Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / مودی کے خلاف سینئر قائدین کی بغاوت

مودی کے خلاف سینئر قائدین کی بغاوت

بی جے پی کو مخصوص فرد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا گیا،اڈوانی ، جوشی شانتا کمار اور یشونت سنہا کی برہمی
نئی دہلی ۔ 10 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی میں سینئر قائدین نے بہار انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردی ہے۔ ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی کے علاوہ دیگر دو لیڈرس نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پارٹی کو ’’انتہائی کمزور‘‘ کردیا گیا اور  اسے مخصوص فرد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی گزشتہ سال مئی میں منعقدہ لوک سبھا انتخابات کے بعد پارٹی کے طاقتور لیڈر کے طور پر ابھرے لیکن اب انہیں پہلی مرتبہ پارٹی میں زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ بی جے پی کے سینئر قائدین بشمول شانتا کمار اور یشونت سنہا نے سخت الفاظ پر مبنی بیان جاری کرتے ہوئے شکست کے اسباب کا جائزہ لینے توڑ دیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسے عملاً کمزور بنادیا گیا۔ شکست کے اسباب اور جس انداز میں پارٹی کو مخصوص ہاتھوں میں سونپا جارہا ہے اور مفاہمانہ طرز عمل کو ختم کیا جارہا ہے، ان سب کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی کی رہائش گاہ سے یہ بیان جاری کیا گیا اور اس سے پہلے سابق مرکزی وزیر ارون شوری اور آر ایس ایس کے سابق نظریاتی لیڈر کے این گوئند آچاریہ کو جوشی کے ساتھ سرگرم تبادلہ خیال دیکھا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بہار انتخابی نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دہلی میں ہوئی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا جہاں عام آدمی پارٹی نے 70 کے منجملہ 67 پر قبضہ کیا اور بی جے پی کو صرف 3 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ یہ کہنا کہ شکست کیلئے ساری پارٹی  ذمہ داری ہے، دراصل یہ واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر پارٹی کامیابی حاصل کرتی تو جو لوگ اس کا سہرا اپنے سر باندھتے تھے، اب وہ ذمہ داری سے فرار اختیار کر رہے ہیں۔ یہ بیان وزیر فینانس ارون جیٹلی پر بھی شدید برہمی کا اظہار ہے جنہوں نے کل قیادت کا دفاع کیا تھا۔ بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں بہار انتخابی شکست کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ جہاں تک جوابدہی کا تعلق ہے ، کامیابی اجتماعی طور پر پارٹی کو ملتی ہے اور شکست بھی اجتماعی طور پر پارٹی کو ہی ہوتی ہے۔ ان قائدین نے کہا کہ ذمہ دار افراد نے حقائق کا اندازہ نہیں کیا۔ نریندر مودی کے وزیراعظم اور امیت شاہ کے صدر بی جے پی بننے کے بعد اڈوانی کو جو طویل عرصہ تک پارٹی صدر کے عہدہ پر برقرار رہے اور مرلی منوہر جوشی کو ’’مارگ درشک منڈل‘‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر لیڈر بہار سی پی ٹھاکر نے بھی پارٹی قیادت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور کہا مرکزی قیادت اور بنیادی سطح پر کارکنوں کے درمیان جو ربط ہے، اس پر انہیں بے حد تکلیف ہورہی ہے ۔ اب یہ تعلق ایک آقا اور غلام میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے تحفظات پر ’’ایک تبصرہ‘‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ سارے انتخابات کیلئے مہنگا ثابت ہوا۔ اس تبصرہ سے پہلے بی جے پی کامیابی کی راہ پر تھی لیکن جیسے ہی انہوں نے یہ تبصرہ کیا ، لالو اور نتیش نے اسے اہم موضوع بنادیا اور پارٹی بے بس ہوگئی تھی۔

بی جے پی کا سینئر قائدین پر جوابی وار
پارٹی قیادت کی مدافعت کرتے ہوئے بی جے پی نے سینئر قائدین پر جوابی وار کیا اور کہا کہ انتخابی شکست یا کامیابی کی اجتماعی ذمہ داری کی صحت مند روایات اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی نے خود قائم کی ہے۔ تین مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ ، وینکیا نا ئیڈو اور نتن گڈکری نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینئر قائدین کی رہنمائی اور ان کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT