Friday , August 18 2017
Home / مضامین / مودی کی شطرنج کی بساط کیا اُلٹی پڑگئی؟

مودی کی شطرنج کی بساط کیا اُلٹی پڑگئی؟

ظفر آغا

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی سیاست کو شطرنج کا ایک کھیل بنادیا ہے۔ شطرنج کااُصول یہ ہے کہ بازی جیتنے کیلئے اچھا کھلاڑی اپنے حریف کو مستقل دباؤ میں رکھتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے قبل کہ حریف حملہ کرے دوسرا کھلاڑی حریف پر مستقل وار کرتا رہتا ہے تاکہ حریف اپنے دفاع میں گھرا رہے اور اس کو اپنے دشمن پر وار کرنے کا کوئی موقع ہی نہ ملے۔ نریندر مودی سیاسی شطرنج کے اس فن کے زبردست کھلاڑی بن چکے ہیں اور اسی حکمت عملی کے ذریعہ وہ اپنے حریفوں کو مستقل اُلجھائے رکھتے ہیں۔
اب ذرا غور فرمایئے وہ یہ کام کرتے کیسے ہیں! آپ نے خبریں پڑھی ہوں گی کہ لالو پرساد یادو اور ان کے اہل خانہ کے گھروں پر سی بی آئی کے دھاوے ہوئے۔ پہلے یہ خبر آئی تھی کہ کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے گھر پر سی بی آئی کا دھاوا ہوا ہے، جب شرد پوار اپوزیشن اتحاد کی باتیں کرنے لگے تو یکایک یہ خبر آئی کہ ان کے ساتھی پرافل پٹیل جب یو پی اے حکومت میں وزیر ہوا بازی تھے تو ایر انڈیا میں زبردست گھوٹالے ہوئے۔ عوم کو تو ان معاملات میں شور مچا کر یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ سب لوگ بدعنوان ہیں اور ایک اکیلے مودی ہی ہیں جو دودھ کے دھلے ہیں۔ لیکن اپنے حریفوں پر سی بی آئی کے دھاوے کرواکر مودی کا سیاسی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح حریف مقدمات اور اپنی ذاتی پریشانیوں میں پھنسے رہیں اور انہیں بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد جیسی سیاسی باتوں کے لئے بالکل وقت ہی نہ ملے۔ یہ ہے بدعنوانی کے خلاف مودی کے شور مچانے کا مقصد، کیونکہ ملک سے بدعنوانی کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے لیکن اس کے خلاف شور بہت ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی راج میں اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں نے پچھلے تین برس میں ہزاروں کروڑ کمالیئے۔

مودی جی سیاسی شطرنج پر اپنے حریفوں کے خلاف مستقل وار کرکے انہیں دفاع میں اُلجھائے رکھتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے ابھی ایک اور چال چلی کہ ملک کے عہدہ صدارت کیلئے ایک دلت کو چناؤ میں منتخب کرواکر دلت کارڈ کے ذریعہ دلت ووٹ بینک پر بی جے پی کا قبضہ جمانے کی شطرنج کی چال چلی ہے۔ دلت لیڈر رام ناتھ کووند جو صدر منتخب ہوئے ہیں وہ اتر پردیش کے ہیں جہاں سے ملک کے سب سے زیادہ یعنی 80 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوکر آتے ہیں۔ اتر پردیش میں 20 فیصد سے زیادہ دلت آبادی ہے اور جیسا کہ آپ واقف ہیں اتر پردیش کی سب سے قدآور دلت لیڈر مایاوتی ہیں۔ یعنی صدارتی چناؤ میں ایک دلت کو کامیابی دلا کر مودی نے سیاسی شطرنج میں ایک شہ دی تاکہ وہ گھری رہیں۔ لیکن جواب میں مایاوتی نے مودی کے کھیل کو کرکٹ کے کھیل میں بدل دیا۔ وہ اس طرح کہ آپ نے کرکٹ میں ریورس سویپ کے بارے میں سنا ہوگا، ریورس سویپ کرکٹ کی وہ چال ہے جس کے ذریعہ کھلاڑی اپنے بلے سے اُلٹا شاٹ اُلٹی جانب مارتا ہے۔ مایاوتی نے مودی کی چال کا جواب کرکٹ کی ریورس سویپ سے دے دیا اور بال باؤنڈری سے باہر چلی گئی۔ بیچارے مودی دیکھتے رہ گئے۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا۔

پچھلے ہفتہ آپ نے خبروں میں سنا ہوگا کہ مایاوتی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا۔ دراصل ہوا یہ کہ جس روز راجیہ سبھا کا اجلاس شروع ہوا اس روز صبح صبح مایاوتی نے راجیہ سبھا میں کھڑے ہوکر ملک میں دلتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بولنے کے لئے اجازت مانگی۔ وائس چیرمین نے مایاوتی کو اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بس مایاوتی نے فوراً اعلان کردیا کہ وہ ایسی راجیہ سبھا میں ایک منٹ بھی نہیں رہیں گی جہاں دلتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف بولنے کی ہی اجازت نہ ہو، اور اس اعلان کے کچھ عرصہ بعد مایاوتی نے استعفی دے دیا۔
مایاوتی کا ریورس سویپ یعنی مودی نے کووند کو صدر بناکر مایاوتی کو شہ دی۔ مایاوتی نے کھیل کا اُصول بدلنے کیلئے استعفی دے کر ریورس سویپ ماردیا۔ اس طرح مودی سمیت بی جے پی بوکھلا گئی کیونکہ کووند کا دلت کارڈ کھوکھلا ہوگیا اور مودی دیکھتے رہ گئے۔ اب مایاوتی نے یہ طئے کیا ہے کہ وہ جلد ہی اتر پردیش میں لوک سبھا کے دو حلقوں کیلئے ہونے والے ضمنی چناؤ میں سے ایک حلقہ سے چناؤ لڑیں گی۔

خبریں یہ بھی ہیں کہ اندر ہی اندر یہ طئے ہوچکا ہے کہ اس چناؤ میں کانگریس، اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی اور دیگر وہ تمام لیڈران جنہیں شطرنج کی چالوں سے مودی نے گھیرے رکھا ہے وہ سب کے سب لیڈران اس ضمنی چناؤ میں اپنا نمائندہ نہ کھڑا کرتے ہوئے مایاوتی کی حمایت کریں گے۔ اگر ایسا ہوگیا تو پھر یہ سمجھیئے کہ مودی کی اپوزیشن کو گھیرنے کی تمام چالیں اُلٹی پڑ جائیں گی کیونکہ اس طرح مایاوتی کی جیت یقینی ہوجائے گی۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مودی کا کووند کارڈ یعنی دلتوں کو اُلو بنانے کی کوشش رائیگاں ہوجائے گی۔ دوسری جانب مایاوتی کا ملک کی اہم اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت کے ذریعہ مودی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا مورچہ قائم ہوجائے گا جو 2019 کے لوک سبھا چناؤ کے دوران مودی کے لئے پھانسی کا پھندا ثابت ہوسکتا ہے۔
ایک مثل مشہور ہے کہ’’ سیانا کوا غلاظت کھائے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی جی سیاسی شطرنج کے انتہائی سیانے کوے ہیں، وہ اپنے حریفوں کو اُلجھائے رکھنے کا فن خوب جانتے ہیں لیکن کبھی کبھی حد سے زیادہ سیانا پن بھی ’ سیانا کوا غلاظت کھائے ‘ کے مصداق ہوجاتا ہے۔ مایاوتی کے ریورس سویپ نے اب مودی جی کو اسی کنارے پر لاکھڑا کردیا ہے۔ آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔

TOPPOPULARRECENT