Monday , October 23 2017
Home / عرب دنیا / موصل کو داعش کے قبضہ سے آزاد کرانے آپریشن کا آغاز

موصل کو داعش کے قبضہ سے آزاد کرانے آپریشن کا آغاز

ایک ملین افراد کے نقل مکانی کے اندیشے، ’’فتح کا وقت آگیا ہے‘‘: وزیراعظم
بغداد، 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے آج کہا کہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ ( داعش) سے موصل شہر کو آزاد کرنے کے لئے فوجی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ مسٹر حیدر العبادی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر اپنے خطاب میں کہاکہ ’’فتح کا وقت آ گیا ہے اور موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے فوجی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’میں اعلان کرتا ہوں کہ الفتح کی اس فوجی کارروائی سے لوگوں کو داعش کے تشدد اور دہشت گردی سے نجات ملے گی۔‘‘ واضح ر ہے کہ موصل عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لئے فوجی مہم کا منصوبہ کئی ماہ سے بنایا جارہا تھا۔ موصل پر جون 2014 سے ہی داعش کا قبضہ بنا ہوا ہے۔ کرد پیشمرگہ اور عراقی سرکاری فوج کی اس کارروائی کو امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوج کا تعاون حاصل ہے جو عراق میں داعش کے خلاف لڑ رہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ موصل تک رسائی عراقی فورسس کے لئے تر نوالہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ داعش کے متعدد ارکان موصل سے صرف چند ہی کیلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں جہاں عراقی فورسس کو ان سے لوہا لینا پڑے گا اور جب آمنا سامنا ہوگا تو گھمسان کی لڑائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے نائب سکریٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف اسٹیفین او برائن نے بتایا کہ حالات اب اتنے دھماکو ہوگئے ہیں کہ ہمیں شہریوں کے تحفظ کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1.5 ملین افراد موصل میں آباد ہیں اور یہ ممکن ہے کہ موصل کو داعش کے قبضہ سے دوبارہ چھڑانے کے لئے جو کارروائی کی جائے گی اس سے عام شہری بھی شدید طور پر متاثر ہوں گے۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الوقت تو کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ جنگ کس نوعیت کی ہوگی۔ اگر گھمسان کی لڑائی ہوئی تو اس صورت میں کم سے کم ایک ملین افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا جو اپنی نوعیت کی بدترین نقل مکانی ہوگی اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے اور معمر افراد ہوں گے۔ بس یہی فکر ہمیں کھائے جارہی ہے کیوں کہ ہزاروں عراقی مرد، خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہزاروں افراد کا یا تو جبری طور پر تخلیہ کیا جاسکتا ہے یا پھر وہ گھمسان کی لڑائی میں پھنس سکتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ دو سال سے دولت اسلامیہ قائد ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام میں ‘‘خلافت‘‘ کا جو دعوی کیا ہے، عراقی فورسس نے ایران اور امریکہ کی اتحادی فوج کی مدد سے عراق کے ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی زبردست جدوجہد کی ہے جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔ وزیراعظم عبادی نے واضح کردیا ہے کہ صرف سرکاری افواج ہی موصل میں داخل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT