Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / مولانا آزاد سے آخر تعصب کیوں ؟

مولانا آزاد سے آخر تعصب کیوں ؟

محمد نعیم وجاہت
امام الہند مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کسی تعارف کے متحاج نہیں ہے ۔ انقلابی مزاج ملک اور قوم کے جذبہ نے انہیں عظیم قائد بنادیا جدوجہد آزادی میں ان کا رول ناقابل فراموش ہے ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہیکہ مرکز کی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت اور علاقائی حکومتوں نے بالخصوص تلنگانہ اور آندھراپردیش نے مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تنگ نظری اور تعصب پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ آزاد کا گاندھی ، نہرو ، سردار پیٹل اور امبیڈکر کے علاوہ دوسرے سرکردہ قائدین میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح کی مصبتیں جھیلی اور قربانیاں دی ہیں ۔ مولانا آزاد کے یوم پیدائش کو ’’ یوم اقلیت اور یوم تعلیم ‘‘ سرکاری طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے مگر مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس کو نظرانداز کیا ہے یا برائے نام اہمیت دیتے ہوئے مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مہاتماگاندھی ، سردار پٹیل ، امبیڈکر کے یوم پیدائش تقاریب کو مرکزی اور ریاستوں حکومتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے ۔ وزیراعظم سے گاؤں کے سرپنچ تک انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اس پر ہمیں اور کسی کو بھی اعتراض نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ یہ ہمارے قومی ہیروز ہیں انہیں یاد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ وہی پر مولانا آزاد کی خدمات کو نظرانداز کرنا بہت بڑی سازش اور شرارت ہے ۔ کیا مولانا ابوالکلام آزاد نے دوسروں کے برابر جدوجہد آزادی میں حصہ نہیں لیا ۔ انگریزوں کے ظلم و ستم کو نہیں جھیلاکیا وہ جیل نہیں گئے۔ کیا انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت نہیں کی ۔ کیا انہوں نے مسلمانوں کو پاکستان کے بجائے ہندوستان میں قیام کرنے کا مشورہ نہیں دیا ۔ پھر کیا وجہ ہے ہندوستان میں انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے یا ان کی اہمیت کیوں گھٹائی جارہی ہے انہیں وہ عزت و احترام نہیں مل رہا ہے جو ان کے ساتھی دوسرے قائدین کو مل رہا ہے ۔ حال ہی سردار پٹیل کی یوم پیدائش سارے ملک میں بڑے پیمانے پر منائی گئی وزیراعظم نریندر مودی تمام مرکزی وزراء اور ہندوستان کے تمام ریاستوں میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ بی جے پی کے قائدین نے سردار پٹیل کی ستائش کرنے کے معاملے میں اتنے آگے نکل گئے وہ بابائے قوم گاندھی جی اور ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بھی توہین کردی ۔ اکھنڈ بھارت بنانے کا فیصلہ اسی وقت کی مرکزی کابینہ کا متحدہ فیصلہ تھا تاہم بی جے پی کے قائدین وزیراعظم کو اس کا اعزاز دینے کے بجائے سردار پٹیل کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حیدرآباد کے پولیس ایکشن کو بھی سردار پٹیل کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر سردار پٹیل جراتمندی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو آج حیدرآباد کی بھی کشمیر جیسی صورتحال ہوتی ، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں دوسرے انبائے وطن کے ساتھ جانی مالی قربانی دینے والے مسلمانوں اور ان کے قائدین کی خدمات کو فراموش کیا جارہا ہے ۔ سردار پٹیل ملک کے پہلے مرکزی وزیرداخلہ اور نائب وزیراعظم تھے ۔ لا اینڈ آڈر کا قلمدان ان کے پاس تھا ۔ جس کی وجہ سے ملک کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ہندوستانی ممالکت میں شامل کرنے کیلئے وہ پیش پیش تھے اگر ان کی جگہ دوسرے کوئی بھی قائد وزیرداخلہ ہوتے تو وہی کرتے جو سردار پٹیل نے کیا تھا لیکن آر ایس ایس ، ہندوتوا طاقتیں اس کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے عوام بالخصوص نوجوان نسل کو غلط باوار کرارہے ہیں ۔ بے شک قابلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر امبیڈکر کو دستور ساز کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا اس کمیٹی میں تمام مذاہب اور فرقے کے قائدین تھے دستور ہند کی تیاری میں تمام قائدین نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ مگر اس کا سارا کریڈیٹ صرف امبیڈکر کے سر باندھا جاتا ہے ۔ اس طرح مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم تھے جنہوں نے تعلیمی نصاب میں اخلاق ، کردار ، تہذیب و تمدن اور تاریخی واقعات اور ماڈرن تعلیم کی صحتمندانہ بنیاد رکھی ۔ سیکولرازم کو فروغ دینے اور ملک کیلئے نئی نسل میں محبت پیدا کرنے آپسی بھائی چارگی ، رہن سہن اور مسابقت میں آگے بڑھنے کے علاوہ طلبہ کی مثبت ذہین سازی میں اہم رول ادا کیا ہے لیکن ان کی خدمات کو ہندوستان میں وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں اس لئے ملک اور ریاستوں پر اقتدار کرنے والی تمام جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں مگر بی جے پی سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں کیونکہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہندوستان کا سیاسی منظر یکسر تبدیل ہوگیا ہے ۔ آر ایس ایس کے ریموٹ پر کام کرنے والے نریندر مودی ، سیکولر نظریات کے حامل قائدین کی اہمیت اور قدر ناصرف گھٹائی جارہی ہے بلکہ راست بالراست ان کی توہین کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جنگ آزادی میں حصہ نہ لینے والے اور انگریزوں کی مخبری کرنے والوں کو ان پر ترجیح دی جارہی ہے ۔ ہندوتوا طاقتوں کی اور ان کے منفی سونچ و فکر کی تائید کی جارہی ہے ۔ گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی مورتی بناکر انہیں بھگوان کا درجہ دیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ آج بی جے پی جس طرح سردار پٹیل کو اپنا آئیڈیل مان رہی ہے وہی سردار پٹیل نے گاندھی جی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ ویرسارویکر ، اٹل بہاری واجپائی نے انگریزوں سے معافی مانگ کر جیل سے رہا ہوئے تھے مگر مولانا ابوالکلام آزاد نے انگریزوں سے معافی مانگنے کے بجائے جیل میں رہنے کو ترجیح دی اپنی شریک حیات کے انتقال کے باوجود انگریزںو سے پیرول کی بھیک نہیں مانگی تو بتاو کون سچا ہندوستانی ہے ۔ ویرساوریکر یا مولانا ابوالکلام آزاد ۔
ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد مولانا ابواکلام آزاد کی تیسری یوم پیدائش منائی گئی ۔ برائے نام تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری تقاریب کا اہتمام کیا گیا مگر کسی بھی سال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کیلئے کوئی نیا اعلان نہیں کیا گیا ۔ جو اسکیمات چل رہے ہیں اس کی تشہیر کی جارہی ہے ۔ گزشتہ سال مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور صرف چند قدموں پر رویندر بھارتی میں حکومت کی جانب سے سرکاری تقاریب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر کے سی آر اسمبلی میں موجود تھے تاہم انہوں نے 10 منٹ کیلئے یوم پیدائش تقریب میں شرکت کرنا گوارا نہیں کیا ۔ گزشتہ تین سال سے مسلسل چیف منسٹر تلنگانہ مولانا آزاد کی یوم پیدائش کو نظرانداز کررہے ہیں گزشتہ سال امبیڈکر کی 125 ویں یوم پیدائش پر دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹر کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو نے اپنی اپنی ریاستوں میں امبیڈکر کا 125 فیٹ مجسمہ تنصیب کرنے کا اعلان کیا مگر مولانا آزاد کی خدمات کو صرف خراج عقدیت پیش کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا ۔ حال ہی میں چناحیرسوامی کے ایک پروگرام میں چیف منسٹر کے سی آر نے شرکت کی اور ان کی قدم بوسی کی ۔ ایک ہفتہ قبل شہر کے مواضعات میں ایک عالیشان فنکشن ہال کا افتتاح کیا ہفتہ میں 4 دن اپنے فارم ہاوز میں گذارتے ہیں مگر مولانا ابوالکلام آزاد کو 10 منٹ وقت دینا بھی گوارا نہیں کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر مبارکباد دی پیغام تک اکتفا کیا دوسرے مجاہدین آزادی کے یوم پیدائش پر قوم کو مبارکباد دی جاتی ہے ۔ مگر نوٹ کرنے کی بات یہ ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر نے صرف تلنگانہ کے اقلیتوں کو مولانا آزاد کے پیدائش کی مبارکباد  دی ہے ۔ کیا یہ صحیح سلوک ہے کسی ریاست کے چیف منسٹر سے ایسی توقع رکھی جانی چاہئے ۔ جبکہ ماضی میں کانگریس کے دور حکومت میں آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر مختلف پروگرامس کا اہتمام کیا گیا ۔ چیف منسٹرس ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی اور این کرن کما ریڈی نے سرکاری تقاریب میں شرکت کی ۔ روشیا بحیثیت چیف منسٹر کانگریس پارٹی کی جانب سے گاندھی بھون میں اہتمام کئے گئے پروگرام میں شرکت کر کے خراج عقیدت پیش کی تھی ۔ جاریہ سال روایت کے مطابق عازمین کو وداع کرنے بھی دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو نہیں پہونچے ۔ ٹی آر ایس اور تلگودیشم کے اقلیتی قائدین نے اس بارے میں چیف منسٹرس سے بات کرنے کی جرات بھی نہیں کی ۔ تلنگانہ میں سال 2016  – 17 کیلئے بجٹ میں اقلیتوں کییلئے 1200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ مالیاتی سال کے 6 ماہ گذرنے کے باوجود 300  کروڑ روپئے بھی جاری نہیں کئے گئے ۔ اب تک جتنے بھی کارپوریشن اور بورڈ کے صدورنشین کا اعلان ہوا اس میں ایک مسلم قائد کو بھی نمائندگی نہیں دی گی اور اقلیتی اداروں کے صدورنشین کے انتخاب کو زیرالتواء رکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کی جانب سے گاندھی بھون میں مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقریب منائی گئی ۔ کانگریس کے قائدین نے بھی اپنے ہی سابق صدر مجاہدین آزاد کو اہمیت نہیں دی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اُتم کمار ریڈی گاندھی بھون میں مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرنا مناسب نہیں سمجھا جبکہ انہوں نے اپنے اسمبلی حلقہ میں ایک پروگرام میں شرکت کواہمیت دی صرف مکتوب روانہ کرنے پر اکتفا کیا ان کی غیرموجودگی میں کم از کم ورکنگ پریسیڈنٹ ملوپٹی وکرامارک شرکت کرتے مگر وہ بھی غیرحاضر رہے ۔ قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی بھی موجود نہیں تھے ایسی کیا مجبوری تھی کہ تین اہم قائدین غائب ہگئے جس طرح حکومت کے پروگرام میں ہمیشہ کی طرح ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے شرکت کی اس طرح گاندھی بھون کے پروگرام میں قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے شرکت کی ۔ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے کوئی پروگرام کا اہتمام نہیںکیاگیا اور ناہی کوئی خراج پیش کیا گیا اگر یہ حقیقت پیش کی جارہی ہے تو کیا یہ کسی کی خلاف ورزی ہے اس کا فیصلہ کرنا قارئین کو ہے ۔

TOPPOPULARRECENT