Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / !مودی کے نوٹ بندی اعلان سے قبل 3 لاکھ 55 ہزار کروڑ بینکس میں جمع ہوگئے

!مودی کے نوٹ بندی اعلان سے قبل 3 لاکھ 55 ہزار کروڑ بینکس میں جمع ہوگئے

نوٹ بندی اعلان کے راز پر شکوک و شبہات، آر بی آئی آج اعداد و شمار
حیدرآباد ۔ 10 ڈسمبر (سیاست نیوز) نوٹ بندی کا فیصلہ 50 دن قبل ہی افشاء ہوگیا ہے؟ صرف 15 دن میں 16-30 ستمبر کے درمیان 3.55 لاکھ کروڑ  روپئے بینکوں میں جمع ہوگئے ہیں جس کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے صدفیصد کیاش ریزورریشو (سی آر آر) کا اعلان کیا، جس کے بعد شکوک کو تقویت حاصل ہوگئی ہے کہ نوٹ بندی کا راز افشا  ہونے کے بعد ہی کالادھن رکھنے والوں نے اپنی بلیک منی کو ڈپازٹ کرتے ہوئے وائیٹ کرلیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ کیا نوٹ بندی کا راز پہلے ہی چند افراد کو پتہ چل گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی غیرمحسوب دولت کو بینکوں میں جمع کرلیا تھا۔ اوپری  طور پر جائزہ لیا جائے سب کچھ معمول کی سرگرمیاں نظر آتی ہے۔ گہرائی میں جانے پر دال میں کچھ کالا دکھائی دیتا ہے۔ جاریہ سال 16 تا 30 ستمبر تک صرف 15 دن کے دوران 3.55 لاکھ کروڑ روپئے ایف ڈی اور آر ڈی کی شکل میں جمع ہوئے ہیں، جس سے بینکوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 16 ستمبر کو ریزرو بینک آف انڈیا نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بینکوں میں جمع شدہ رقم پر صدفیصد کیاش ریزور ریشو (سی آر آر) کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت بینکوں کو اپنی جانب سے جمع شدہ ڈپازٹ میں کچھ حصہ آر بی آئی کے پاس جمع کرنا لازمی ہے جس کو (سی آر آر) کہا جاتا ہے جو فی الحال صرف 4 فیصد تھا۔ تاہم 16 ستمبر سے 11 نومبر تک جمع کردہ ڈپازٹ پر صد فیصد (سی آر آر) میں اس کا شمار ہوگا۔ نوٹ بندی کے بعد کرنسی کی طلب میں اضافہ ہونے اور بینکوں کو رقم روانہ کرنے کیلئے اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صرف 15 دن میں اتنی بھاری رقم کی ڈپازٹ ہونے پر شکوک پیدا ہورہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہیکہ صرف چند افراد کو نوٹ بندی کی اطلاع تھی جس پر انہوں نے اپنی بلیک منی کو وائیٹ کرلیا ہے۔ آر بی آئی کے پیش کردہ اعداد و شمار کے لحاظ سے 30 ستمبر تک صرف 15 دن میں بینکنگ شعبہ میں جملہ 100.93 لاکھ کروڑ کے ڈپازٹ ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے 16 ستمبر تک 87.38 لاکھ کروڑ ڈپازٹ لکویڈی کی شکل میں تھے۔ اس کے بعد 45 ہزار کروڑ روپئے ستمبر کے پہلے ہفتہ تک بینکوں میں جمع ہوئے ہیں۔ 30 ستمبر کے بعد 1.2 لاکھ کروڑ روپئے ٹائم ڈپازٹ کے تحت بینکوں سے نکال لیئے گئے جو شکوک کے دائرہ میں شامل ہے۔ مزید گہرائی سے ان رقمی لین دین کا جائزہ لینے پر حیرت انگیز انکشافات ہورہے ہیں کیونکہ تب تک مرکزی حکومت کی جانب سے غیرمحسوب دولت کا رضاکارانہ طور پر اعلان کرنے کیلئے جو مہلت دی گئی تھی وہ ختم ہوچکی تھی ورنہ آئی ڈی ایس اسکیم کے تحت 45 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس کے بعد اعلان کرنے سے صرف 30 فیصد ٹیکس ادا کرنا کافی ہوتا ہے۔ اس طرح کالادھن کو بینکوں میں جمع کرتے ہوئے اور نکالتے ہوئے اس کو سفید کرلیا گیا ہے اور ٹیکس ادائیگی پر اکتفاء کیا گیا۔ ان ڈپازٹس کے پیچھے ہی رازپوشیدہ ہونے کا ماہرین معاشیات رائے ظاہر کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT