Monday , July 24 2017
Home / اداریہ / مودی کے سپاہی، بھیم ۔ آدھار

مودی کے سپاہی، بھیم ۔ آدھار

ان کاوعدہ جب وفا ہونے کو تھا
کیا خبر دل کیا سے کیا ہونے کو تھا
مودی کے سپاہی، بھیم ۔ آدھار
وزیراعظم نریندرمودی ہندوستان سے رشوت کے خاتمہ کیلئے نت نئے تجربات کررہے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد ڈیجیٹل ادائیگیوں کو یقینی بنانے والے اقدامات سے رشوت پر کس قدر قابو پایا جاسکے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ 3 سال کے دوران کالادھن لانے میں ناکام مودی حکومت میں ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ہی مرکزیت دی جارہی ہے۔ بھیم آدھار ڈیجیٹل پے منٹ پلیٹ فارم کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے یہی توقع ظاہر کی کی ڈیجیٹل پے منٹ بھی اس ملک کے دستور کی طرح ایک ’’معاشی ستون‘‘ ثابت ہوگا۔ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی پالیسیوں سے رشوت پر قابو پایا جائے گا لیکن صرف کرنسی کی شکل میں لین دین پر پابندی سے رشوت کا چلن ختم ہوگا یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ رشوت کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے بنیادی ضرورت نظم و نسق اور سرکاری ملازمین کو نیک اور دیانتدار ہونے کا پابند ہونا ضروری ہے۔ سیاستدانوں کی کوکھ سے ہی جنم لینے والی رشوت کی لعنت ملک کے عام آدمیوں کو آج کئی مسائل سے دوچار کرچکی ہے اور اب مودی حکومت نے مزید معاشی مسائل پیدا کرکے زندگیوں کو مصائب میں مبتلاء کردیا ہے۔ رشوت خور سرکاری عملہ اپنے مطلب کے حصول کے لئے کوئی نہ کوئی متبادل طریقہ اختیار کرے گا۔ آج ڈیجیٹل کے ذریعہ ادائیگیوں کو یقینی بنانے کیلئے عوام کی جیبوں کو کرنسی سے خالی کردیا گیا ہے۔ کرنسی کی جگہ آدھار کارڈ اور انگوٹھے کے استعمال کو عام بنادیا جارہا ہے تو سوال یہ ہیکہ کیا اس طریقہ سے رشوت نہیں لی جائے گی۔ رقم کی منتقلی کا یہ ڈیجیٹل عمل یہ تو ثابت نہیں کرسکے گا کہ انگوٹھا لگا کر جس رقم کو منتقل کیا گیا ہے وہ رشوت کی مد سامنے والے کے کھاتہ میں جمع کی گئی ہے۔ رشوت کی ادائیگی ’’موڈ آف پے منٹ‘‘ کی نشاندہی کس طرح کی جائے گی جس طرح کالادھن لانے میں ناکامی ہوئی ہے اس طرح رشوت کو ختم کرنے میں کامیابی نہیں ملے گی۔ سیاستداں اور سرکاری اداروں میں کام کرنے وا لوں کے اندر پاکیزہ خصلت کا فقدان رہے گا۔ خرابیاں برقرار رہیں گی۔ ضرورتمند شہریوں کو ان کے سرکاری کام پورا کرنے کیلئے ٹھگنے کے طریقے بھی ایجاد کرلئے جاتے ہیں۔ جیسے کہ کہاوت ہے کہ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی‘‘ ہے تو سرکاری اداروں میں کام کرنے والوں کا مزاج بدعنوانیوں اور رشوت خوری میں مبتلاء ہے تو پھر یہ لعنت کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوگی اصل مسئلہ سارے نظم و نسق کو شفاف اور دیانتدار بنانے کا ہے اور یہ عادت صرف پاکیزہ جذبہ اور ایماندارانہ مزاج سے ہی بدلی جاسکتی ہے۔ رشوت ایک ایسی لعنت ہے جس نے ہندوستانی سرکاری اداروں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لی ہے۔ اس لئے ملک کی خوشحالی کا جھکاؤ صرف ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جو سیاستدانوں، حکمرانوں کی چھترچھایا میں رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہندوستانی معاشرے میں یہ ایک طرز زندگی بن چکا ہے۔ محکمہ انٹی کرپشن کو ہی لیجئے جس کا کام رشوت خوروں کو پکڑنا ہوتا ہے۔ وہ بھی اس کا شکار ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ہر کرپٹ شخص خوفزدہ ہے۔ وزیراعظم کو اپنے سرکاری محکموں کی حقیقت معلوم ہے تاہم اگر اس سے وہ انجان بن رہے ہیں یا واقعی واقفیت نہیں رکھتے ہیں تو وہ کسی بھی سرکاری دفتر کا ایک عام آدمی کے طور پر دورہ کرکے خفیہ طور پر جائزہ لیں تو یہ بات منکشف ہوگی کہ ایک شہری اپنے کام کی تکمیل کی خاطر دفتر کے چکر کاٹتا ہے اور عہدیداروں سے مل کر مایوس ہوجاتا ہے تو اس شہری کو دفتر کے باہر منڈلاتے ایجنٹس گھیر کر اس کا کام انجام دینے کی معاملت کرتے ہیں۔ جو کام دفتر کے اندر نہیںہ وتا وہ باہر ہوتا ہے اور جو باہر نہیں ہوسکتا وہ اندر ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب مسائل کو بڑھاوا دینا ہے۔ اب وزیراعظم نے اپنے بھیم ۔ آدھار پروگرام کو اپنے اپنے سپاہی مانا ہے۔ جو کرپشن اور کالے دھن کا خاتمہ کریں گے۔ ایک پنڈت سیاستدانوں کے سخت خلاف تھا انہیں رشوت خور کہتا، حرام کی کمائی کھانے والے قرار دیتا، بلیک میلر سمجھتا اور کہتا کہ یہ سیاستداں عوام کو بلیک میل کرتے ہیں۔ ملک دشمن ہوتے ہیں۔ قومی دولت لوٹتے ہیں۔ ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ وہ محلے میں مٹھائی باٹ رہا ہے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پنڈت کو الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ ملا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیاستداں ہوگیا۔ پنڈت سے حکمراں بن گیا۔
جنوبی ہند اور بی جے پی کے عزائم
جنوبی ہند میں خود کو طاقتور بنانے کوشاں بی جے پی کو کرناٹک کے ضمنی انتخابات میں دھکہ لگا ہے۔ آئندہ سال اسمبلی انتخابات کا انتظار کرنے والی ریاست کرناٹک میں کانگریس کو دو نشستیں ملی ہیں۔ یہاں سدارامیا زیرقیادت کانگریس نے اپنا اثر برقرار رکھنے کا مظاہرہ کیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی یونٹ صدر بی ایس یدی یورپا کیلئے یہ بڑا دھکہ ہے کیونکہ انہوں نے ضمنی انتخابات کو آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات سے قبل ’’سیمی فائنل‘‘ قرار دیا تھا۔ بی جے پی کی یہ ناکامی یدی یورپا کو مشکلات میں ڈال دے گی۔ جنوبی ہند میں بی جے پی کی ساکھ کو بہتر بنانے میں مصروف قائدین کیلئے یہ نتائج یقینا مایوس کن ثابت ہوئے۔ بی جے پی نے 8 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی ضمنی انتخابات میں 10 نشستوں کے منجملہ 5 پر کامیابی حاصل کی ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی اور راجستھان میں بی ایس پی سے ایک ایک حلقہ چھین لیا ہے۔ مغربی بنگال میں ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ سب سے زیادہ حیرانی دہلی نتائج پر ہوتی ہے جہاں حکمراں عام آدمی پارٹی کو تیسرا مقام ملا ہے۔ وہیں کانگریس کو دوسرے مقام کے ساتھ اچھے ووٹ ملے ہیں۔ ہاں عام آدمی پارٹی کے کمزور مظاہر ے پر کوئی حیرت ظاہر نہیں کی جاسکتی کیونکہ اسے گوا میں بھی ناکامی ہوئی ہے اور پنجاب میں وہ پیچھے ہی تھی۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے علاوہ بی جے پی کے ووٹ فیصد میں کمی دیکھی گئی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں رائے دہندوں کی رائے بھی مختلف ہے۔ ایسے میں ملک بھر میں بی جے پی کی لہر دکا دعویٰ نامعقول لگتا ہے۔ آئندہ سال چار ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش اور کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں صرف دو اصل پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی میں ہی مقابلہ ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT