Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مودی کیخلاف نازیبا زبان پر روشن بیگ تنازعہ کا شکار

مودی کیخلاف نازیبا زبان پر روشن بیگ تنازعہ کا شکار

بنگلورو 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے وزیر آر روشن بیگ آج وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں سطحی تبصرے کے ساتھ تنازعہ میں گھر گئے کیوں کہ بی جے پی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا اور اپوزیشن پارٹی نے اُن کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ روشن بیگ نے پولی کیشی نگر اسمبلی حلقہ کے کانگریس ورکرس سے اپنے خطاب میں کچھ ایسا تبصرہ کیا جو تنازعہ کا موجب بن گیا۔ یہ حلقہ قابل لحاظ ٹامل آبادی رکھتا ہے اور یہ خطاب تین روز قبل کا ہے۔ اس نے بڑا تنازعہ چھیڑ دیا کیوں کہ اُن کی ٹامل میں کی گئی تقریر کی ویڈیو کلپنگ آج یہاں ٹی وی چیانلوں نے نشر کردی۔ جب مودی کو وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار پر لایا گیا اُن کے حامیوں نے کہا تھا کہ وہ ہمارے سپوت ہیں لیکن اب کیا ہوگیا ہے؟ اُنھوں نے ایک ہزار روپئے کی نوٹ پر پابندی لگادی، 500 روپئے کی نوٹ کا چلن بند کردیا گیا۔ اب وہی لوگ اُن پر نکتہ چینی کررہے ہیں‘‘۔ روشن بیگ نے اِن الفاظ کے ساتھ کچھ نازیبا لفظ بھی اضافہ کردیا جس کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ روشن بیگ نے کہاکہ کانگریسی نہیں بلکہ گجراتیوں اور مارواڑیوں نے بی جے پی کی تائید و حمایت کرنے کے بعد اب اِن الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔ روشن بیگ جو وزیر شہری ترقیات ہیں، اُن کے ریمارکس پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جیسا کہ پارٹی کی رکن لوک سبھا شوبھا کراند لاجے نے الزام عائد کیاکہ اس طرح کی زبان کانگریس کلچر کا ہی نتیجہ ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ روشن بیگ کو معذرت خواہی کرنا چاہئے اور چیف منسٹر سدارامیا کو چاہئے کہ اُنھیں وزارت سے فوری ہٹادیں۔ بی جے پی ترجمان مدھو سدن نے کہاکہ مودی بی جے پی کے نہیں بلکہ سارے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ روشن بیگ کو اپنی زبان پر لگام دینا چاہئے ورنہ ہم اُنھیں وہی زبان میں جواب دینے پر مجبور ہوں گے جو اُنھیں سمجھ آتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT