Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے وقار کا خیال رکھنے کا مشورہ

مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے وقار کا خیال رکھنے کا مشورہ

اشتعال انگیزی ‘ خودپرستی اور سطحی لب و لہجہ کا کانگریس کے ترجمان رسالہ میں الزام

نئی دہلی، 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ سے اتنا دور ہوچکے ہیں کہ جب کبھی انہیں ایوان میں بولنا پڑتا ہے تو ان کی تقریر میں انتخابی لہجہ ہوتا ہے اور ان کے بولنے کا طریقہ عہدے کے وقار کے موزوں نہیں ہوتا۔پارٹی نے اپنے ترجمان جریدہ ‘کانگریس سندیش’کے تازہ شمارے کے اداریہ میں وزیر اعظم پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کے بولنے کا لہجہ پُروقار نہیں ہوتا ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ہونے کے ساتھ ہی وہ ملک کے وزیر اعظم بھی ہیں، اس لیے انہیں اپنی تقریر میں عہدے کے وقار کا خیال رکھنا چاہئے ۔ ترجمان جریدے کے ذریعے پارٹی نے پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک شکریہ پر ہونے والی بحث کے بعد وزیر اعظم کے جواب کے تعلق سے خاص طور پر نشانہ بنایا ہے ۔ پارٹی نے کہا ہے ‘مسٹر مودی کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جب ملک کے وزیر اعظم کے طور پر بولتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اس عہدے کے وقار کو برقرار رکھیں، جس عہدے کے فرائض ان سے پہلے کئی باوقار لوگوں نے نبھایا ہے اور آئندہ بھی اس کو بہترین اور ہندستانی ثقافت سے وابستہ افراد نبھاتے رہیں گے ‘۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اپنی عادت کے مطابق دوسروں کا مذاق اڑاتے رہے اور ان باتوں کے لئے خود اپنی پیٹھ تھپتھپاتے رہے جنہیں انہوں نے انجام ہی نہیں دیا ہے ۔کانگریس نے مسٹر مودی کے اسلوب کے ساتھ ہی ان کی زبان پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ ” وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو بہت کم خطاب کیا ہے ۔لیکن جب بھی انہوں نے ایسا کیا ہے تو صرف مختلف اپوزیشن پارٹیوں کا مذاق ہی اڑایا ہے ۔ وہ ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیں جو 125 کروڑ ہندوستانی شہریوں کے نمائندے کے طور پر وزیر اعظم کے عہدے پر بیٹھے کسی لیڈر کو زیب نہیں دیتا”۔  کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ملک کے سابق وزرائے اعظم کے بارے میں بھی بہت ہی اشتعال انگیز زبان استعمال کیا ہے ۔  “ان کی تقریر خودپرستی سے اس قدر بھری ہوئی تھی، جیسے کہ ہندوستان کے اب تک کے وزرائے اعظم میں صرف و ہی فرض شناس ہیں اور وہ بھی تب جب اپنے اور اپنی پارٹی کے بارے میں بتانے کے لئے ان کے پاس صرف جملے ہی ہیں۔ انہوں نے ملک کو اقتصادی بحران میں ڈال دیا ہے “۔  پارٹی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی کسی بات کا مذاق اڑانے میں مسٹر مودی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں اتراکھنڈ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں آنے والے زلزلے کا بھی مذاق اڑانے سے باز نہیں آتے ۔  اداریہ میں کہا گیا ہے کہ”وزیر اعظم پارلیمنٹ میں بولنے سے اس قدر احتراز کرچکے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ان کے خطاب پر بھی انتخابی تقریر کے لہجے کا اثر نمایاں تھا۔ پارلیمنٹ کے کسی بھی سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے اراکین کو جس طرح سے خطاب کیا جاتا ہے اس کے برعکس انتخابات کے رنگ میں رنگے ہوئے وزیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو ‘بھائیو بہنو’ کہہ کر خطاب کر دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT