Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ، طلبہ و اساتذہ کا احتجاج جاری

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ، طلبہ و اساتذہ کا احتجاج جاری

یونیورسٹی حکام کے غیر شائستہ طرز عمل کے خلاف غیر معمولی برہمی ، بیرونی افراد کے ذریعہ حملہ کے بعد یونیورسٹی حکام کی پولیس میں شکایت
حیدرآباد ۔ 14۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گزشتہ تین دن سے جاری طلبہ اور اساتذہ کے احتجاج کے سبب تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ یونیورسٹی کے حکام نے پولیس میں شکایت اور احتجاج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جس پر احتجاجیوں نے واضح کردیا کہ مطالبات کی تکمیل تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ اساتذہ اور عہدیداروں کی تین تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں ہڑتال نہیں کر رہے ہیں بلکہ سابق وائس چانسلر محمد میاں کی آمد کے موقع پر اساتذہ اور طلبہ پر حملے کے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ طلبہ اور اساتذہ پر دباؤ بنانے کیلئے انچارج وائس چانسلر کے بعض قریبی افراد نے پولیس رائے درگ میں شکایت درج کی کہ احتجاجیوں نے ان پر حملہ کیا ۔ حالانکہ بیرونی افراد کے ذریعہ احتجاجی اساتذہ اور طلبہ پر حملہ کرایا گیا ۔ انچارج وائس چانسلر کے دباؤ میں یونیورسٹی کے پراکٹر اور چیف وارڈن نے پولیس میں شکایت درج کی۔ تاہم ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا ۔ اساتذہ اور طلبہ کا مطالبہ ہے کہ پولیس میں کی گئی شکایت واپس لی جائے اور حملہ کے ذمہ دار افراد کو معطل کرتے ہوئے تحقیقات کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کے احتجاج میں شدت کو دیکھتے ہوئے پراکٹر اور چیف وارڈن کو استعفے پیش کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی طالبات نے لڑکیوں کے خلاف کئے گئے نازیبا ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا اور وہ بھی احتجاج میں شامل ہوگئی۔ اسی دوران یونیورسٹی میں صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے آج امن مارچ کا اہتمام کیا گیا ۔ دیڑھ گھنٹے تک یہ مارچ جاری رہا اور یونیورسٹی کی اڈمنسٹریٹیو بلڈنگ کے پاس اختتام عمل میں آیا۔ یونیورسٹی کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اور آفیسرس اسویس ایشن نے مشترکہ طور پر جے اے سی تشکیل دی ہے۔ اڈمنسٹریٹیو بلڈنگ کے روبرو باقاعدہ ٹینٹ نصب کرتے ہوئے احتجاج کیا جارہا ہے ۔ احتجاجیوں نے یونیورسٹی کے قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعہ کئے گئے تقررات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ جے اے سی کے عہدیداروں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر تقرر کئے گئے افراد بعض اخبارات میں طلبہ اور اساتذہ کے خلاف خبریں شائع کرا رہے ہیں ۔ جے اے سی نے یونیورسٹی کی صورتحال کے بارے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، وزارت فروغ انسانی وسائل اور یونیورسٹی کے چانسلرس سے نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا  ہے۔ اسی دوران حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں نے اردو یونیورسٹی پہنچ کر جے اے سی سے اظہار یگانگت کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی حکام طلبہ اور اساتذہ کے مطالبہ کے تحت بعض افراد کے خلاف کارروائی کے آغاز پر غور کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT