Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / موصل میں دولت اسلامیہ کی مکمل شکست کا باقاعدہ اعلان

موصل میں دولت اسلامیہ کی مکمل شکست کا باقاعدہ اعلان

وزیراعظم حیدرالعبادی کی فوج کو مبارکباد، عراقی افواج اور عوام کا صبروتحمل قابل ستائش

موصل ۔ 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) عراق نے بالآخر موصل کو داعش کے قبضہ سے مکمل طور پر آزاد ہونے کا اعلان کردیا جو ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ یاد رہیکہ تین سال قبل داعش جنگجوؤں نے ایک عالمی خلافت کے قیام کیلئے موصل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس موقع پر عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے گذشتہ شب اس فتح کیلئے عراقی فوجیوں اور شہریوں کے صبروتحمل کی زبردست ستائش کی کہ کس طرح انہوں نے گذشتہ تین سال سے جس جدوجہد کا مظاہرہ کیا وہ دشمن کے دانت کھٹے کردینے کیلئے کافی تھی۔ وزیراعظم نے ایک چھوٹے سے فوجی اڈہ پر اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اس وقت فوج کے سینئر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ موصل کی بازیابی کیلئے گذشتہ تین سالوں کے دوران عراقی فوج اور عوام نے جس جدوجہد اور صبروتحمل کا مظاہرہ کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ دولت اسلامیہ کو شکست دینا ان کا مشترکہ مقصد تھا جسے انہوں نے بالآخر حاصل کیا۔ ہمارے شہیدوں کا خون رنگ لایا اور فتح نے ہمارے قدم چومے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ 2014ء میں دولت اسلامیہ نے صرف کچھ ہی دنوں کے اندر موصل پر قبضہ کرلیا تھا لیکن موصل کی بازیابی کیلئے گذشتہ 9 ماہ انتہائی تکلیف دہ، پیچیدہ اور مصائب سے پُر تھے۔ اس جنگ میں امریکی قیادت والے فضائی حملوں نے اہم رول ادا کیا جس نے نام نہاد خلافت کا خاتمہ کردیا لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہیکہ ہر جنگ میں انسانوں کی جانوں کی قربانی دی جاتی ہے اور اس جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ موصل کے آس پاس کے علاقے کھنڈر میں تبدیل ہوگئے۔ ہزاروں انسانی جانوں کا اتلاف ہوا اور تقریباً 9 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی موصل کی بازیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے دن اب پورے ہوچکے ہیں۔ حیدرالعبادی کی تقریر کے فوری بعد اتحادی افواج نے بھی انہیں مبارکباد دی لیکن یہ انتباہ بھی دیا کہ موصل کی ہر گلی اور ہر سڑک کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی تاکہ وہاں ممکنہ طور پر نصب کئے گئے دھماکو آلات کو (خصوصی طور پر قدیم شہر میں) صاف کرنے اور وہاں سے ہٹانے کی ضرورت ہے اور یہ بھی دیکھنا ہیکہ آیا دولت اسلامیہ کے جنگجو وہاں چھپے ہوئے تو نہیں ہیں۔ قبل ازیں داعش کے قبضہ والے آخری علاقوں جو دریائے ٹگریس کے کنارے واقع ہیں، فضائی حملے کئے گئے اور حملوں کی شدت کا اندازہ بھی اس طرح لگایا جاسکتا ہیکہ زخمیوں کو فوری ہاسپٹل پہنچانے کے انتظامات کئے گئے تھے اور فوجیوں نے پھرتی اور مستعدی کا وہ مظاہرہ کیا جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ گولہ بارود جیسے ہی ختم ہوتا، فوجیوں کی ایک جمعیت فوری تھیلوں میں دستی بم اور دیگر دھماکو اشیاء لیکر محاذ جنگ پر پہنچ جاتے۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران عراقی افواج نے موصل شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بھی گشت کی جہاں کئی قدیم اور بوسیدہ مکانات کو انہوں نے جزوی طور پر منہدم کردیا تاکہ ان شکوک کو دور کیا جاسکے کہ آیا اس میں دولت اسلامیہ کے جنگجو چھپے ہوئے ہیں یا دھماکو اشیاء کا اسٹاک تو نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT