Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / مودی کو اپنی ناکامی کا احساس ہونے لگا

مودی کو اپنی ناکامی کا احساس ہونے لگا

مولانا اسرار الحق قاسمی
وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ جمعہ کو آسام کے موران میں بی جے پی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محض ’ایک خاندان‘ ملک کی تعمیر و ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا ، لیکن کسی کے لئے بھی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وزیراعظم صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو یہ بتارہے تھے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے فرزند راہول گاندھی جو پارٹی کے نائب صدر ہیں  ،ان کی حکومت کے کام کاج میں رخنہ ڈال رہے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ملک کی ترقی نہیں ہورہی ہے ۔ وزیراعظم بڑی وضاحت سے بتارہے تھے کہ زیادہ تر اپوزیشن جماعتیں اور لیڈر سیاسی طور پر مخالف ہونے کے باوجود عوامی فلاح و بہبود کے مفاد میں ان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں ، لیکن ایک خاندان ایسا ہے جو گزشتہ عام انتخابات میں شکست کا بدلہ لینے کی نیت سے پارلیمنٹ میں غریبوں کے مفاد میں شروع کئے گئے فلاحی و ترقیاتی پروگراموں کو منظور ہونے سے روک رہا ہے ۔
’ترقی میں رکاوٹ کے لئے محض ایک خاندان کو قصوروار ٹھہراکر وزیراعظم مودی نے اپنی دانست میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو ایک تیر سے کئی زخم دینے کی عیارانہ کوشش کی ہے ۔ اس جملہ کے ذریعہ جہاں ایک طرف انہوں نے ملک کے کمزور اور پسماندہ طبقات کو کانگریس سے دور کرنے کی کوشش کی ہے ، وہیں کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کو پارٹی کی اعلی قیادت سے بدظن کرنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ اسی طرح انہوں نے دیگر اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ ڈالنے کی بھی سعی لاحاصل کی ہے ، جو ان کی حکومت کی ہر جائز اور درست موقع پر گرفت کرنے میں اب تک پوری مستعدی سے کانگریس کے ساتھ کھڑی نظر آتی رہی ہیں ۔
وزیراعظم مودی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اگر ان کا تیر کارگر ہوگیا تو ان کی حکومت شتر بے مہار کی طرح خود کچھ بھی کرے ، کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوگا ۔ لیکن وزیراعظم کو یہ اندازہ بھی ہونا چاہئے کہ سیاست میں چالاکی کے تو سب قائل ہیں ، لیکن عیاری کسی کو بھی قابل قبول نہیں لہذا خواہ ملک کے غریب اور کمزور طبقات ہوں ، کانگریس لیڈران ہوں یا دیگر اپوزیشن جماعتیں ، ان کے وار کو بے اثر کردیں گی ۔ ملک کے مختلف طبقات میں ، سیاست دانوں میں اور سیاسی جماعتوں میں پھوٹ ڈالنا وزیراعظم کا شاید مرغوب سیاسی حربہ رہا ہے ۔ اس معاملہ میں انہوں نے اپنی پارٹی کوبھی نہیں بخشا ہے ۔ بی جے پی آج مودی نواز ، مودی مخالف ، گجراتی ، غیر گجراتی ، بزرگ اور غیر بزرگ لیڈر جیسے کئی خانوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔ بہار سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے لیڈران اور اراکین پارلیمنٹ یہ شکوہ بار بار کرچکے ہیں کہ گزشتہ سال ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران انہیں قصداً الگ تھلگ رکھا گیا اور انتخابی مہم کی کمان باہری لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ، جس کے سبب پارٹی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

بہار کے الیکشن کے دوران ہی وزیراعظم مودی نے مسلمانوں اور دلت و او بی سی طبقات کے بیچ بھی گہری شگاف پیدا کی اس وقت کوشش کی تھی ، جب ایک انتخابی ریلی میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ لالو اور نتیش دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو حاصل ریزرویشن کا کچھ حصہ چھین کر ایک مذہبی اقلیت (مسلمانوں) کو دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ملک کے سنجیدہ حلقوں نے اس وقت بہت ہی حیرانی سے یہ پوچھا بھی تھا کہ وزیراعظم جیسے بڑے آئینی عہدہ پر رہتے ہوئے کوئی شخص آخر اپنے ہی ملک کی مختلف برادریوں کو منقسم کرنے کی دانستہ کوشش بھلا کیسے کرسکتا ہے ؟ لیکن اس ملک میں سیاست دانوں کی جانب سے حیرت انگیز بیانات اتنے تواتر کے ساتھ آتے رہتے ہیں کہ ملک کے شہریوں کی میموری انہیں بہت دنوں تک محفوظ رکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتی اور خواہ کتنی ہی غلط اور غیر موزوں بات کیوں نہ ہو ، وہ سب کچھ فراموش کردیتے ہیں ۔
اب آیئیوزیراعظم مودی کے اس تازہ ترین بیان کو ، جس میں انہوں نے ترقی میں رکاوٹ کے لئے ایک کنبہ یعنی گاندھی خاندان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ایک اور زاویہ سے دیکھتے ہیں ۔ وزیراعظم بننے سے پہلے انہوں نے ملک کے عوام سے کیا کیا وعدے نہیں کئے تھے ۔ کیسے کیسے سبز باغ دکھائے تھے ۔ کسر صرف یہ تھی کہ انہوں نے آسمان سے چاند تارے توڑکر عوام کی ہتھیلیوں پر سجادینے کا وعدہ نہیں کیا تھا ۔ ماسوا اس کے انہوں نے اچھے دن لانے ، بیرون ممالک سے کالا دھن لانے ، بے روزگاری دور کرنے ، مہنگائی کا خاتمہ کرنے ، سب کو ساتھ لے کر سب کا وکاس کرنے ، ملک کو ترقی کی راہ پر تیزگام چلانے اور نہ جانے کیا کیا وعدے کئے تھے ، جن کی بدولت انہوں نے زبردست مقبولیت بھی حاصل کی اور اپنی پارٹی کو بھی شاندار جیت سے ہمکنار کیا ، کیوں کہ ملک کے لوگوں نے ان کے وعدوں پر اعتبار کیا تھا ۔

اب جب کہ مودی کو مرکز میں اقتدار حاصل کئے ہوئے 20 ماہ سے بھی زائد عرصہ گزر چکا ہے اور حکومت کی کارکردگی اور اس کی سمت اور ترجیحات دیکھ کر ملک کے باشعور لوگوں کو یہ اندازہ اور احساس ہونے لگا ہے کہ ان سے جو وعدے کئے گئے تھے ، وہ شاید کبھی پورے نہیں ہوپائیں گے ، کیوں کہ نہ اچھے دن دکھائی دے رہے ہیں اور نہ اب تک کالادھن واپس آیا ہے بلکہ اس کے برعکس ، مہنگائی اور بڑھی ہے اور اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ کہ نہ صرف ملک میں ترقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا مکدر کی جارہی یہ ، بلکہ عدم تحمل کا تو یہ عالم ہوگیا ہے کہ جو حرف شکایت زبان پر لایا وہ حکومت کی نظروں میں معتوب ہوگیا ۔ غدار وطن قرار پایا اور اسے ملک چھوڑ دینے کے دھمکی نما مشورے دئے جانے لگے ۔ وزیراعظم سے عوام نے جو امیدیں قائم کی تھیں اگر ناامیدی میں تبدیل ہوگئی ہیں تو ظاہر ہے کہ اسے ہمارے حکمرانوں کی ناکامی ہی کہا جائے گا ۔
شاید وزیراعظم کو بھی یہ احساس ہوچلا ہے کہ ان کی مقبولیت معدوم ہوتی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے تمام محاذوں پر ناکامی کا ٹھیکرا ایک کنبہ کے سر پھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کی سرکردگی میں دہلی اور بہار دو ریاستوں میں بدترین انتخابی شکست ان کی پارٹی کا مقدر بنی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے تال میل بٹھانے میں بھی اب تک بری طرح ناکام ہی رہے ہیں جس کی وجہ سے پارلیمانی اجلاس ٹھپ ہوتے رہے ہیں ۔ انہوں نے اقتصادی ترقی کے جو وعدے کئے تھے وہ صدا بہ صحرا ثابت ہوئے ہیں ۔ ان کی حکومت پر عدم روادار ہونے کا ایسا داغ لگ چکا ہے جسے دھویا نہیں جاسکتا ۔ ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بیف کھانے کے الزام میں محمد اخلاق اور گووند پنسارے اور نریندر ڈابھولکر جیسے کھلے ذہن کے دانشوروں کے قتل کے ردعمل میں ایوارڈ واپسی کا لامتناہی سلسلہ وزیراعظم مودی اور ان کی حکومت کی ناکامی کا ہی منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
وزیراعظم مودی کو یہ بتانا چاہئے کہ کیا ان تمام ناکامیوں کے لئے بھی گاندھی خاندان ہی ذمہ دار ہے ، بہتر ہوگا کہ وہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور خود احتسابی کرکے اپنی ، حکومت اور پارٹی کی اصلاح کریں ۔ ابھی ان کے پاس موقع ہے وہ ملک اور عوام کے مفاد میں بہت کچھ کرسکتے ہیں ، بشرطیکہ نیت ملک کو مذہب ، ذات اور برادری کے خانوں میں تقسیم کرنے کی نہ ہو، بلکہ صحیح معنوں میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کرنے کا ارادہ ہو ۔

TOPPOPULARRECENT