Friday , October 20 2017
Home / اداریہ / موصل میں بے اثر کارروائیاں

موصل میں بے اثر کارروائیاں

دل تو ایک ہے لیکن نام دل بدلتا ہے
بس گیا تو گلشن ہے لٹ گیا تو صحرا ہے
موصل میں بے اثر کارروائیاں
عراق میں کئی برس کی جنگی اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ مقامی عوام کو ہر روز خون ریز واقعات سے ہوکر زندگی گزارنی پڑرہی ہے۔ عالمی طاقتوں کی نگرانی میں عراق کے حالات کو جلد سے جلد بہتر بنانے کی کوششوں میں اگر کامیابی نہیں مل رہی ہے تو پھر ان طاقتوں کی اس ملک کے حالات کے تعلق سے دلچسپی اور انسانی بحران پر قابو ان کے اقدامات پر کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عراق میں دولت اسلامیہ کو پسپا کرنے میں ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی۔ عراق کے شہر موصل میں دولت اسلامیہ کے جاریہ آپریشن کے دوران سرکاری افواج کی پیشرفت کے بارے میں جو متضاد اطلاعات ملی ہیں۔ 2014ء میں دولت اسلامیہ نے موصل کے علاوہ دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا تھا اور رطبہ مقام پر قبضہ کو عراق کی فوج نے برخاست بھی کرادیا مگر موصل میں دولت اسلامیہ کی طاقت کو توڑنے میں قطعی کامیابی نہ ملنا اور دولت اسلامیہ یا داعش کے خودکش حملوں میں اضافہ نے تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ عراقی حکومت اور وزیراعظم حیدر ال عابدی نے موصل پر داعش کے قبضہ کو برخاست کرنے کے عہد کا اعادہ تو کیا ہے مگر سال 2016ء تک داعش کو شکست دینے ان کے سابق ادعا کی ہنوز تکمیل نہیں ہوئی۔ امریکی زیر قیادت جنگی طیاروں نے گزشتہ کئی مہینوں سے موصل میں مخصوص ٹھکانوں پر بمباری کرکے اس شہر سے داعش کے قبضہ کو برخاست کرانے طاقت کا استعمال کیا مگر اس طرح کی خون ریز کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتیں عالمی نظروں سے اوجھل ہورہی ہیں۔ دو ملین افراد پر مشتمل موصل کی آبادی جون 2014ء میں داعش کے قبضہ کے بعد سے تقریباً خالی ہوتی دکھائی دے رہی ہے جو شہری اپنے گھروں میں رہ گئے ہیں انہیں داعش کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ معزول صدر عراق صدام حسین کے بعد عراق کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی مقامی اور عالمی طاقتوں نے پرتشدد گروپس کو کمزور بنانے میں اب تک کامیابی حاصل نہیں کی ہے تو یہ غور طلب امر ہے۔ سال 2003 ء سے اب تک عراق میں تشدد والے گروپس کے نام تبدیل ہوتے آرہے ہیں۔ یہ انتہاپسندوں گروپس کے مختلف حربے ہیں اور ان کی سرپرستی کرنے والے بڑے گروپس ہنوز عالمی نظروں سے دور ہیں۔ صدام حسین کی معزولی کے بعد مقامی عراق حکومت اور اس کا ساتھ دینے والی عالمی طاقتوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ عراق کے عوام کو ایک پرامن معاشرہ فراہم کرنے کی کوشش کرنے ، روزگار پیدا کرنے اور اصل طاقتور اقتدار لانے کا عمل سست روی سے دوچار ہوگیا  ہے۔ نہ صرف موصل بلکہ عراق بھر میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہاں کے حالات مزید خوفناک اور ہلاکت خیز ہوں گے۔ کیوں کہ عراقی شہریوں نے گزشتہ 13 سال کے دوران جس طرح کے تلخ تجربات کا مشاہدہ کیا ہے اس کے مطابق ہر انتہاپسند گروپ کے خاتمہ کے بعد ایک نئی خطرناک طاقت ابھررہی ہے۔ القاعدہ کے کمزور پڑنے کے بعد ایک دوسری نئی قوت نے عراق میں خون ریزی کارروائیوں میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ عراق کی سرزمین پر اقتدار کے حصول کی جدوجہد اور دیگر انتہاپسند گروپس کی قوت میں اضافہ، عوام کے لئے غیر یقینی حالات کو مزید نازک بنادیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے امدادی کام انجام دینے کے علاوہ لوگوں کی مدد بھی کی جارہی ہے مگر یہ کوشش بھی نہیں کے برابر ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال نینوا صوبہ کا صدر مقام موصل ہے جو عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں انسانی بحران کو فوری دور کرنے کے لئے مقامی سرکاری افواج اور پنٹگان کی کارروائیاں انجام دیتے ہوئے دیکھا جارہا ہے لیکن ان کی اس طرح کی کارروائیوں کے بعد انتہاپسند گروپس دوہرا محاذ کھول رہے ہیں اور ایسا کیوں ہورا ہے۔ ان گروپس تک رسد و کمک کی فراہمی کے ذرائع کیا ہیں ان پر توجہ دی بھی گئی ہے تو اس کو روکنے میں عالمی طاقتیں بے بس دکھائی دے رہی ہیں جو تشویشناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT