Monday , May 1 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انتظامیہ کو جامعہ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں عدم دلچسپی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انتظامیہ کو جامعہ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں عدم دلچسپی

کریم نگر اور بہار میں الاٹ کردہ اراضیات کے حصول میں پہلوتہی ، چانسلر کی ہدایت بھی نظر انداز
حیدرآباد۔17 اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حکام کو یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور اردو داں طبقہ کی بہتر خدمت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کریم نگر ضلع میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے لیے 5 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ اس کے علاوہ بہار کی حکومت نے رانچی میں یونیورسٹی کے لیے 6 ایکڑ اراضی الاٹ کرنے کا اعلان کیا لیکن دونوں اراضیات کے حصول کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام نے آج تک حکومت بہار اور کریم نگر کے کلکٹر سے اراضی کے بارے میں کوئی مراسلت تک نہیں کی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز جو دہلی میں ایک کالج کے پرنسپل تھے وہ یونیورسٹی کے انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے اور وہ شمالی ہند کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر چانسلر ظفر سریش والا کو عملاً نظرانداز کرچکے ہیں۔ ظفر سریش والا نے اپنی خصوصی دلچسپی سے یونیورسٹی کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کئے لیکن یونیورسٹی حکام ان احکامات کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ گزشتہ دنوں اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنو میں اردو یونیورسٹی کے کیمپس کے لیے 12 ایکڑ اراضی الاٹ کرنے سے اتفاق کیا۔ ظفر سریش والا کی خصوصی دلچسپی سے تین مقامات پر یونیورسٹی اپنے کیمپس کا آغاز کرسکتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کو یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے شخصی دلچسپی لے کر میونسپل کارپوریشن سے 5 ایکڑ اراضی الاٹ کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ وہ کیمپس کے قیام کے لیے درخواست کرنے کے لیے خود یونیورسٹی پہنچے تھے تاہم بتایا جاتا ہے کہ آج تک یونیورسٹی نے کوئی مراسلت نہیں کی اور یہ اراضی تحویل میں نہیں لی ہے۔ رانچی میں 6 ایکڑ اور لکھنو میں 12 ایکڑ اراضی کے حصول میں اگر تاخیر کی گئی تو پھر حکومت اپنے تیقن سے انحراف کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چانسلر ظفر سریش والا نے اس بارے میں حکام کو بارہا متوجہ کیا لیکن منصوبہ بند طریقہ سے انہیں یونیورسٹی کی سرگرمیوں سے دور کردیا گیا ہے۔ انہیں یونیورسٹی کے پروگراموں کی تک کوئی اطلاع نہیں دی جاتی۔ حالیہ عرصہ میں وائس چانسلر اور ان کے قریبی افراد نے کئی تقررات عمل میں لائے لیکن اس کی چانسلر کو اطلاع تک نہیں دی گئی۔ ظفر سریش والا نے یونیورسٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف کی گئی کارروائی سے دستبرداری کے لیے بارہا حکام کو متوجہ کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بازماموری کی سفارش کی۔ لیکن وائس چانسلر کچھ نہ کچھ بہانہ بناکر اس معاملہ کو ٹالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اور معاملہ میں عدالت میں مقدمہ کے باوجود ایک پروفیسر کی خدمات کو بحال کیا گیا ۔ ظفر سریش والا نے پہلی مرتبہ کیمپس رکروٹمنٹ سنٹر کا آغاز کیا تھا جو اب غیر کارکرد ہوچکا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے 50 سے زائد طلباء کے لیے ملک کی 7 بڑی کمپنیوں کے دورے کا اہتمام کیا تھا جن میں ریلائنس، ایگزم بینک، ممبئی اسٹاک اکسچینج، ریزرو بینک آف انڈیا، یونین بینک آف انڈیا، یوفو ٹکنالوجی شامل ہیں۔ ان اداروں کے معائنے کے بعد ریلائنس نے یونیورسٹی کے طلبہ کو جام نگر گجرات میں واقع اپنی ریفائنری کا معائنہ کرانے کا پیش کش کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی نے کسی بھی ادارے سے اپنے تعلق کو برقرار نہیں رکھا ہے جبکہ ہر سال اس طرح کے دورے کے اہتمام کی تجویز تھی۔ ایگزم بینک نے یونیورسٹی کے تین طلبہ کو ٹریننگ میں شامل کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن یونیورسٹی نے کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا اگر یہی صورتحال رہی تو یونیورسٹی اپنی مقررہ حد تک سکڑکر رہ جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ظفر سریش والا جاریہ سال بھی کانوکیشن کے اہتمام کے لیے دہلی میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کانوکیشن میں شرکت کے لیے وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جائوڈیکر کو مدعو کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT