر پہونچ رہا ہے ۔
جس طرح گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا اسی طرح اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد خود وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کا نعرہ دیا تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ نعرہ ڈھکے چھپے انداز میں دیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ نئے ہندوستان سے ان کا مطلب اور مقصد کیا ہے ؟ ۔ کیا اس نئے ہندوستان میں جس کا نعرہ مودی نے دیا ہے مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی ؟؟ ۔ یہ سوال اب اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے ۔ یہ بات سمجھنے کیلئے اترپردیش اسمبلی انتخابات کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی ۔ اس ریاست میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا ۔ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے جہاںمسلمانوں کی تعداد 19 فیصد کے آس پاس بتائی جاتی ہے ۔ کسی ایک مسلمان کو بھی پارٹی نے کامیابی حاصل کرنے کا اہل نہیں سمجھا اور اسے ٹکٹ فراہم نہیں کیا ۔ یہ در اصل مسلمانوں کو ملک کی سب سے اہم اور بڑی ریاست میں مسلمانوں کو عملا الگ تھلگ کرنے کی کوشش کا آغاز تھا ۔ حالانکہ دوسری جماعتوں نے قابل لحاظ تعداد میں مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا لیکن چونکہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی نے ہندو ووٹ بینک کو متحد اور مستحکم کیا اور خود کامیابی حاصل کرلی ۔ یہ در اصل ایسی حکمت عملی تھی جس کو اترپردیش کی غیر بی جے پی جماعتیں سمجھ نہیں پائیں اور وہ بی جے پی کے بچھائے گئے جال میں پھنس گئیں۔ جب اتر پردیش میں نئی حکومت قائم ہوئی اور یوگیہ آدتیہ ناتھ کو ریاست کا چیف منسٹر بنادیا گیا تو اس وقت بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ اس ریاست میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کیلئے بی جے پی نے ایک ایسے شخص کو اقتدار سونپ دیا ہے جو مسلم دشمنی میں سب سے آگے رہتا ہے ۔ حالانکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد آدتیہ ناتھ سبھی طبقات سے انصاف کی بات کرنے لگے ہیں لیکن یہ ان کے مزاج کے مغائر ہے ۔ ان کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی ریاست میں کئی گاووں اور دیہاتوں میں مسلمانوں کو چلے جانے کی دھمکیاں دی جانے لگی ہیں۔ وہاں پوسٹرس لگاتے ہوئے نقل مقامی نہ کرنے پر سنگین نتائج کا انتباہ دیا جا رہا ہے ۔ غیر قانونی مسالخ بند کرنے کے نام پر گوشت کے کاروبار کو بند کردیا گیا ہے ۔ اس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔ ان کی گذر بسر کے لالے پڑ گئے ہیں ۔ سینکڑوں دوکانیں بند ہوگئی ہیں۔ عوام کیا کھائیں گے اس کا فیصلہ اب حکومتیں کرنے لگی ہیں جبکہ ملک کے دستور میں غذا کا انتخاب عوام کا زندگی کا حق قرار دیا گیا ہے ۔ لیکن چونکہ بی جے پی اور اس کی حکومتوں کا اصل مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے اس لئے کسی دستوری اور قانونی گنجائش کو خاطر میں لانے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے اور صرف اپنے عزائم اور مقاصد کی تکمیل کی جا رہی ہے ۔ آر ایس ایس کے زعفرانی ایجنڈہ کو لاگو کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو ایسی صورتحال میں لایا جا رہا ہے جہاں ان میں احساس کمتری جو پیدا ہوگیا ہے و ہ مزید شدت اختیار کرتا جائے اور مسلمان اس ملک میں دوسرے در جہ کا شہری بننے کو تیار ہوجائیں۔ اس حقیقت کو خود آر ایس ایس اور بی جے پی کے تمام قائدین بھی مانتے ہیں کہ اس ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ کبھی ان کا یہ منصوبہ پورا ہوسکتا ہے لیکن ان کا منصوبہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو کم از کم یہ قبول کرنے پر مجبور کردیا جائے کہ وہ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں اور وہ اکثریتی طبقہ بلکہ آر ایس ایس کے رحم و کرم پر زندہ ہیں اور اسی پر زندگی گذار سکتے ہیں۔
جس طرح سے اترپردیش جیسی ریاست کی سیاست سے مسلمانوں کو عملا دور کردیا گیا ہے اور جو کوئی مسلمان وہاں اسمبلی کی رکنیت کیلئے منتخب بھی ہوئے ہیں وہ عملا بے اثر کردئے جائیں گے اور پھر بی جے پی اپنے منصوبوں اور عزائم کی تکمیل کیلئے قانون سازی میں بھی کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کریگی ۔ یہی منصوبہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کو منظم انداز میں دستوری اور قانونی اداروں سے دور کیا جا رہا ہے ۔ جب آدتیہ ناتھ حکومت یو پی میں قائم ہوگئی تو وہاں کئی شہروں میں میونسپل کارپوریشنس میں وندے ماترم گانے کا لزوم عائد کردیا گیا ۔ جب مسلمان کونسلرس نے وندے ماترم گانے سے انکار کردیا اور کونسل سے باہر چلے گئے تو بی جے پی سے تعلق رکھنے والے مئیر نے ان کی رکنیت کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی جسے کونسل میں منظور کرلیا گیا ۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اگر مسلمانوں کو ہندوستان سے باہر نہ بھی کیا جاسکے تو انہیں ملک کے قانون ساز اداروں سے ضرور باہر کردیا جائے ۔ گذشتہ چند برسوں میں ہوئے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو لوک سبھا سے لے کر اسمبلیوں تک اور کارپوریشنس تک مسلمانوں کی نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ ایک منظم مہم ہے جس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہونگے اور یہ اثرات مسلمانوں کیلئے انتہائی سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ حکومتیں ایک نئے ہندوستان کی تعمیر میںمصروف ہوگئی ہیں اور اس نئے ہندوستان میں آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی ‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ اغیار کی سازشوں اور ان کے عزائم کو سمجھا جائے ۔ ان کے منصوبوں سے واقفیت حاصل کی جائے اور پھر ان سے نمٹنے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کی جائے کہ فاشسٹ اور فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم دھرے کے دھرے رہ جائیں ۔ ملک میں ایک بار پھر سکیولرازم اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ مل سکے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد خود کرنی ہوگی ۔ کسی بھی سیاسی جماعت پر بھروسہ کرنا بلکہ تکیہ کرنا مناسب نہیں ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT