Friday , October 20 2017
Home / مضامین / مودی کو سزا کیلئے اُلٹی گنتی شروع !

مودی کو سزا کیلئے اُلٹی گنتی شروع !

محمدنعیم وجاہت
وزیراعظم نریندر مودی وقت آگیا ہے سزا کے لئے تیار ہوجایئے۔ 50 دن مکمل ہونے میں صرف 17 دن باقی رہ گئے۔ نوٹ بندی سے 4 تا 5 لاکھ کروڑ روپئے تک آمدنی ہونی کی توقع کی جارہی تھی مگر ملک کے 2 لاکھ کروڑ روپئے کو چونا لگ گیا ہے۔ پہلے دن سے آج تک ملک کے عوام کرنسی بحران سے دوچار ہیں۔ بغیر کسی جرم یا قصور کے 90 افراد فوت ہوگئے ہیں۔ غریب عوام کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔ مرکزی وزراء اور بی جے پی قائدین اپنے بچوں کی شادیوں کا جشن منارہے ہیں۔ مہمان نوازی کے لئے چارٹرڈ فلائٹس کا استعمال کرتے ہوئے غریبوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ 8 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرتے ہوئے کالا دھن، کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑ دینے کا اعلان کیا ہے۔ صرف 50 دن تک صبر کرنے کی عوام سے اپیل کی۔ حالت سازگار نہ ہونے پر عوام کی جانب سے دی جانے والی ہر سزا کو قبول رہنے کے لئے تیار رہنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم کے اچانک اس اعلان سے ملک کے عوام سکتے میں آگئے کیوں کہ 86 فیصد کرنسی کو ایک جھٹکہ میں منسوخ کردیا گیا تھا۔ صرف 14 فیصد کرنسی عوام کے لئے دستیاب تھی۔ نوٹ بندی کے 33 دن بعد بھی ملک کے حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔ بلکہ دن بہ دن اس میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اپنی جمع پونجی کو بینکوں سے نکالنے کے لئے پہلے دن عوام کی جو حالت تھی آج بھی وہی حالت ہے۔ ملک کے ان حالت کے لئے وزیراعظم نریندر مودی اور این ڈی اے حکومت پوری طرح ذمہ دار ہے۔ تاہم مودی نے ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیتے ہوئے سزا کے لئے تیار رہنے کا خود اعلان کیا ہے۔ ابھی تک تو کوئی راحت نہیں ملی ہے اور نہ ہی آئندہ 17 دن میں راحت ملنے کی کوئی اُمید ہے۔ ایسی صورت میں وزیراعظم کو سزا کیا دی جائے اس پر ابھی سے مباحث شروع ہوجانے چاہئے۔ یا وزیراعظم اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت کو تحلیل کردیں اور عوام سے تازہ خط اعتماد حاصل کریں۔ نتائج سے پتہ چل جائے گا کہ عوام نوٹ بندی کی کتنی تائید میں ہیں۔

ہندوستان کے قانون 1934 کے تحت نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اختیار صرف ریزرو بینک آف انڈیا کو ہے۔ ایک روپیہ سے 1000 روپئے، 5 تا 10 ہزار روپئے کی نوٹ صرف آر بی آئی منسوخ کرسکتی ہے اور شائع کرسکتی ہے۔ مگر 2 ہزار روپئے کی نوٹ شائع کرنے کا اختیار فی الحال ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی نہیں ہے۔ اس کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کے بعد ہی 2 ہزار روپئے کی نوٹ جاری کی جاسکتی ہے۔ مگر قانون میں کوئی ترمیم نہ کرتے ہوئے غیر قانونی عمل کیا گیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ہفتہ میں 25 ہزار اور شادی بیاہ کے لئے ڈھائی لاکھ، کاروبار کے لئے 50 ہزار روپئے تک بینکوں سے ڈپازٹ کی ہوئی رقم نکالنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ مگر کرنسی کی قلت کا بہانہ بناتے ہوئے بینکوں کی جانب سے 2 تا 6 ہزار یا 10 ہزار روپئے جو دیئے جارہے ہیں

وہ بھی قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب معاشی بحران کا اعلان کیا جائے گا۔ معاشی بحران کا اعلان کئے بغیر ڈپازٹ کی ہوئی رقم نکالنے پر لگائی جانے والی شرائط بھی غیر دستوری ہے۔ نوٹ بندی سے سارے ملک میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ عوام گھروں میں کم بینکوں میں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ سچ کہا جائے تو ایک ہی اعلان نے عوام کو کنگال بنادیا گیا ہے۔ کالا دھن، بدعنوانیاں اور دہشت گردی کو قابو کرنے کے معاملے میں ملک کے سارے عوام مرکزی حکومت کے ساتھ ہے۔ اس معاملے میں سب کی ایک ہی رائے ہے۔ مگر نوٹ بندی کے لئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ وزیراعظم نے 2014 ء کی انتخابی مہم میں بیرونی ممالک میں موجود کالا دھن ہندوستان واپس لانے اور ملک کے ہر شہری کے اکاؤنٹ میں فی کس 15 لاکھ روپئے ڈپازٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر ملک کے عوام نے مودی پر بھروسہ کیا اور پارلیمنٹ میں بی جے پی کو تشکیل حکومت کے لئے مکمل اکثریت فراہم کی ہے۔ تاہم این ڈی اے حکومت کی نصف میعاد مکمل ہونے کے باوجود وزیراعظم نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا۔ عوام کو کچھ حد تک راحت فراہم کرنے اور عام انتخابات کی تیاری کرنے کے لئے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کردیا۔ نریندر مودی کو اُمید تھی کہ بڑی نوٹوں کی منسوخی سے مرکزی حکومت کو 4 تا 5 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی۔ وہ اتنی بھاری رقم سے ایک ’’خصوصی فنڈ‘‘ کے ذریعہ کچھ رقم جن دھن اکاؤنٹس میں منتقل کرتے ہوئے غریب عوام کو کسی قدر مطمئن کرپائیں گے اور ماباقی رقم دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے بی جے پی کو عوام کے قریب کرپائیں گے لیکن وزیراعظم کی ساری تدابیر اُلٹی ہوگئی۔ 10 نومبر سے 10 ڈسمبر تک ایک ماہ میں منسوخ شدہ 13 لاکھ کروڑ روپئے ملک کے بینکوں اور پوسٹ آفسوں میں جمع ہوچکے ہیں۔

مزید 17 دن میں ایک تا دیڑھ لاکھ روپئے بینکوں میں جمع ہونے کی اُمید ہے۔ اگر نوٹ بندی کا صحیح طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو ملک کو دو لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اس کے ذمہ دار بھی مودی ہیں۔ سنٹر فار مانیٹرنگ دی انڈین اکنامی کے مطابق نوٹ بندی سے ملک کی مجموعی شرح آمدنی کو دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے تک نقصان ہوا ہے۔ نئی کرنسی کی اشاعت پر جہاں 20 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف ہیں وہی نئی کرنسی کو فوجی ہیلی کاپٹرس اور دوسرے ٹرانسپورٹ سے ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں علیحدہ اخراجات ہیں۔ ملک میں تیزی سے جمع ہونے والی منسوخ شدہ کرنسی سے نقد کی شکل میں جو قلت پیدا ہوگئی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے آر بی آئی کو 6 لاکھ کروڑ روپئے کے بونڈس جاری کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ اس پر 6.5 فیصد شرح سود عائد ہوگا اور 9 ماہ تک جاری رہے گا جس کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا کو 30 تا 35 ہزار کروڑ روپئے جاری کرنے پڑیں گے۔ اس طرح نوٹ بندی سے حکومت کو 2 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے جبکہ صرف 80 ہزار کروڑ کا فائدہ ہورہا ہے۔ ابھی تک غیر محسوب دولت کے رضاکارانہ طور پر انکشاف کردہ رقم 1.5 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ اس میں 50 فیصد رقم سرکاری خزانے میں جمع ہونے سے حکومت کو 75 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ 25 فیصد رقم پر سود کی عدم ادائیگی سے مزید ڈھائی ہزار کروڑ روپئے کا منافع ہوا ہے۔ اس طرح حکومت کو صرف 80 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہورہی ہے لیکن ایک ماہ کے دوران مک کی معیشت بُری طرح متاثر ہوگئی۔ معاشی ترقی گھٹ کر 2 فیصد تک پہونچ گئی ہے۔ ملک میں 70 فیصد کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے مزدور بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ابھی تک ملک میں مختلف کمپنیوں اور اداروں میں اخراجات کو کم کرنے کے بہانے 4 لاکھ عوام کو روزگار سے محروم کرچکے ہیں۔ پہلے لوگ گاؤں سے روزگار کی تلاش میں شہروں کا رُخ کیا کرتے تھے۔ کام کاج ٹھپ ہوجانے کے باعث شہروں سے مزدور دوبارہ اپنے اپنے گاؤں کا رُخ کررہے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ اور تعمیری شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد منسوخ شدہ نوٹ بینکوں اور پوسٹ آفس سے 4 ہزار تک تبدیل کرانے کی پہلے مہلت دی گئی۔ اس کے بعد تبدیل کرنے کے عمل کو فوری بند کرتے ہوئے بینکوں میں جمع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ چند ایمرجنسی کاموں کے لئے منسوخ شدہ نوٹوں کو قبول کیا گیا۔ پھر ایک ہزار روپئے کی نوٹ اور 10 ڈسمبر سے 500 روپئے کی منسوخ شدہ نوٹ ایمرجنسی خدمات کیلئے بھی بند کردی گئی ہے۔ عوام گھنٹوں بینکوں کی قطاروں میں کھڑے ہیں مگر انھیں 10 ہزار بھی مشکل سے مل رہے ہیں مگر کالا دھن رکھنے والوں کے کروڑہا روپئے آسانی سے نئی کرنسی میں تبدیل ہورہے ہیں۔ دو دن قبل انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے تروپتی تروملا دیواستھانم کے رکن چندرشیکھر ریڈی کے مکان اور دفاتر واقع چینائی پر دھاوا کیا اس کے قبضہ سے 100 کیلو سونا اور 90 کروڑ روپئے ضبط کئے گئے ہیں۔ تعجب اس بات کا ہے کہ 90 کروڑ میں 70 کروڑ روپئے 2 ہزار روپئے کی نئی کرنسی پر مشتمل ہے۔ اس طرح حیدرآباد ۔ ویسٹ بنگال اترپردیش کے علاوہ کئی مقامات پر بی جے پی کے بشمول دوسرے افراد نوٹوں کی تبدیلی 2 ہزار روپئے کی نئی کرنسی کے ساتھ تبدیل کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ ملک بھر میں عوام گھنٹوں قطاروں میں ٹھہرنے کے باوجود انھیں اپنی جمع رقم 2 تا 10 ہزار روپئے تک مل رہی ہے۔ پھر کالا دھن رکھنے والے عوام کیسے نوٹ تبدیل کررہے ہیں۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر ہو یا دیہی علاقے سب کی ایک ہی صورتحال ہے۔ بینکوں میں طلب سے کم مقدار میں رقم آرہی ہے۔ جو گھنٹے دو گھنٹے میں ختم ہوجارہی ہے۔ تمام بینکوں میں نو کیاش کے بورڈ آویزاں کئے جارہے ہیں۔ 90 فیصد اے ٹی ایم سنٹرس غیر کارکرد ہیں۔ جو خواتین کبھی گھروں تک محدود رہا کرتی تھیں انھیں بھی بینکوں اور اے ٹی ایم کی قطاروں میں دن رات دیکھا جارہا ہے۔ شادی بیاہ کے لئے ڈھائی لاکھ روپئے تک رقم نکالنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مگر بینکوں کی جانب سے رقم نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے رقم دینے سے انکار کیا جارہا ہے جس سے کئی غریب گھرانوں میں شادیاں ملتوی ہوگئی ہیں کئی لڑکے و لڑکیوں کے خواب ادھورے رہ گئے ہیں۔

کئی افراد صدمے سے فوت ہوگئے ہیں۔ مگر بی جے پی قائدین کے بچوں کی شادی میں نوٹ بندی کا کوئی اثر نہیں دیکھ رہا ہے۔ گالی جناردھن ریڈی نے اپنی دختر کی شادی پر 500 کروڑ روپئے خرچ کئے۔ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے مہمان نوازی کے لئے 50 چارٹرڈ فلائیٹ کرائے پر حاصل کرلیا۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بھی اپنی دختر کی شادی میں پانی کی طرح پیسوں کو بہادیا۔ کیا انھوں نے کریڈٹ کارڈ استعمال کیا ہے یا چیک کے ذریعہ رقم ادا کئے ہیں عوام جاننا چاہتے ہیں۔ غریب لوگوں کو صرف ڈھائی لاکھ روپئے میں شادی کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا کیا بی جے پی کے تینوں سرکردہ قائدین نے اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر کیا صرف ڈھائی لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں۔ جب قانون سب کے لئے ہے تو دولتمندوں کی شادیاں کیسے ہورہی ہیں اور غریبوں کی شادیاں کیوں ملتوی ہورہی ہیں۔ مرکزی حکومت اور ریاستوں کی حکومتیں بینکوں میں رقم کیسے پہونچائے اس پر غور کرنے سے زیادہ عوام کو نقد رقم لین دین سے پاک سماج بنانے میں تعاون طلب کررہے ہیں۔ ہندوستان میں ڈیجیٹل اکنامی پر صرف فیصد انحصار ہوتا ہے۔ 80 فیصد کاروبار نقد لین دین پر کیا جاتا ہے۔ ہندوستان اور تلنگانہ میں کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں بینکوں کی سہولتیں نہیں ہیں۔ اگر مودی کالا دھن پر قابو پانا چاہتے تھے تو انھیں سب سے پلے بینک لاکرس رکھنے والوں کو نشانہ بنانا چاہئے تھا۔ کیاش لیس سوسائٹی کے لئے پہلے شہری علاقوں پر توجہ دی جانی تھی لیکن نوٹ بندی سے صرف غریب و متوسط طبقہ پریشان ہوا ہے۔ کالا دھن رکھنے والے کمیشن پر اپنے بلیک منی کو وائیٹ کررہے ہیں جس سے نوٹ بندی کا مقصد فوت ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT