Monday , August 21 2017
Home / آپ کے سوال / موقوفہ قبرستان پر دینی مدرسہ کی تعمیر

موقوفہ قبرستان پر دینی مدرسہ کی تعمیر

سوال :  ہمارے گاؤں میں قدیم قبرستان ہے اور اس کے پُر ہوجانے کے سبب آج سے تقریباً بیس سال قبل سے ہی اس میں تدفین روک دی گئی ہے اور قبرستان کے حدود کو محصور کردیا گیا لیکن فی الحال چند افراد اس قبرستان کی جگہ پر قبور کے اوپر  غیر قانونی طور پر قبور کو مسمار کر کے مکانات بنوالئے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس قبرستان میں موقوعہ مکانات میں کسی دینی عربی مدرسہ کا آغاز و قیام درست ہے یا نہیں۔ و نیز مذکورہ قبرستان میں تدفین اموات درست ہے ؟
محمد ادریس ‘ ضلع ورنگل
جواب :  صورت مسؤلہ میں مذکورہ اراضی قبرستان کے لئے وقف ہے ۔ اس میں سوائے تدفین اموات کے دیگر تعمیر و ترمیم شرعاً ناجائز ہے ۔ جبکہ در مختار جلد سوم ص : 476 میں ہے۔
وما خالف شرط الواقف فھو مخالف للنص سواء کان نصہ نصاو ظاہر ھذا موافق لقول مشائخناکغیرھم شرط الواقف کنص الشارع فیجب اتباعہ کما صرح بہ فی المجمع۔
قبریں اگر قدیم و بوسیدہ ہوجا ئیں تو اس میں دیگر مردوں کی تدفین جائز ہے۔ دینی مدرسہ کی تعمیر درست نہیں ۔

چیٹنگ(Cheeting)
سوال :  میں ڈگری کا طالب علم ہوں اور دیکھتا ہوں کہ بعض طلباء امتحانات میں کئی مضامین میں خصوصاً انگریزی کے مضمون میں چیٹنگ کرتے ہیں اور جب اس سلسلہ میں ان سے گفتگو ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں: انگریزی زبان کے مضمون میں چیٹنگ کرنا حرام نہیں۔ امید کہ آپ اس ضمن میں میری رہنمائی فرمائیں گے ؟
محمد اویس، مراد نگر
جواب :  چیٹنگ کے معنی دھوکہ کے ہیں اور شریعت اسلامی نے دھوکہ دہی اور خیانت کو بہت سخت ناپسند کیا ہے۔ چنانچہ متعدد احادیث شریفہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ من غشنا فلیس منا ‘‘ جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ دھوکہ معاملات میں ہو یا امتحانات میں یہ حدیث سب پر شامل ہے اور امتحان انگریزی کا ہو یا کسی اور مضمون کا۔ لہذا تمام طلباء و طالبات کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ امتحان میں کسی بھی پرچہ میں دھوکہ اور خیانت سے کام لیں ۔

فرض نماز میں خلاف ترتیب سورتیں پڑھنا
سوال :  مجھے ایک مرتبہ اتفاق سے ایک مسجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملا جہاں پر امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورہ فیل اور دوسری رکعت میں سورہ ماعون کی تلاوت کی اور ایک مرتبہ انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ الناس اور دوسری رکعت میں سورہ الاخلاص کی تلاوت کی۔ اس طرح نماز میں تلاوت کی جائے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
عبدالقدوس، فرسٹ لانسر
جواب :  نماز میں خلاف ترتیب آیتیں پڑھنا یعنی بعد والی سورۃ کو پہلے اور پہلی سورۃ کو بعد میں پڑھنا اور اسی طرح کسی آیت کو آگے پیچھے پڑھنا یا ایک ہی رکعت میں دو ایسی آیتوں کو جمع کرنا جن کے درمیان ایک آیت یا کئی آیتیں رہ گئی ہوں یا دو رکعتوں میں ایسا عمل کرنا جیسا کہ سائل نے استفسار کیا ہے مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری  ج  : 1 ص:  78 میں ہے : و اذا قرأ فی رکعۃ سورۃ و فی الرکعۃ الاخری او فی تلک الرکعۃ سورۃ فوق تلک السورۃ یکرہ و کذا اذا قرأ فی رکعۃ آیۃ ثم قرأ فی الرکعۃ الاخری او فی تلک الرکعۃ آیۃ اخری فوق تلک الآیۃ و اذا جمع بین آیتین بینھما آیات او آیۃ واحدۃ فی رکعۃ واحدۃ او فی رکعتین فھو علی ما ذکرنا فی السور کذا فی المحیط۔
لیکن یہ کراہت صرف فرض نماز میں ہے، سنت یا نوافل میں اگر ایسا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اسی مقام میں ہے : ھذا کلہ فی الفرائض و اما فی السنن فلا یکرہ ھکذا فی المحیط ۔
دشمن کے ساتھ سلوک
سوال :  میرے بعض قریبی رشتہ دار ہمیشہ مجھے تکلیفیں پہنچاتے ہیں، میں کبھی ان کو تکلیف نہیں دیا بلکہ میں ان سے راہ و رسم بھی نہیں رکھتا ہوں۔ بعض دفعہ دلبرداشتہ  ہوکر بے قابو ہوجاتا ہوں۔ کیا میں ہر نماز کے بعد ان کے لئے بد دعاء کرسکتا ہوں؟
محمد مبین ، شاہین نگر
جواب :  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنوں کے لئے بلکہ دشمنوں کے لئے بھی مجسم رحمت و شفقت تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نمایاں صفت لم ینتقم لنفسہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی دشمن سے اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیا۔ (ابوداود)
نیز آپ سے متعدد مرتبہ مشرکین کے حق میں بد دعاء کرنے کی درخواست کی گئی۔ آپ نے ایسے موقعوں پر فرمایا : اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت فرما کیونکہ وہ نہیںجانتے (بخاری)  ایک دوسرے موقعہ پر بنو دوس کے حق میں اس قسم کی بد دعا کی درخواست کی گئی تو فرمایا : اے اللہ : بنو دوس کو ہدایت دے اور انہیں مسلمان کر کے لا (مسلم) ایک اور موقعہ پر فرمایا :  میں لعنت کرنے والا نہیں بلکہ رحمت بناکر بھیجاگ یا ہوں۔ہجرت کے بعد مکہ والوں پر قدرتی وبا (قحط) آئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے باوجود وہ آپ کے دشمن ہیں اُن کے حق میں دعاء خیر فرمائی۔ (بخاری)
لہذا آپ اپنے دشمنوں کو بددعاء دینے کے بجائے ان کے لئے نیک توفیق اور ہدایت کی دعاء کیجئے۔

گناہ کی وجہ رزق میں کمی
سوال :  میں نے تقریر کے دوران ایک مولوی صاحب سے سنا کہ گناہ کے برے اثرات انسان پر پڑتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی گناہ کی وجہ سے انسان کے رزق اور مال و دولت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر دنیا میں بہت سے کفار اور مشرکین ہیں جو نہ صرف خدا کی نافرمانی اور گناہ کرتے ہیں بلکہ اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو بے حساب مال و دولت سے نوازا ہے برخلاف اللہ والے اور نیک لوگ کسمپرسی میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ براہ کرم مجھے تفصیلی جواب دیں کہ کیا گناہ کی وجہ سے رزق میں کمی واقع ہوتی ہے ؟
محممختار احمد ،شبلی گنج
جواب :  حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آدمی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہوتا ہے ۔ عن ثوبان قال قال رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم لایرد القدر الا الدعاء ولا یزید فی العمر الا البروان الرجل  لیحرم الرزق بالذنب الذی یصیبہ ۔ (ابن ماجہ)
حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تقدیر کو کوئی چیز نہیں بدلتی سوائے دعاء کے اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کرتی سوائے نیکی کے اور یقیناً آدمی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہوتا ہے۔ ابن ماجہ کے علاوہ یہ حدیث صحیح ابن حبان ، مستدرک للحاکم اور شرح السنۃ للامام البغوی میں موجود ہے۔ حضرت محدث دکن سیدنا عبداللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے گناہ کے سبب رزق سے محرومی کی بابت دو قول نقل فرمائے ہیں ۔ (1) رزق سے آخرت کا ثواب مراد ہے۔ یعنی آدمی گناہ کی وجہ سے آخرت کے ثواب سے محروم ہوجاتا ہے۔ (2) اس سے دنیوی رزق یعنی مال و دولت اور صحت اور عافیت مراد ہے۔
قال المظھر لہ معنیان احدھما ان یراد بالرزق ثواب الآخرۃ و ثانیھما ان یراد بہ الرزق الدنیوی من المال و الصحۃ والعافیۃ۔ (حاشیہ زجاجۃ المصابیح ج : 4 ص : 84 )
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مسلمان کے ساتھ خاص ہے یعنی اگر کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کو گناہ کی وجہ سے دنیا میں عذاب دے اور آخرت میں اس کے درجہ کو بلند کرے۔
ان الحدیث محضوص بالمسلم یرید اللہ بہ ان یرفع درجتہ فی الآخرۃ فیعذبہ بسبب ذنبہ الذی یصیبہ فی الدنیا۔ (مرفات المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ج : 9 ص : 199 ) اکثر بزرگان دین کے احوال میں دنیوی مسائل و آلام کا ہجوم اور مال و دولت میں جو کمی کے حالات ملتے ہیں ’’ الفقر فخری ‘‘ کے تحت ہیں۔

بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب
سوال :  میں اپنے شوہر کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ ان کی فرمانبرداری کرتی ہوں، ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ اس کے باوجود وہ مجھ سے ناراض رہتے ہیں۔ خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کرتے۔ میرا خیال نہیں رکھتے۔ کیا شریعت میں صرف عورتوں کو مردوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا حکم ہے۔ مردوں پر عورتوں کے لئے کچھ بھی احکام نہیں ؟
نام مخفی
جواب :  اسلام نے بیویوں کے  فرائض کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کو بھی بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف (سورہ بقرہ)۔ (عورتوں کے فرائض کی طرح ان کے حقوق بھی ہیں)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندانی زندگی میں عورت کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  الدنیا کلھا متاع و خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ (مشکوۃ المصابیح) یعنی ساری کی ساری دنیا نعمت ہے اور بہترین نعمت نیک بیوی ہے۔ آپ نے مزید فرمایا:  تم میں بہتر وہی ہے جس کا سلوک اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے اور میرا سلوک میری بیویوں سے سب سے اچھا ہے (ترمذی) ۔ لہذا مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعاشروھن بالمعروف (سورہ نساء) یعنی تم اپنی بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آؤ۔ اگر شوہر کو بیوی کی کوئی عادت پسند نہ ہو تو یقیناً کوئی دوسری عادت ضرور پسند ہوگی تو پسندیدہ عادت کی قدر کرے اور ناپسندیدہ عادت کو درگزر کرے اور صبر کرتے ہوئے بتدریج اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : تم عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو وہ تمہیں اللہ کی امانت کے طور پر ملی ہیں اور خدا کے حکم سے تم نے ان کا جسم اپنے لئے حلال بنایا ہے۔ تمہاری طرف سے ان پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسی غیر کو (جس کا آنا تم کو گوارا نہیں)۔ اپنے پاس گھر میں آنے نہ دیں، اگر وہ ایسا کرے تو تنبیہ کا حق مردوں کو ہے۔(ترمذی، ابن ہشام جلد 4 صفحہ 251) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے لئے سراپا محبت و شفقت اور رأفت و رحمت تھے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ھن لباس لکم کی مجسم تصویر تھے۔ لاڈ پیار ، ناز برداری، روٹھنا منانا، دلچسپی کے پہلو پیدا کرنا، رائے لینا اور ناموافق رائے کو برداشت کرنا وغیرہ یہ سب امور جو ایک ازدواجی زندگی میں پیش آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب میں محبت ، نرمی ، مودت اور رحمت کا پیکر تھے۔ لہذا شوہر کو چاہئے کہ وہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کو اپنے پیش نظر رکھے تاکہ دین و دنیا کی سعادت نصیب ہو اور معلوم ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے ساتھ کیسا حسن سلوک فرمایا۔ علاوہ ازیں اگر شوہر بیوی کے ساتھ حسن سلوک نہ کرے،بیوی کی فرمانبرداری، اطاعت گزاری کے باوجود اس سے خوش نہ ہو تو بیوی کو ان حالات میں صبر سے کام لینا چاہئے اور اپنے حسن سلوک اور اطاعت و فرمانبرداری کو جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ہر حال میں شوہر کی زیادتی پر صبر کرنے کا اجر و ثواب اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس محفوظ رہے گا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب یعنی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT