Thursday , July 27 2017
Home / مضامین / مودی کے رنگ ڈھنگ اسپیکر کی طرح وزیراعظم پر بھی دستوری حد ضروری

مودی کے رنگ ڈھنگ اسپیکر کی طرح وزیراعظم پر بھی دستوری حد ضروری

عرفان جابری
نریندر مودی نے جاریہ اسمبلی الیکشن میں نہ صرف خود کو حد سے زیادہ ملوث کرلیا بلکہ وزارتِ عظمیٰ کے وقار کو گھٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ نہرو۔ گاندھی خاندان سے تو جیسے انھیں جنم کی پرخاش ہے یعنی وہ کچھ ایسے عجیب و غریب دعوے کرتے ہیں کہ جیسے تحریک آزادی سے لے کر آج تک نہرو۔ گاندھی خاندان نے ہندوستان میں صرف مسخرہ پن کیا ہے اور انگریزوں کے تسلط سے حصول آزادی نیز اس کے بعد پُرآشوب دور سے ملک کو نکالتے ہوئے 2014ء تک قوم کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کرتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بعض موقعوں پر موہن داس کرم چند گاندھی کی سیاسی خدمات کے اعتراف سے بھی گریز کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم ہند ہوکر ریاستی قائدین جیسے اکھلیش یادو سے اُلجھنا اور اترپردیش کی انتخابی مہم کو گھٹیا بنانا وزارتِ عظمی کو ہرگز زیب نہیں دیتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جس طرح اسپیکر یا صدرنشین راجیہ سبھا یا پھر کسی بھی ریاستی ایوان کے ایسے ہی دستوری منصب پر فائزشخصیت ہو، وہ سب اپنے انتخاب کے ساتھ ہی پارٹی یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرتے ہیں، مجھے خیال آتا ہے کہ ٹھیک اسی طرح وزیراعظم کے عہدہ کو بھی پارٹی اور سیاسی وابستگی سے علحدہ کردینے کی ضرورت ہے۔ یوں تو وزارتِ عظمیٰ پہلے سے ہی ملک کا بہت اعلیٰ دستوری منصب جو راست عوام کی رائے دہی کے نتیجے میں ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ بھلے وہ شخص بمشکل 35% ووٹوں کی تائید سے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچا ہو لیکن اس بھاری ذمہ داری کا جائزہ لینے کے بعد وہ ساری قوم کا وزیراعظم ہوجاتا ہے، اپنی پارٹی یا کسی بھی تنظیم کے مفادات کا رکھوالا ہرگز نہیں ہوتا ہے۔
ماضی میں بہت دور تک نہ جائیں، ابھی پیشرو یو پی اے ۔ II کی بات کرتے ہیں۔ اُس 2009-14ء کے دور میں بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ بدستور وزیراعظم رہے اور سونیا گاندھی چیئرپرسن یو پی اے و صدر کانگریس۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ 2004-09ء کے مقابل یو پی اے کی حکمرانی بری طرح زوال پذیر ہوئی اور اس دوران ملک کی بیشتر ریاستوں میں کانگریس پارٹی اقتدار سے محروم ہوتی گئی۔ مگر کسی بھی ریاستی الیکشن میں نہ کبھی ڈاکٹر سنگھ اس طرح غرق ہوئے اور نہ کبھی سونیا گاندھی نے کسی ریاست میںکیمپ لگایا، جیسے اِن دنوں وزیراعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کررہے ہیں۔

وزیراعظم ہند کوئی بھی رہا ہو وہ کسی بھی ریاستی انتخابات میں متعلقہ اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے دو، چار، چھ انتخابی ریلیوں میں شرکت کرتا رہا ؍ کرتی رہی ہے۔ یہاں تو سات مرحلے والے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں وزیراعظم مودی ہر مرحلہ میں تقریباً نصف درجن ریلیاں منعقد کررہے ہیں۔ اس طرح پورے اسٹیٹ الیکشن میں 40 یا زائد انتخابی جلسے ہوجائیں گے۔ اِن دنوں الیکشن تو پانچ ریاستی اسمبلیوں کیلئے ہورہے ہیں، لیکن بی جے پی کو یو پی جیتنا بہت ضروری ہے کیونکہ اسی میں اس کی سیاسی بقاء مضمر ہے۔ لیکن کیا ساری ریاستوں اور قوم کے نمائندہ وزیراعظم کیلئے محض اپنی پارٹی کی خاطر اس طرح ایک ریاست میں مشغول ہوجانا زیب دیتا ہے۔ موجودہ طور پر انھیں دیگر 28 ریاستوں کی عملاً کچھ فکر معلوم نہیں ہوتی ہے۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ وزیراعظم ہند پر ایسی دستوری حد لگا دی جائے کہ وہ  نہ ریاستی انتخابات لڑے اور نا ہی انتخابی مہم چلائے۔ یہ کام پارٹی والوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر کسی وزیراعظم کو پارٹی کی اتنی ہی فکر دامن گیر ہو تو وہ پہلے استعفا دے، پھر شوق سے انتخابی ریاست میں کیمپ کرتے ہوئے اپنی پارٹی کا بیڑہ پار لگانے کے جائز جتن کرے۔
اُدھر امریکہ میں جب سے ڈونالڈ ٹرمپ سیاسی منظر پر نمودار ہوئے اور بے باکی سے اظہار خیال کرتے ہوئے سیاسی و دیگر حلقوں کو مضطرب کرنے لگے، بعض مبصرین یہ موازنہ کرنے لگے ہیں کہ ٹرمپ بھی مودی کی طرح سیاسی ہلچل مچا رہے ہیں۔ اور دونوں ایک قبیل کے قائدین معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم میری رائے یوں مختلف ہے کہ ٹرمپ نے چاہے مسلم پناہ گزینوں کے خلاف معاملہ ہو، چاہے پیشرو صدر براک اوباما کی مخالفت میں ہو، چاہے میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر کا معاملہ ہو، امریکی صدارت سنبھالنے کے اندرون دو ہفتے بڑے بڑے روایت شکن ایگزیکٹیو آرڈرس جاری کردیئے۔ ٹرمپ بنیادی طور پر بزنس مین ہیں لیکن صدارتی انتخابات لڑتے ہوئے انھوں نے جو بھی سیاسی تقاریر کئے ، اپنے ارادے صاف صاف ظاہر کئے اور صدارت کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر عملدرآمد بھی شروع کروایا۔ ٹرمپ کے برخلاف مودی نے ہمیشہ ’مشکوک‘ انداز اپنایا ہے۔ یعنی
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مودی کی 2014ء لوک سبھا الیکشن کی مہم لفاظی سے بھرپور رہی۔ وہ عجیب و غریب دعوے اور وعدے کرتے گئے۔ جیسے لاکھوں کروڑوں روپئے کا کالا دھن بیرون ملک جمع ہے جسے وہ واپس لاکر ہر ہندوستانی کے کھاتے میں 15 لاکھ روپئے ڈالیں گے۔ ہر سال ملک میں ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کریں گے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘ کا نعرہ لگایا۔ عوام یو پی اے ۔ II سے کچھ ایسے بدظن ہوگئے تھے کہ آسانی سے مودی کی باتوں میں آگئے اور 2002ء کے گجرات فسادات فراموش کرگئے۔ جہاں اقلیتی برادری کو الگ تھلگ کرکے خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے ریاستی الیکشن جیتے گئے۔ گجرات کی ترقی کے دعوؤں کی قلعی ابھی چند روز قبل کھل گئی جب بی جے پی زیرقیادت گجرات حکومت نے ریاست کی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارہ والا بجٹ پیش کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2002ء سے مودی کی گجرات پر آہنی گرفت رہی اور بی جے پی ریاستی چناؤ جیتتی رہی۔ کچھ اسی طرح کے ارادوں کے ساتھ وہ نئی دہلی آئے اور دو لوک سبھا حلقوں سے کامیاب ہونے کے بعد سوچ سمجھ کر اترپردیش کا وارانسی حلقہ انتخاب اپنے پاس رکھ کر گجراتی نشست چھوڑ دی۔ انھیں اندازہ تھا کہ یو پی ہندوستان کے سیاسی منظر میں کافی اہمیت کی حامل ریاست ہے اور یہاں کے لوک سبھا حلقہ کا نمائندہ ہونا اُن کیلئے کارآمد ہوسکتا ہے۔
نریندر مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ منصوبے بہت بناتے ہیں لیکن نیت میں کھوٹ ہوتی ہے، اس لئے عمل کا وقت آئے تو کچھ کا کچھ کرجاتے ہیں اور معاملہ ہاتھوں سے نکلتا جاتا ہے۔ 2014ء میں گجرات چھوڑ کر وہ قومی سیاست میں آئے اور ایل کے اڈوانی کے بشمول کئی سینئر پارٹی قائدین کو گھر پہ بٹھا دیا۔ کیا ارادوں کے ساتھ نئی دہلی آئے یہ تو مودی ہی جانیں لیکن ڈھائی پونے تین سال کی مدت میں اُدھر گجرات ، بی جے پی کے ہاتھوں سے جاتا دکھائی دے رہا ہے اور اِدھر قومی سطح پر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کوئی بھی بڑا انتخابی وعدہ پورا نہیں کرپائی ہے۔ وہ صرف پیشرو حکومتوں کے اچھے کاموں، اسکیموں اور پروگراموں کو نام بدل کر ایسے پیش کررہی ہے جیسے کوئی کارنامہ انجام دیا ہے۔

بی جے پی اپنے حریفوں خاص طور پر کانگریس کو ہمیشہ کرپشن اور فسادات کے موضوع پر نشانہ بناتی رہی ہے۔ تاہم مودی حکومت ایک ہی جھٹکے میں لگ بھگ دونوں خرابیوں میں ملوث ہوگئی ہے۔ وہ دَور نہیں رہا جب انٹرنٹ اور انفارمیشن ٹکنالوجی سے ہندوستانی عوام متعارف نہیں ہوئے تھے۔ کوئی بھی گروہ معمولی جھگڑے یا تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیتا تو یہ معاملہ افواہوں کے زور پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جایا کرتا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے فساد کی لپیٹ میں آجاتے۔ اب گاؤرکھشاکے نام پر دادری ، اترپردیش میں ایک بوڑھے مسلم کو غیرسماجی عناصر کا ہجوم مار مار کر موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے لیکن ماضی جیسے فرقہ وارانہ فساد دیکھنے میں نہیں آیا۔ گاؤ رکھشا کے نام پر ہی ملک کے طول و عرض میں ذبیحہ گاؤ کے مخالفین نے بہت لوگوں کو مارا پیٹا۔ جب تک مسلمان زد میں آتے رہے، ’لائق‘ وزیراعظم ہند ایسے خاموش رہے جیسے تشویش کی کچھ بات ہی نہیں۔ اور جب خود اُن کی آبائی ریاست گجرات میں چند دلتوں کو نشانہ بنایا گیا تو وزیراعظم کا خاموشی کا باندھ ٹوٹ گیا اور وہ بول پڑے۔ انھوںنے کہا: ’’چاہو تو مجھے گولی مار دو مگر دلت بھائیوں کو نقصان نہ پہنچاؤ‘‘۔ واہ رے، وزیراعظم! انھیں ملک بھر کا دلت ووٹ بینک خطرے میں نظر آیا اور یہ بھی معلوم تھا کہ مرکز میں اقتدار مضبوط رکھنا ہو تو اترپردیش میں کامیابی ضروری ہوگی، جہاں دلت ووٹ خاصی تعداد میں ہیں۔ اور یو پی جیتے بغیر بی جے پی کو راجیہ سبھا میں اپنا موجودہ اقلیت کا موقف اکثریت سے بدلنے والا نہیں۔ مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے ابتدائی دو سال بی جے پی کی ہمنوا اور آر ایس ایس کی محاذی تنظیموں کو عملاً کھلی چھوٹ دی گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنا فرقہ پرستانہ ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے اور سماجی ماحول کو زہرآلود بنانے کی ہر ممکن کوشش کئے۔

پھر مودی اقتدار کی تقریباً ڈھائی سال بعد ’نوٹ بندی‘ کی صورت میں حکومت نے ایسا دھماکہ کیا کہ تقریباً چار ماہ بعد بھی اقتصادی نظام اور بینکنگ سسٹم سنبھل نہیں پایا ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات کا تو کوئی پُرسان حال نہیں۔ دو بڑی کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے نام پر حکومت نے عملاً کئی لاکھ کروڑ کا ’اسکام‘ کیا ہے۔ نوٹ بندی کا اعلان کرنے خود ’قابل‘ وزیراعظم نیشنل ٹی وی پر نمودار ہوئے اور گلہ ٹالنے کیلئے ایک دو وجوہات بیان کردیئے جیسے کالادھن پر روک لگانا، جعلی کرنسی کو مارکیٹ سے ہٹانا۔ ان کاموں کیلئے وزیراعظم نے قوم سے پچاس یوم کا وقت مانگا ۔ اس کا ڈھائی گنا وقت گزر چکا ہے مگر آج تک نہ وزیراعظم، نہ حکومت اور نا ہی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے قوم کو تفصیلات سے واقف کروایا کہ کتنا کالادھن جمع ہوا، کس کے پاس سے برآمد ہوا، پکڑی گئی جعلی کرنسی کی قدر کیاہے، وغیرہ۔ ایک ہزار روپئے کے نوٹ کو نامناسب قرار دینے والوں نے دو ہزار روپئے کی کرنسی جاری کردی۔ اس کا کیا جواز ہے، حکومت نے بتانا ابھی تک مناسب نہیں سمجھا ہے۔ اس کے برعکس عوام کو ’کیش لیس‘ سسٹم کی طرف ڈھکیلنے کی پوری کوششیں کی جارہی ہیں حالانکہ اس کیلئے نہ خود ملک کے طول و عرض میں بھرپور سسٹم موجود ہے اور نہ عوام ذہنی طور پر تیار ہیں۔

مودی حکومت کی پونے تین سالہ کارکردگی کو دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے وزیراعظم نے ابتدائی دو سال خود کیلئے غالب طور پر سیاحت کا رول مقرر کرلیا تھا۔ انھوں نے ابتدائی دو سال میں وزیراعظم ہند کے بیرونی دوروں کے ریکارڈ توڑ دیئے ۔ دنیا کے تمام بڑے ممالک تو گئے، ساتھ میں ایسے چھوٹے چھوٹے ملکوں کو بھی چلے گئے جہاں کبھی وزیراعظم ہند نے دورہ نہیں کیا تھا۔ بیرونی دوروں کی طویل فہرست میں جاپان کے ساتھ نیوکلیر معاہدہ کے سوا ، وزیراعظم مودی نے ملک کیلئے کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں کیا۔ ہاں، ایک بڑی مسلم مملکت سے اعلیٰ شخصی ایوارڈ بھی وطن لے آئے۔ مگر یہ 130 کروڑ ہندوستانی عوام کو راحت پہنچانے والا سامان تو نہیں کہا جاسکتا ہے۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT