Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں پھر ایکبار گروہ بندیاں اور اختلافات آشکار

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں پھر ایکبار گروہ بندیاں اور اختلافات آشکار

چانسلر ظفر سریش والا پروگرام سے نظر انداز ، یونیورسٹی پر موجودہ ٹیم کا غلبہ ، قومی جامعہ کے حالات میں بگاڑ
حیدرآباد۔/13اپریل، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گروہ بندیاں اور اختلافات آج اسوقت منظر عام پر آگئے جب نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا کو یادگاری لکچر کی تقریب سے لاعلم رکھنے پر حیرت کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام نے قلی قطب شاہ یادگاری لکچر سیریز کے آغاز اور پہلے لکچر کیلئے ڈاکٹر حامد انصاری کو مدعو کرنے کے پروگرام سے چانسلر ظفر سریش والا کو لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ انہیں پروگرام کا رسمی دعوت نامہ تک روانہ نہیں کیا گیا جبکہ اصولاً کسی بھی پروگرام کے سلسلہ میں یونیورسٹی حکام کو چانسلر سے مشاورت کرنی چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ خود ظفر سریش والا کو اس پروگرام کی کوئی اطلاع نہیں تھی اور آج صبح حیدرآباد روانگی سے قبل ڈاکٹر حامد انصاری نے انہیں فون کرتے ہوئے تقریب میں شرکت سے واقف کرایا۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ خصوصی طیارہ میں ظفر سریش والا ان کے ساتھ حیدرآباد روانہ ہوں ۔ ظفر سریش والا کے ڈاکٹر حامد انصاری سے دیرینہ روابط ہیں۔ جب سریش والا نے انہیں پروگرام سے لاعلمی کا اظہار کیا تو نائب صدر جمہوریہ خود بھی حیرت میں پڑ گئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وائس چانسلر اسلم پرویز کی سرکردگی میں جو ٹیم یونیورسٹی کے اُمور پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے ان میں سریش والا کے مخالف عناصر موجود ہیں اور وہ کسی بھی معاملہ میں چانسلر کو شامل کرنے کے حق میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کے ایک ملازم کے توسط سے ڈاکٹر حامد انصاری کو پروگرام کے لئے مدعو کیا گیا۔ حامد انصاری جس وقت سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر تھے یونیورسٹی کے یہ ملازم وہاں صحافت میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ پروگرام میں عدم شرکت کے بارے میں جب نمائندہ ’سیاست‘ نے ظفر سریش والا سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے حیرت میں ڈال دیا کہ گزشتہ دو دن میں دو مرتبہ وائس چانسلر سے ان کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن وائس چانسلر نے اس پروگرام کی نہ ہی کوئی اطلاع دی اور نہ ہی شرکت کیلئے مدعو کیا۔ یونیورسٹی حکام کے اس رویہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اردو یونیورسٹی میں حالات سب کچھ ٹھیک نہیں ہیں اور ایک گروہ اپنی من مانی کررہا ہے۔ ظفر سریش والا نے چانسلر کی حیثیت سے یونیورسٹی کی ترقی اور یو جی سی سے بجٹ کے حصول کے سلسلہ میں جو اقدامات کئے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ حکومت میں شامل افراد سے ان کی قربت کے سبب یونیورسٹی کے کئی مسائل باآسانی حل ہوچکے ہیں۔ اگر یونیورسٹی میں باہمی تال میل کی کمی اور گروہ بندیوں کا یہی سلسلہ رہا تو اس سے یونیورسٹی کی ترقی یقینی طور پر متاثر ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT