Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / موصل میں داعش دہشت گردوں کی قید سے یزیدی لڑکی آزاد

موصل میں داعش دہشت گردوں کی قید سے یزیدی لڑکی آزاد

لندن ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مغربی میڈیا میں ایک یزیدی لڑکی کی کہانی زیر گشت ہے جس نے انکشاف کیا کہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد اْس کو 180 سے زیادہ مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 14 سالہ لڑکی نے جس کا نام اخلاص ہے بتایا کہ وہ چھ ماہ تک داعش کی قید میں رہی جس کے دوران شدت پسند تنظیم کے جنگجو اسے روزانہ زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔اخلاص نے عراق کے شمال میں سنجار کے پہاڑوں پر چڑھ کر داعش کے چنگل سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی مگر تنظیم کے ارکان نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد چھ ماہ تک وہ “باندی” کی حیثیت سے داعش کی قید میں رہی جہاں اس کے خون خوار جنگجو روزانہ کم از کم ایک مرتبہ اخلاص کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ ضرور بناتے۔داعش تنظیم نے 2014 میں عراق میں کْرد نڑاد یزیدیوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا کیوں کہ تنظیم کے سربراہ کی جانب سے ان پر “شیطان کی عبادت” کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اخلاص نے برطانوی میڈیا کے ایک ادارے کو بتایا کہ داعش کی قید میں رہتے ہوئے اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اخلاص کے مطابق وہ داعش کے ہاتھوں اغوا ہونے والی 150 یزیدی لڑکیوں میں سے تھی جن کو جنسی ضرورت پوری کرنے کے واسطے “باندیاں” بنایا گیا تھا.. ان لڑکیوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔اخلاص نے بتایا کہ داعش کی قید میں چھ ماہ رہنے کے بعد ایک روز وہ موقع پا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ اسے پہلے پناہ گزینوں کے کیمپ میں رکھا گیا اور پھر جرمنی منتقل کر دیا گیا جہاں وہ ابھی تک ایک ہسپتال میں علاج اور تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اخلاص کا کہنا ہے کہ وہ وکیل بننا چاہتی ہے۔

 

شمالی سنائی میں کار بم دھماکہ
سات افراد ہلاک
قاہرہ ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک فوجی چیک پوائنٹ موقوعہ شمالی سنائی کے قریب سات افراد بشمول دو بچے اس وقت ہلاک ہوگئے جب ایک کار بم دھماکے کے ساتھ پھٹ پڑا۔ حملہ آوروں نے دراصل فوجی چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا تھا لیکن وہ 200 میٹر دور دھماکہ سے اس وقت پھٹ گیا جب ایک مصری فوجی نے کار کو دبابے کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی۔ مہلوکین میں تین مرد، دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دھماکہ شدید نو عیت کا تھا، جس میں 100 کیلو گرام دھماکو اشیاء کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ حالیہ دنوں میں شمالی سینائی میں دولت اسلامیہ کے جنگجو کافی سرگرم ہوگئے ہیں اور وقفہ وقفہ سے دھماکے ہوتے رہتے ہیں جن میں انسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے۔ جہادیوں نے اب عیسائیوں کو آئندہ نشانہ بنانے کا ا علان کیا ہے جن کا مصر کی 90 ملین آبادی میں 10 فیصد تناسب ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT