Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / موصل کے دو دیہات عراقی فوج کے قبضہ میں

موصل کے دو دیہات عراقی فوج کے قبضہ میں

عراقی فوج کا مغربی موصل کا محاصرہ ‘ شہر کی سمت فوج اور مرکزی پولیس کی پیشرفت جاری

بغداد ۔ 19فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) عراقی افواج نے وفاقی پولیس کی زیرقیادت موصول کے جنوب میں دو دیہاتوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ فوج کے لیفٹننٹ جنرل عبدالسمیع یاراللہ نے ایک بیان میں کہا کہ فوجیں موصل ایئرپورٹ کی جانب پیشرفت کررہی ہیں ‘ تاکہ الباب اور الزاجاہ پر قبضہ کرسکیں ۔ دودیہات اور پڑوس کے علاقے مرکزی پولیس اور وزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی سریع الحرکت فوجوں کے قبضہ میں آگئی ہے ۔ ایئرپورٹ اور قریبی فوجی اڈے موصول میں پہنچنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر شہر موصل واقع ہے ۔ اعلیٰ سطحی جنگجوشعبہ توقع ہے کہ عنقریب شہر کے مغربی علاقہ پر قبضہ کرلیں گے ۔ عراقی فوج نے موصل شہر کے مغربی حصے کو خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم کے قبضے سے چھڑانے کے لیے حملہ شروع کر دیا ہے۔اتوار کے روز سینکڑوں فوجی گاڑیاں، جنھیں جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے، صحرا میں پیش قدمی کرتے ہوئے موصل میں جہادیوں کے ٹھکانوں کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور دیہات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔عراقی وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے حملہ شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ عراقی فوجیوں نے مغربی موصل کا تقریباً مکمل محاصرہ کر لیا ہے، جب کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس سال کی ابتدا میں سرکاری فوج نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم کے قبضے سے اس کے آخری ٹھکانے موصل کا مشرقی حصہ آزاد کروا لیا تھا۔وزیرِ اعظم عبادی نے ٹیلی ویڑن پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس کارروائی کے نئے مرحلے کا اعلان کرتے ہیں، ہم موصل کے مغربی حصے کو آزاد کروانے کے لیے نینوا آ رہے ہیں۔’نینوا وہ صوبہ ہے جس کا موصل دارالحکومت ہے۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا: ’ہماری فوجوں نے شہریوں کو داعش کی دہشت سے آزاد کروانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔’ صرف شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لینا اور دولت اسلامیہ کو اس کے مضبوط گڑھ سے نکال بھگانا ہی حکومت کے مقاصد میں شامل نہیں بلکہ اس کے لیے شہر کے لوگوں کا اعتماد جیتنا زیادہ اہم ہے اور اس مقصد کے لیے کم سے کم شہریوں کی ہلاکت اور انتقامی کارروائیوں سے گریز ضروری ہے۔تاہم موصل شہر کے تنگ اور گنجان آباد مغربی حصے پر قبضہ کرنا آسان نہیں ہے۔عوام کو آگاہ کرنے کے لیے اس علاقے میں طیاروں سے ورقیہ گرائے گئے ہیں۔’مغربی موصل پر قبضے کے لیے جنگ جاری ہے۔ جنوب کے دیہات حملے کی زد میں ہیں۔’عراق کی ایمرجنسی ریسپانس ڈیویڑن دولت اسلامیہ کے قبضے والے علاقے میں تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔فوج کی جارحانہ کارروائی چار ماہ پہلے آغاز کیا گیا تھا جس میں گذشتہ ماہ مشرقی موصل کی فتح کے بعد کچھ دنوں کیلئے وقفہ پیدا ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT