Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / مودی کی ڈگری تضادات کا مجموعہ ، وائس چانسلر پر غیرمعمولی دباؤ

مودی کی ڈگری تضادات کا مجموعہ ، وائس چانسلر پر غیرمعمولی دباؤ

کیا دہلی یونیورسٹی میں 1978 ء میں کمپیوٹر موجود تھا ؟ عام آدمی پارٹی کا استفسار

نئی دہلی ۔ /11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کو ڈگری کے مسئلہ پر تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے آج دہلی یونیورسٹی کے عہدیداروں پر برہمی ظاہر کی جو جعلی مارک شیٹ کی تصدیق کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈگری میں پائے جانے والے فرق پر بھی پارٹی نے شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ دہلی یونیورسٹی رجسٹرار ترون داس سے مختلف سوالات کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی لیڈر اشوتوش نے یہ جاننا چاہا کہ مارک شیٹس ایک ساتھ جاری کیوں نہیں کئے گئے اس کے علاوہ درخواست گزار کا نام اور مضامین کو ہاتھ سے تحریر کیوں کیا گیا ۔ جبکہ بی جے پی نے مودی کی جو مارک شیٹ جاری کی ہے اس میں نام اور مضامین ہاتھ سے تحریر کردہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو مارک شیٹ ہیں اس میں نریندر مودی ’’کامیاب‘‘ تحریر ہے جبکہ ہاتھ سے تحریر کردہ مارک شیٹ میں ’’کامیاب‘‘ درج نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دستیاب مارک شیٹس میں مختلف عہدیداروں کی دستخط ہیں جبکہ مودی کی مارک شیٹ میں دستخط کے تعلق سے بھی کافی فرق پایا جاتا ہے ۔

یہی نہیں بلکہ دونوں مارک شیٹس میں اور بھی کئی فرق موجود ہیں ۔ مودی جی کے پاس موجود مارک شیٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ کمپیوٹر سے تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے جاننا چاہا ہے کہ کیا  1975 ء میں دہلی یونیورسٹی میں کمپیوٹرس موجود تھے ۔ پارٹی نے کہا کہ یونیورسٹی پر مرکز سے کافی دباؤ پڑرہا ہے ۔ اور یونیورسٹی عہدیدار اپنے روزگار کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ آخر مودی کے پاس موجود مارک شیٹ کو کمپیوٹر سے کس طرح تیار کیا گیا ۔ کیا بل گیٹس نے اُس وقت مودی کی ڈگری کیلئے خصوصی کمپیوٹر بھیجا تھا ؟ اشوتوش نے بتایا کہ کل جب ہم یونیورسٹی حکام سے ملنے کیلئے گئے تو اُس وقت کسی نے ہم سے ملاقات نہیں کی ۔ لیکن رجسٹرار نے چیانل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈگری بالکل مصدقہ ہے۔اس دوران عام آدمی پارٹی کے وفد نے آج دہلی یونیورسٹی وائس چانسلر سے ملاقات کی

اور انہیں وزیراعظم نریندر مودی کی بی اے ڈگری کے ریکارڈس کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا لیکن وفد کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ۔ وائس چانسلر یوگیش تیاگی سے ملاقات کے بعد عام آدمی پارٹی لیڈرس سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریکارڈس بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اُن پر کافی دباؤ ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوگیش تیاری بے بس نظر آرہے تھے ۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے یہ جاننا چاہا کہ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے آخر وزیراعظم کی بی اے ڈگری کے ریکارڈس بتانے سے کیوں انکار کردیا ۔ جبکہ صدر بی جے پی امیت شاہ اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے تین دن قبل ہی پریس کانفرنس میں ریکارڈس جاری کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں قائدین نے مودی کی ڈگری دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جاؤ اب جاکر دہلی یونیورسٹی میں دیکھ لو‘‘ ۔ کجریوال نے کہا کہ اب وائس چانسلر کیوں انکار کررہے ہیں ۔ آخر اس کا راز کیا ہے ؟

TOPPOPULARRECENT