Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / مودی کو بھگوان کا تحفہ قرار دینے پر آر ایس ایس ناراض

مودی کو بھگوان کا تحفہ قرار دینے پر آر ایس ایس ناراض

شخصیت پرستی کی مخالفت، کوئی فرد تنظیم سے بالاتر نہیں، امیت شاہ کو سنگھ قائدین کا پیام
نئی دہلی ۔ 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے بی جے پی کی قومی عاملہ کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی کی بعض بی جے پی قائدین کی طرف سے بے پناہ مداح سرائی اور انہیں (مودی کو) ’ہندوستان کیلئے خدا کا تحفہ‘ قرار دیئے جانے پر اپنی خاموشی و ناراضگی کا اظہار کیا۔ بجائے اس کے آر ایس ایس نے بی جے پی کو مشورہ دیا کہ وہ قوم پرستی کو اپنا موضوع بنائے رکھے اور اس کے ساتھ ترقی کو بھی مربوط کیا جائے ۔ باخبر ذرائع نے کہا کہ راجستھان کے ناگور میں منعقدہ اپنے نمائندوں کے حالیہ اجلاس کے بعد آر ایس ایس قائدین نے گذشتہ روز دین دیال شودھ سنستھان میں بی جے پی کے سرکردہ قائدین سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ اجلاس بی جے پی قومی عاملہ اجلاس کی روداد سے واقف کروانے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ آر ایس ایس کی طرف سے سریش جوشی، کرشنا گوپال اور دتاتریہ ہوسابولے اور بی جے پی کی طرف سے اس کے صدر امیت شاہ، جنرل سکریٹری (تنظیمی امور) رام لال اور نائب صدر ونئے ساہسرا بودھے نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ ذرائع نے کہا کہ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کی طرف سے مودی کو ہندوستان کیلئے خدا کا تحفہ قرار دیئے جانے پر آر ایس ایس نے ناخوشی و ناراضگی کا اظہار کیا اور مشورہ دیا کہ بی جے پی قیادت کو چاہئے کہ وہ کسی فرد واحد کی پوجا، نہ کرے کیونکہ آر ایس ایس میں کوئی فرد نہیں بلکہ تنظیم ہی برتر و بالاتر ہے۔ واضح رہے کہ وینکیا نائیڈو نے بی جے پی قومی عاملہ کے دو روزہ اجلاس کے آخری دن اتوار کو سیاسی قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی بے پناہ مداح سرائی کی تھی اور تعریف کے پل باندھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’نریندر مودی، ہندوستان کیلئے بھگوان کا انمول اپھار ہیں۔ وہ (مودی) غریبوں کے مسیحا ہیں۔ محض ان (مودی) کی بدولت دنیا میں ہر جگہ ہندوستان کو پہچانا جاتا ہے اور اس کا احترام کیا جاتا ہے‘‘۔

آر ایس ایس نے قوم پرستی کے موضوع پر پیشرفت کیلئے بی جے پی کی کوششوں کی تائید کی لیکن یہ مشورہ بھی دیا کہ قوم پرستی کے موضوع کو ترقی سے مربوط کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق آر ایس ایس نے کہا کہ وہ اس نظریہ کی حامل ہیکہ قوم پرستی و ترقی دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیںچنانچہ پانچ ریاستوں کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں ان دونوں کو یکساں طور پر موضوع بنایا جائے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین نے مغربی بنگال، کیرالا، آسام، ٹاملناڈو اور پڈوچیری سے متعلقہ سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا جہاں آئندہ ماہ سے اسمبلی انتخابات کا آغاز ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں تحفظات کا مسئلہ بھی زیرگفتگو رہا جس میں بی جے پی قائدین نے آر ایس ایس کی قیادت سے درخواست کی کہ تحفظات کے مسئلہ پر وہ اپنے نظریات کا کھلے عام اظہار نہ کرے کیونکہ اس سے پارٹی (بی جے پی) اور وزیراعظم کو الجھن و تردد کا سامنا لاحق رہتا ہے۔ نیز اس مسئلہ پر پارٹی کے موقف کو واضح کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے اس اجلاس میں جے این یو، کنہیا کمار کا تنازعہ اور حیدرآباد یونیورسٹی کے روہت ویمولہ کی خودکشی کا موضوع بھی زیرگفتگو رہا۔

TOPPOPULARRECENT