Tuesday , October 17 2017
Home / مضامین / موسم حج 1438ھ

موسم حج 1438ھ

 

کے این واصف
حج 2017ء (1438ھ) کے لیے مقامات مقدسہ پر دنیا بھر سے ضیوف الرحمان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہندوستان سے بھی حجاج یہاں پہنچنے لگے۔ ہندوستانی حجاج کے پہلے قافلہ کا سفیر ہند احمد جاوید اور قونصل جنرل ہند نور رحمان شیخ نے جدہ ایرپورٹ پر استقبال کیا۔ اس سال ہندوستان سے جملہ ایک لاکھ 70 ہزار حجاج آئیں گے۔ امسال سعودی عرب میں غیر معمولی شدید گرمی ہے۔ مگر سعودی حج انتظامیہ مقامات مقدسہ میں حجاج کو گرم لو سے محفوظ رکھنے کے لیے بہترین انتظامات کرتی ہے۔ لہٰذا حجاج کو موسم کے سخت ہونے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس سال حج انتظامیہ نے پھر ایک بار یہ واضح کردیا ہے کہ غیر قانونی طور پر (یعنی بغیر اجازت نامہ حاصل کئے) حج کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ گزشتہ برسوں کی طرح سختی سے پیش آئے گی۔
پچھلے ماہ ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی و اقلیتی امور مختار عباس نقوی سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نئی حج پالیسی تیار کررہی ہے۔ آئندہ برس ہندوستانی حجاج سمندر کے راستے ارض مقدس بھیجے جائیں گے۔ ہندوستان، انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد سب سے زیادہ عازمین بھیجنے والا ملک ہے۔ نئی حج پالیسی سے ہندوستانی حاجیوں کو مزید سہولتیں فراہم ہوں گی۔ نقوی نے بتایا کہ سعودی حکومت نے ہندوستان کے لیے حج کوٹے میں اضافہ کردیا ہے۔ گزشتہ برس ایک لاکھ 30 ہزار کا کوٹہ تھا امسال بڑھاکر ایک لاکھ 70 ہزار کردیا گیا ہے۔ نقوی نے توجہ دلائی کہ حکومت ہند ہندوستانی حاجیوں کو سمندر کے راستے بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے جہازرانی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ فضائی سفر مہنگا ہوجانے کے بعد سمندر کے راستے عازمین کو بھیجنے کی تجویز زیر غور آئی۔ خاص طور پر ریاست تلنگانہ کے عازمین کو سمندر کے راستے بھیجنے کی تجویز پر غور و خوص ہورہا ہے۔

 

سمندر کے راستہ اگر حجاج آتے ہیں تو یہ حجاج کے لیے سستا ہوگا۔ مگر اس سے حج کمیٹی پر دبائو بڑھ جائے گا کیوں کہ قیمت کم ہوگی تو زیادہ لوگ حج کے لیے درخواستیں دیں گے۔ اگر یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو کوئی 30 سال بعد ہندوستانی حجاج سمندری راستہ سے سفر کریں گے۔
ملکوں کے درمیان سیاسی تنازعہ ہوتے رہتے ہیں۔ ویسے سعودی عرب کی عام پالیسی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تنازعات سے دور رہتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے اور اگر کبھی کوئی سیاسی تنازعہ ہوتا بھی ہے تو حکومت سعودی عرب کسی ملک کے سیاسی تنازعہ کو اس ملک کے حجاج کی سعودی عرب آمد سے نہیں جوڑتی ۔ کیوں کہ یہ آنے والے اللہ کے گھر آرہے ہیں اور اللہ کے مہمان ہیں اور سعودی عرب ضیوف الرحمان کی خدمت کو سعادت سمجھتا ہے۔ سعودی عرب کا تازہ سیاسی تنازعہ قطر سے ہے لیکن حکومت سعودی عرب قطری حجاج کا کھلے دل سے خیر مقدم کررہی ہے۔ ہاں سعودی حکومت صرف یہ نہیں چاہتی کہ حج کے موقع کو کوئی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ حکومت مقامات مقدسہ پر نعرہ بازی اور احتجاج وغیرہ جیسی حرکتوں کا سختی سے نوٹ لیتی ہے۔ مقامات مقدسہ کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائے جانے پر پچھلے جمعہ کو امام حرم مکی نے بھی اس کو اپنے خطبہ کا موضوع بنایا۔ امام حرم کی کہی بات سارے مسلمانان عالم کے لیے مشعل راہ ہوتی ہے۔ مکہ مکرمہ ہمارے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
امام حرم مکی کے خطبہ کے کچھ اقتباسات یہاں پیش ہیں تاکہ سارے حجاج کرام کو اداب حج اور مقامات مقدسہ کے احترام کا علم ہوجائے۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ مقامات مقدسہ میں کس طرح پیش آنا ہے، کس طرح اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنا ہے اور اپنے حج کو کس طرح قبولیت کا درجہ دلوانا ہے۔

مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے اپنے خطبہ میں واضح کیا کہ حج مقامات کا واحد نعرہ کلمہ توحید ہے۔ حج موسم کو سیاسی اکھاڑا نہیں بنایا جاسکتا۔ سعودی مملکت نے جب سے اسے اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت، پاسبانی اور نگہداشت کا فرض عطا کیا ہے تب سے وہ اسلامی اتحاد میں خلل پیدا کرنے والی کسی بھی سرگرمی کی کسی کو اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے ایمان افروز روحانی ماحول میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ سعودی ریاست کا غیر متزلزل اصول ہے کہ وہ سیاسی موقف یا فرقہ وارانہ رجحانات یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو مسجد الحرام یا مسجد نبویؐ شریف کی زیارت سے نہیں روکتی۔ جو شخص بھی کلمہ توحید ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتا ہو اس کا تعلق کسی بھی ملک، کسی بھی قومیت، کسی بھی فرقہ اور کسی بھی مسلک سے ہو اسے عازم، معتمر اور زائر کے طور پر ارض مقدس میں خوش آمد کہا جاتا ہے۔ حج، عمرہ اور زیارت پر آنے والے تمام مسلمانوں کو مطلوبہ خدمات اور سہولتیں شایان شان طریقے سے پیش کی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کے مسلمہ اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ حج موسم اور دیار مقدس میں فرقہ وارانہ تعصبات برپا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہاں صرف کلمہ توحید اور ترانہ بندگی ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی صدائیں بلند کی جاتی ہیں۔ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی بھی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو اذیت دے یا امن پسند زائر کو تکلیف پہنچائے۔ حرم شریف سب کے لیے جائے پناہ اور محترم مقام ہے۔ اس کی تعظیم کا احترام سب پر فرض ہے۔ یہاں کسی کا خون نہیں بہایا جاتا، یہاں درخت نہیں اکھاڑے جاتے، سعودی حکومت جملہ مادی اور افرادی وسائل ضیوف الرحمان کی خدمت کے لیے وقف کئے رکھتی ہے۔ حرمین شریفین کی تعمیر، توسیع اور زائرین کی خدمت کے لیے اسکیمیں تیار کی جاتی ہیں اور پروگرامس ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ ضیوف الرحمن کے آرام و راحت اور امن و سلامتی کے لیے تمام وسائل روبہ عمل لائے جاتے ہیں۔ سعودی حکومت عظیم الشان اسلامی اجتماع کے انتظامات کے لیے جملہ صلاحیتیں وقف کئے ہوئے ہے۔ بہترین خدمات فراہم کرنا اور ضیوف الرحمان کو کسی امتیاز کے بغیر کامل سہولتیں مہیا کرنا سعودی حکومت کا شیوہ ہے۔ سعودی عرب ایسا کرکے نہ تو کسی پر احسان جتاتا ہے نہ کسی سے اس کا بدلہ طلب کرتا ہے اور نہ ہی اس پر کسی سے شکریہ کا امیدوار ہوتا ہے۔ یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے مسلم بھائیوں کے تئیں اپنا فرص ادا کرنے کے جذبے سے انجام دیا جارہا ہے۔ امام حرم نے زور دے کر کہا کہ حج کو سیاسی اکھاڑوں میں تبدیل کرنے سے روکنا سعودی کا غیر متزلزل موقف ہے۔ سعودی حکومت عرب افکار و نظریات، جماعتی رجحانات، فرقہ وارانہ نظریات، مسلکی اختلافات اور نظام ہائے اقتدار کے معاملات حج موسم میں چھیڑنے کی اجازت نہ دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ سعودی عرب نے ٹھوس موقف اس لیے اختیار کررکھا ہے تاکہ حج کو اس کے بنیادی مقاصد سے نہ ہٹایا جائے۔ امام حرم نے کہا کہ سعودی عرب سیاسی اغراض کے لیے مشاعر مقدسہ میں مسلمانوں کے اجتماع اور عبادت کے موسم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ لوگ اپنوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کے چکر ارض مقدس میں چلائیں۔ مقدس فرض اس قسم کے تمام مقاصد و اغراض سے پاک و بالا ہے۔ امام حرم نے انتباہ دیا کہ حج شعائر کو سیاسی شکل دینے سے امت مسلمہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ امت مسلمہ حالات، اختلافات اور تنازعات کے تناظر میں سعودی موقف کی تائید کررہی ہے۔ ضیوف الرحمان کی سلامتی، خدمت اور نگہداشت کا فرض سعودی عرب کے تفویض ہے۔ اس حوالے سے وہ سعودی عرب، اس کے عوام، مقیم غیر ملکیوں، عبادت، حج، عمرہ اور زیارت کے لیے آنے والوں کی سلامتی کے لیے مطلوب تمام اقدامات کا پابند ہے۔ سعودی عرب ایمانی ماحول کو مکدر کرنے یا نجی مفادات کو زک پہنچانے یا مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے کسی بھی تصرف کی اجازت نہیں دے گا۔ امام حرم نے کہا کہ سب لوگ ضیوف الرحمان کو پیش کی جانے والی سعودی خدمات کو عبادت کے لئے یکسوئی رکھیں اور یہاں قیام کے ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھائیں۔
امام حرم کی کہی باتوں کو حجاج کرام ذہن نشین کرکے پورے انہماک، خشوع و خضوع سے مناسک کی ادائیگی اور عبادات کی تکمیل کریں تو مقامات مقدسہ کا ماحول مکدر نہیں ہوگا اور حجاج اپنے حج کی قبولیت کو یقینی بناسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT