Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کروڑہا روپیوں کی بے قاعدگیاں منظر عام پر

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کروڑہا روپیوں کی بے قاعدگیاں منظر عام پر

تحقیقاتی کمیٹی کی خاطیوں کے خلاف کارروائی کی سفارش ، حیدرآباد سے دہلی تک ہلچل
حیدرآباد۔/6 مئی، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں سابق وائس چانسلرس کے دور میں کی گئی کروڑہا روپئے کی بے قاعدگیاں منظر عام پر آرہی ہیں۔ موجودہ وائس چانسلر اسلم پرویز نے یونیورسٹی میں وائی فائی، وائی میکس، یونیورسٹی ویب سائٹ کی تیاری اور منی پال پریس میں نصابی کتابوں کی اشاعت کے اسکام کی تحقیقات کیلئے پروفیسر سلیمان صدیقی کی صدارت میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کے ارکان میں پروفیسر آئی بی رام پرساد راؤ اور پروفیسر پی ایس این ریڈی شامل تھے۔ کمیٹی نے دونوں اسکامس میں علی الترتیب 8کروڑ اور 6کروڑ روپئے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وائس چانسلر نے سابق میں کی گئی کروڑہا روپئے کی بے قاعدگیوں کی تحقیقات تو کروادی لیکن تحقیقاتی رپورٹ پر عمل آوری سے گریز کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2سابق وائس چانسلرس کے ملوث ہونے سے متعلق رپورٹ نے حیدرآباد سے دہلی تک ہلچل پیدا کردی ہے۔ سابق وائس چانسلرس اور ان کے حواری موجودہ وائس چانسلر پر تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے اور اس پر عمل آوری سے گریز کیلئے زبردست دباؤ بنارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پروفیسر سلیمان صدیقی نے اپنے دو ارکان کے ساتھ تمام متعلقہ فائیلوں کا جائزہ لیتے ہوئے جامع رپورٹ تیار کی اور نہ صرف خاطیوں کی نشاندہی کی بلکہ ان کے رول کا انکشاف کیا۔ اس کے باوجود وائس چانسلر کی جانب سے کارروائی سے گریز نے یونیورسٹی کے حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ وائس چانسلر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرتے ہی ڈاکٹر اسلم پرویز نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر پوری دیانتداری سے فرائض انجام دیں گے اور اسکام میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے خاطی افسران کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات بشمول سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ جو افراد ان اسکامس میں ملوث پائے گئے ان میں بعض ابھی بھی یونیورسٹی میں برسر خدمت ہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک اسکام میں ملوث ڈائرکٹر جنہیں کچھ عرصہ کیلئے ذمہ داری سے سبکدوش کیا گیا تھا وہ دوبارہ اسی عہدہ پر فائز کردیئے گئے اور تحقیقاتی رپورٹ میں ان کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں معاملات میں اسوقت کے عہدیداروں نے قواعد کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ یونیورسٹی میں بنائے گئے وائی فائی اور وائی میکس کے سلسلہ میں اسوقت کے انچارج نوڈل آفیسر نے فینانس آفیسر کی ملی بھگت سے کمپنی کو ایک ہی وقت میں 7 کروڑ 80لاکھ روپئے جاری کردیئے جبکہ قواعد کے مطابق کسی بھی کام کی تکمیل کیلئے 40فیصد سے زائد رقم جاری نہیں کی جاسکتی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وائی فائی فراہم کرنے والی کمپنی نے خود 40فیصد رقم حاصل کرنے سے اتفاق کیا لیکن نوڈل آفیسر نے ایک ہی وقت میں مکمل رقم ادا کردی اور اس معاملت میں 3 تا 4 کروڑ روپئے کے غبن کا اندیشہ ہے۔ اس کام کیلئے یونیورسٹی نے کوئی ٹنڈرس طلب نہیں کئے۔ ٹیکنیکل اور فینانشیل بٹس بھی طلب نہیں کی گئیں جبکہ قواعد کے مطابق کسی بھی کام کیلئے ٹنڈرس طلب کئے جاتے ہیں۔ رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں یونیورسٹی کی فینانس کمپنی کی اجازت ضروری ہے اور اس کے بعد ایکزیکیٹو کونسل سے اجازت حاصل کی جاتی ہے لیکن اس معاملہ میں دونوں سے اجازت حاصل نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسوقت کے نوڈل آفیسر نے اسوقت کے وائس چانسلر اور دیگر افراد کی ملی بھگت سے یہ رقم جاری کی اور قواعد کی صریح خلاف ورزی کی جبکہ انٹرنل آڈٹ آفیسر نے بارہا رقم کی یکمشت اجرائی پر اعتراض کیا لیکن اس کے اعتراض کو نظرانداز کردیا گیا۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی کمپنی کو یہ کام حوالے کیا گیا اور شبہ ہے کہ اس کمپنی سے اسوقت کے یونیورسٹی کے اہم عہدیداروں کی ملی بھگت ہے۔ قواعد کے مطابق کام کی مقررہ وقت میں عدم تکمیل کی صورت میں کمپنی پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے لیکن وائی فائی اور وائی میکس کے معاملہ میں یونیورسٹی نے کام میں تاخیر کے باوجود سارا جرمانہ معاف کردیا۔ یونیورسٹی قواعد کے مطابق 90دن کی تکمیل کے بعد 5فیصد اور مزید 30دن کے بعد 3 فیصد جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن کمپنی پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کئی اور انکشافات کئے گئے جس سے اسکام میں عہدیداروں کی ملی بھگت کا ثبوت ملتا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا جاتا ہے کہ ملوث افراد جو برسرخدمت ہیں انہیں فوری برطرف کرنے اور کوئی انتظامی پوسٹ نہ دینے کی بھی سفارش کی لیکن حیرت ہے کہ اس اہم رپورٹ کو وائس چانسلر نے برفدان کی نذر کردیا۔

TOPPOPULARRECENT