Tuesday , August 22 2017
Home / سیاسیات / مودی کے خلاف قانونی کارروائی پر حکومت کیرالا کا غور

مودی کے خلاف قانونی کارروائی پر حکومت کیرالا کا غور

کیرالا کے صومالیہ سے تقابل پر چیف منسٹر کا بیان ۔ ریاست میں بی جے پی اقتدار پر نہیں ہے اس لئے صومالیہ جیسی حالت نہیں : سی پی ایم
کوچی / تھرواننتا پورم 12 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا کے صومالیہ سے تقابل پر وزیر اعظم کے خلاف اپنی تنقیدوں میںشدت پیدا کرکے چیف منسٹر اومن چنڈی نے آج کہا کہ ریاستی حکومت مودی کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہی ہے ۔ اومن چنڈی نے کہا کہ ریاست کے عوام امید کرتے ہیں کہ نریندرمودی اپنے اس ریمارک پر غیر مشروط معذرت خواہی کرینگے ۔ ریاست کے عوام کو ان سے مسلسل خاموشی کی امید نہیں ہے ۔ مودی کے ان ریمارکس پر ریاست میں زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ نریندر مودی نے جاریہ ہفتے کے اوائل میں ریاست میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ تقابل کیا تھا اور کہا تھا کہ کیرالا میں درج فہرست قبائل کی برادریوں میں نومولود بچوں کی اموات صومالیہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کے اس ریمارک پر سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا اور سوشیل میڈیا پر ان پر مسلسل تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں ٹوئیٹر استعمال کرنے والوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلق سے سخت تبصرے کئے ہیں۔

کچھ افراد نے موہن لال کی ملیالی فلم کا حوالہ دیتے ہوئے ’’ مودی ‘ چلے جاؤ ‘‘ کے تبصرے بھی کئے ہیں۔ مسٹر چنڈی نے اس ریمارک سے دستبرداری اختیار نہ کرنے پر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سی پی ایم لیڈر کے بالا کرشنن نے کہا کہ ان کے بیان ریاست میں اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امکانات متاثر ہونگے کیونکہ اس ریمارک سے ریاست کے عوام کی توہین اور ہتک ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ کیرالا میں صومالیہ جیسی صورتحال نہیں ہے کیونکہ یہاں بی جے پی اقتدار پر نہیں ہے ۔ اپنے فیس بک پوسٹ میں چنڈی نے کہا کہ رمودی نے اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ کیرالا کے عوام ان کی خاموشی نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم غیر مشروط معذرت خواہی کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وزیر اعظم ریاست میںانتخابی ریلی کے دوران ان کے سوالات کے جواب دئے بغیر چلے گئے ۔ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ نہ صرف ریاست میں ان پر تنقیدیں ہو رہی ہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم ملیالی عوام نے ان کے ریمارکس کو پسند نہیںکیا ہے ۔

اپنے ہاتھ سے تحریر مکتوب میں چنڈی نے مودی پر تنقید کی ہے اور کہا کہ کیرالا کے صومالیہ سے تقابل کرکے انہوں نے ریاست کی توہین کی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ کچھ سیاسی تدبر کا مظاہرہ کریں اور ان ریمارکس سے دستبرداری اختیار کرلیں کیونکہ یہ الزامات بے بنیاد اور حقائق سے بعید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے تبصرے سے کیرالا کے عوام کی عزت نفس متاثر ہوئی ہے ۔ وہ امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ غیر مشروط معذرت خواہی کرینگے ۔ سی پی ایم لیڈر بالا کرشنن نے کہا کہ مودی کے ریمارکس سے بی جے پی کے انتخابی امکانات متاثر ہونگے کیونکہ ان ریمارکس سے ریاست کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ان کی ہتک ہوئی ہے ۔ بالا کرشنن نے کہا کہ وزیر اعظم کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ ریاست میں ایسی صورتحال نہیں ہے جیسی صومالیہ میں ہے کیونکہ ریاست میں بی جے پی اقتدار پر نہیں آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے گجرات ماڈل کی ترقی کا جو ہوا کھڑا کیا تھا وہ در اصل جھوٹا پروپگنڈہ تھا اور اس میںکوئی سچائی نہیں تھی ۔

TOPPOPULARRECENT