Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ پر اصلاحات کے نام پر قواعد کا نفاذ

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ پر اصلاحات کے نام پر قواعد کا نفاذ

طلبہ اور ریسرچ اسکالرس کا احتجاج ، یونیورسٹی حکام کے رویہ کی مذمت ، ہاسٹل کو تخلیہ کرنے کی ہدایت پر طلبہ برہم
حیدرآباد۔/12مئی، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں آج دن بھر طلباء اور بالخصوص ریسرچ اسکالرس نے احتجاج منظم کرتے ہوئے یونیورسٹی حکام کے رویہ کی مذمت کی۔ طلباء نے  اڈمنسٹریٹیو بلاک کے تمام راستوں کو بند کردیا اس طرح عمارت کا عملاً گھیراؤ کرلیا گیا۔ بعد میں یونیورسٹی کی مین گیٹ کو بند کردیا گیا جس کے باعث یونیورسٹی کے ملازمین کافی دیر تک یونیورسٹی میں محروس ہوگئے۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے پہلی مرتبہ موجودہ وائس چانسلر کی نگرانی میں طلباء پر اصلاحات کے نام سے قواعد نافذ کئے جارہے ہیں اور انہیں گرمائی تعطیلات میں ہاسٹل کے کمروں کا تخلیہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کسی بھی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالرس کو تعطیلات کے دوران بھی کمروں میں قیام کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ریسرچ اسکالرس کا کام تعطیلات میں بھی جاری رہتا ہے لیکن خود کو موافق طلباء قرار دینے والے اور یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول پیدا کرنے کا عزم کرنے والے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے طلباء کیلئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ریسرچ اسکالرس نے آج دن بھر وائس چانسلر کے دفتر کے روبرو اور پھر یونیورسٹی کی مین گیٹ پر دھرنا منظم کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گرمائی تعطیلات میں ہاسٹل کے کمروں کے تخلیہ کے احکامات کو واپس لیا جائے۔ کسی بھی یونیورسٹی میں تعطیلات کے بعد طلباء کو از سر نو نئے کمرے الاٹ نہیں کئے جاتے لیکن اردو یونیورسٹی نے نیا طریقہ کار رائج کرنے کی کوشش کی ہے۔ طلباء کو ہدایت دی گئی کہ وہ 21مئی سے شروع ہونے والی گرمائی تعطیلات کے پیش نظر اپنے کمروں کا تخلیہ کردیں اور وہاں موجود ضروری سامان کو یونیورسٹی کے ریکارڈ روم میں جمع کردیں۔ تعطیلات کے اختتام کے بعد 11جولائی کو جب دوبارہ یونیورسٹی کی کشادگی عمل میں آئے گی اس وقت طلباء کو از سر نو نئے کمرے الاٹ کئے جائیں گے۔ یونیورسٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ داخلہ کے وقت طلباء سے اس سلسلہ میں اسٹامپ پیپر پر دستخط حاصل کی گئی تھی اور ریسرچ اسکالرس نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا تھا۔ دوسری طرف ریسرچ اسکالرس کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے نام پر صرف جاریہ سال ہی طلباء کو ہراساں کرنا کہاں تک درست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسرچ کا کام ہمیشہ جاری رہتا ہے

 

لہذا انہیں کمروں کے تخلیہ کی ہدایت نہ دی جائے۔ عثمانیہ اور دیگر یونیورسٹیز کے ہاسٹلس میں ریسرچ اسکالرس کو تعطیلات کے دوران بھی قیام کی اجازت دی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹی میں جاری بے قاعدگیوں کے خلاف طلباء کے احتجاج اور حکام پر کارروائی کیلئے دباؤ سے پریشان حکام نے بدلہ کے طور پر یہ کارروائی کی ہے اور اسے اصلاحات پر عمل آوری کا آغاز کا نام دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعطیلات کے آغاز کے بعد جو ریسرچ اسکالرس حیدرآباد میں رہ کر ریسرچ کا کام انجام دینا چاہیں تو وہ آخر یونیورسٹی کے علاوہ کہاں قیام کریں گے۔ اس طرح کی نئی شرائط نے یونیورسٹی کے طلباء میں ناراضگی پیدا کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طلباء کے دن بھر احتجاج کے باوجود وائس چانسلر نے ملاقات سے انکار کردیا اور انہیں کل 13 مئی کو بات چیت کیلئے مدعو کیا ہے۔ واضح رہے کہ اردو یونیورسٹی میں بوائز کے 4 اور گرلز کے 2 ہاسٹلس ہیں جن میں گنجائش 1150 ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ 1450 طلبہ کو قیام کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح ہراساں کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں جاری مختلف دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کی پردہ پوشی کیلئے طلباء کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT