Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / مودی کے تین سال مسلمانوں کیلئے مشکلات

مودی کے تین سال مسلمانوں کیلئے مشکلات

ظفر آغا
مودی حکومت کے تین برس ہندوستانی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر تین سو برس سے بھی بھاری ثابت ہوئے۔ برصغیر کے مسلمانوں پر پچھلے دو ڈھائی سو برسوں میں سخت مصیبتیں آئیں۔1757 میں بنگال میں لارڈ کلائیوکے ہاتھوں نواب سراج الدولہ کی شکست سے لیکر 1857 تک مغلوں کی ہار تک اس برصغیر کا مسلمان اقتدار کھو بیٹھا، اور تمام ہندوستانیوں کے ساتھ انگریزوں کی غلامی کا بھی شکار ہوا۔ پھر جنگ آزادی کے آخری دور میں برصغیر کے بٹوارے نے جناح صاحب کی ہندو ۔ مسلم سیاست کے نتیجہ میں آزاد ہندوستان کا مسلمان خود اپنے ہی وطن میں پاکستانی یعنی غدار ٹھہرادیا گیا، اور بٹوارے کا بوجھ مسلمان آج تک ڈھو رہے ہیں۔ پھر آزاد ہندوستان میں فسادات کی مار نے مسلمانوں کو مین اسٹریم سے جدا کردیا اور اس ہندوستان میں مسلمانوںکو بابری مسجد کا انہدام اور گجرات میں مسلم نسل کشی جیسے واقعات کا سامنا ہوا۔

ان تمام سخت مشکلات اور امتحان کے بعد مسلمانوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ ہی وہ کسی مستقل شکست کے شکار ہوئے۔ مگر پچھلے تین برسوں میں مودی حکومت نے مسلمانوں پر جو قہر ڈھایا ہے اس نے اس قوم کی ہمت توڑدی، کیونکہ اس قوم کی ہمت کیا باقی رہے گی جس کو یہ بھی نہ معلوم ہو کہ وہ اپنے گھر کے اندر بھی محفوظ ہے کہ نہیں۔ گھر اور گھر کے باہر بھی اب مسلمانوں کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں بچا کیونکہ اخلاق گھر کے اندر ہی مارا گیا اور پہلو خان کو گاؤ رکھشکوں نے سڑک پر مارا۔ دہلی سے چند میل کے فاصلے پر گریٹر نوئیڈا کے علاقہ میں مودی سرکار کے تین برس پورے ہونے سے 24 گھنٹے قبل جن چار خواتین کی کار سے کھینچ کر عصمت ریزی کی خبر آئی وہ بھی مسلمان تھیں۔ یعنی اب اس ملک کے مسلمانوں کی نہ تو زندگی محفوظ ہے اور نہ ہی ان کی عزت بچی ہے۔ یعنی مودی حکومت کے محض تین برسوں میں جان و مال تو کیا مسلم آبرو کا بھی آسرا جاتا رہا۔ یہ غلامی کے آثار نہیں تو اور کیا ہیں ؟ دراصل سنگھ نے مودی کی قیادت میں ہندوستانی مسلمانوں کو نفسیاتی غلامی کا شکار بنانے کا پراجکٹ شروع کردیا ہے۔ کہنے کو اخلاق اور پہلو خان محض افراد کی موت ہوئی جبکہ گجرات فسادات میں2 ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے، لیکن ان دوافراد کے قتل نے جو خوف کی فضاء پیدا کی ہے ایسے خوف کا شکار تو مسلمان کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج مودی کے ہندوستان میں بڑے فسادات نہیں ہورہے ہیں لیکن کبھی لوجہاد تو کبھی گاؤ رکھشکوں کے ذریعہ پورے ملک میں ایک ایسی فضاء بنادی گئی ہے جس میں 24 گھنٹے مسلمانوں کو اپنی زندگی خطرہ میں نظر آرہی ہے۔ بھلا وہ قوم اپنی زندگی کی دوسری کارگر باتوں کی کیا فکر کرے گی جس کو یہ بھی یقین نہ ہو کہ وہ اگلے بل بیٹھے گا یا نہیں؟۔
مودی راج میں پچھلے تین برسوں میں ایک ایسی فضاء بنائی جارہی ہے جس میں مسلمان ہر وقت خوف میں مبتلاء رہے۔ مثلاً سونونگم لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کے خلاف ایک بے ہودا بیان دیتا ہے اورپھر بہت ہی منظم طریقہ سے ٹی وی چیانل پر شور مچایا جاتا ہے کہ آخر اس بیان میں کیا بری بات ہے، یہ تو شور کم کرنے کا مسئلہ ہے۔ جبکہ اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ باور کروایا جائے کہ اب اس ملک میں تمہارا عقیدہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ نہ زندگی محفوظ ہے، نہ ناموس محفوظ اور نہ ہی عقیدہ محفوظ ہے، یہ ہے مودی راج کا مسلمانوں کے لئے نچوڑ !

لیکن آپ ہمت مت ہاریئے! یاد رکھیئے کہ تمام مصیبتوں کے باوجود ہندوستان ایک عظیم الشان ملک ہے۔ اس ملک کے آئین نے آپ کو وہی حقوق دیئے ہیں جو دوسروں کو دیئے ہیں۔ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ آپ اس ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہیں۔ کہنے کو مسلمان اقلیت ہیں لیکن آبادی میں دلت اور دوسروں سے زیادہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دلت جیسے پسماندہ اور مظلوم طبقات کے ساتھ مل کر جدوجہد کی جائے۔ اگر سہارنپور میں دلتوں پر ظلم ہوتا ہے تو اس ظلم کو اپنے اوپر ہونے والا ظلم سمجھیئے اور دلتوں کے ساتھ مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھایئے۔ اگر کہیں پسماندہ ذاتوں کے خلاف ناانصافی ہوتی ہے تو اس کو اپنے اوپر ہونے والی ناانصافی سمجھیئے اور آئینی حدود میں رہ کر پُرامن احتجاج کیجئے، اور پھر دیکھیئے کہ آپ اپنے کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔
یاد رکھیئے، جمہوریت میں احتجاج کا ذریعہ محض چناؤ اور ووٹ نہیں ہوتے ہیں، جمہوریت آئینی حدود میں آپ کو بروقت احتجاج کا حق دیتی ہے۔ مظلوم قوموں کے پاس احتجاج اور جدوجہد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا ہے اور جدوجہد تب ہی کامیاب ہوتی ہے جب دوسری مظلوم قوموں کے ساتھ مل کر اور ان کے شانہ بہ شانہ جدوجہد ہو۔ اس لئے دلت ۔ مسلم اور پسماندہ قوموںکا ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم ہی نہیں بلکہ سماجی پلیٹ فارم بھی بنانا ہوگا جو دلتوں ، اقلیتوں اور پسماندہ قوموں کے مسائل پر مل کر لڑائی لڑے۔ اگر سہارنپور میں دلت مارے جاتے ہیں تو ہر مسلم بستی میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہیئے۔ اگر اپ ایسا کریں گے تو کل وہ آپ کے شریک ہوں گے۔ ہمت مت ہاریئے کیونکہ 1857 اور بٹوارے کی مصیبت سے نکل آئے ہیں تو پھر مودی جیسے بھی چلے جائیں گے۔ خوف غلامی کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اس خوف کی پٹری کو کاٹ کر آئینی حدود کے اندر اُٹھ کھڑے ہوجایئے اور پھر دیکھیئے فتح آپ کے قدم چومے گی۔

TOPPOPULARRECENT