Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / موروثی سیاست کا دور آندھراپردیش کابینہ میں لوکیش کو شامل کرنے کی تیاریاں

موروثی سیاست کا دور آندھراپردیش کابینہ میں لوکیش کو شامل کرنے کی تیاریاں

سی آر سو کمار
آندھراپردیش ممکن ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں ہندوستان کی ایک ایسی ریاست کے طور پر اُبھرے گا جہاں سیاسی طور پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکیں گی ۔ تلگودیشم پارٹی کے اہم عہدے نیشنل جنرل سکریٹری کے عہدے پر ٹی ڈی پی کے صدر کے فرزند کو فائز کئے جانے کے بعد پارٹی کے سربراہ اور وزیراعلی آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو اب اپنے فرزند کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے کی تیاری میں لگ گئے ہیں ۔ لوکیش کمار  کو آندھرا کاؤنسل آف منسٹرس میں شمولیت کے بعد اس بات کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں کہ نائیڈو اپنے ایک متبادل کے طور پر اپنے فرزند کو ریاستی قیادت کی باگ دوڑ سونپ کر سال 2019 ء میں عام انتخابات میں اہم رول ادا کرنے کی تیاری کررہے ہیں اور اس طرح وہ ملکی ریاست میں ایک نمایاں چہرہ بن کر ابھرنا چاہتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 66 سالہ نائیڈو کئی دہائیوں سے کانگریس کی حکمرانی کے خلاف لڑتے آرہے ہیں ایک بار پھر سیاسی منظرنامے پر اسی طرح کی سیاست کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے ۔ لوکیش کو اپنی پارٹی کیڈر میں مقبولیت دلانے کیلئے زمینی سطح پر اور بہترین سیاسی تشہیر کے ذریعہ پارٹی اپنی روایتی تدبیر اپنانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے لوکیش کو اپنی پارٹی پروگرام ’’ جن چیتنیا یاترا ‘‘ میں شامل کر کے عوام سے روبرو ہونے کا موقع فراہم بھی کیا ہے ۔ یہ پارٹی کا وہ پروگرام ہے جس کے ذریعہ لیڈر عام لوگوں کے روبرو ہوتا ہے اور ان سے ربط پیدا کرکے ان کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ٹی ڈی پی اس پروگرام میں لوکیش کو شامل کر کے زمینی سطح پر لوگوں سے جڑنے کا موقع فراہم کرچکی ہے ۔

اس سے اس کی دوراندیشی اور مستقبل میں لوکیش کو ریاستی سیاست میں اہم مقام دلانے کی کوشش کا اندازہ ہوتا ہے ۔ لوکیش اسٹانفورڈ یونیورسٹی کے مینجمنٹ گریجویٹ ہیں ۔ انہیں ورلڈ بینک کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات ضرور حاصل ہے ۔ وہ ہندوستان آنے سے قبل وہاں مختصر مدت کیلئے جونیر پروفیشنل اسوسی ایٹ کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں ۔ جب وہ اسٹانفورڈ یونیورسٹی سے 2006 میں اپنے وطن واپس آئے تو انہوں نے اپنے خاندانی بزنس ریٹیل اور ڈیری ہرٹیج فوڈ کو سنبھالنے کا کام کیا ۔ 33 سالہ لوکیش کمار کو اس سے قبل 2013 میں ٹی ڈی پی میں شامل کیا گیا تاکہ وہ یوتھ ونگ کی قیادت کرسکیں ۔ وہ برسوں تک بیک روم بوائے کے طور پر اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے رہے ہیں ۔ پروفیسر این ناگیشور سیاسی تجزیہ نگار اور ہنس انڈیا انگریزی روزنامہ اور ایچ ایم ٹی وی کے ایڈیٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو بذات خود ایک ڈائناسٹک سیاست کے ذریعہ اقتدار میں آئے ۔ ہندوستان میں موروثی سیاست کے طور پر چندرا بابو نائیڈو بھی برسراقتدار آئے ۔

ہندوستان میں موروثی طور پر سیاست میں داخل ہونے والوں میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی مرکز میں شامل ہیں ۔ اسی طرح ریاست میں اکھیلیش یادو اترپردیش میں ، کمارا سوامی کرناٹک میں ، نوین پٹنائیک اوڈیشہ میں اقتدار میں آئے ۔ یہ تمام لوگ وراثتی طور پر سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے مزید یہ بات بتائی کہ موروثی قیادت ریاستی سطح کی پارٹیوں میں زیادہ کامیاب اور مضبوط ثابت ہوئی ۔ ناگیشور کے مطابق ملائم سنگھ یادو اور ان جیسے دوسرے انفرادی پارٹیوں کے فاؤنڈرس کی طرح چندرا بابو نائیڈو اور چندرشیکھر راؤ بھی اب سیاسی منظرنامے پر اپنی اولادوں کو لانا چاہتے ہیں اور انہیں عوام سے ایک مضبوط اور سلجھے ہوئے قائد کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو اور کے سی آر اپنی اولادوں کو اقتدار پر فائز ہونا اپنی زندگی کے بہترین دنوں میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لوکیش کمار اپنی پارٹی سرگرمیوں میں آگے بڑھ کر حصہ لیتے آئے ہیں ۔ وہ پارٹی ویلفیر کے کاموں میں آگے رہے ہیں ۔ مالیلا لنگا ریڈی آندھرا میں ٹی ڈی پی کے ترجمان نے کہا کہ نوجوان سیاستدانوں نے بہت سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہیں مفت تعلیم فراہم کرانے اور ان کے اسکلس کو بہتر بناکر انہیں روزگار سے مربوط کرنے کا کام کیا ہے ۔ ہیلتھ سیکٹر اور دوسرے شعبوں میں بھی ان نوجوانوں نے ان کی مدد کی ۔ یہ نوجوان سیاستداں حکومتوں میں بھی اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ ٹی ڈی پی لیڈر گالی مودو کرشنا نائیڈو نے لوکیش کی حکومتی پوزیشن کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ موروثی سیاست ملک میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ گاندھی ، نہرو خاندان سے لے کر ہم دیکھتے ہیںکہ بہت سی ریاستوں میں موروثی سیاست کی باگ ڈور سیاستدانوں کی اولادوں نے سنبھالی ہے جس میں تلگو بولنے والی تلنگانہ کی ریاست بھی شامل ہے ۔ کئی برسوں سے ٹی ڈی پی آندھراپردیش میں اور اس کی پڑوسی ریاست تلنگانہ کے درمیان تقابل کا عمل جاری رہا ہے ۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اور تلگودیشم پارٹی کے درمیان تقابل کا عمل آج بھی جاری ہے ۔  لوکیش اور کے ٹی آر کے درمیان بھی ایک تقابلی سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ دونوں کو دونوں ریاستوں میں مستقبل کے بہتر قائد کے طور پر ابھرنے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ کے ٹی آر سیاست میں تلنگانہ ریاست کے قیام کی تحریک کے ذریعہ 2006 ء میں داخل ہوئے ۔اس وقت وہ تلنگانہ حکومت کی کابینہ میں ایک وزیر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ اس وقت تین کلیدی پورٹ فولیوز سنبھال رہے ہیں ۔ جن میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، پنجایت راج اور میونسپل ایڈمنسٹریشن شامل ہیں ۔ دو نوجوان سیاستداں اور دونوں تلگو ریاستوں کے وزرائے اعلی کے فرزندان نے حال میں اختتام پذیر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں ۔ جہاں کے ٹی آر کی برسراقتدار پارٹی نے نہایت تاریخی رول ادا کیا اور اس کی شاندار جیت ہوئی ہے ۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی کے نوجوان فرزندوں نے یو ایس سے مینجمنٹ کا کورس کیا ہے ۔ انہوں نے گزشتہ سال شمالی امریکہ کا دورہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہاں کس طریقے سے بیرونی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جاسکے ۔ جبکہ کے ٹی آر نے یو ایس اے کا دورہ کیا ریاست کے آئی ٹی وزیر کے طورپر کیا جبکہ لوکیش نے کسی سیاسی پورٹ فولیو حاصل کئے بغیر ہی یو ایس کا دورہ کیا جس پر تنقیدیں ہوئیں کیونکہ دورے کے وقت ان کے پاس کوئی سیاسی پورٹ فولیو نہیں تھا، جبکہ وہ وہاں برانڈ آندھرا کو پروموٹ کرنے کیلئے گئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT