Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ پر حملہ کے خلاف احتجاج ، ماحول کشیدہ

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ پر حملہ کے خلاف احتجاج ، ماحول کشیدہ

باب الداخلہ بند کردیا گیا ، طلبہ گرفتار ، انچارج وائس چانسلر ، پراکٹر اور چیف وارڈن کی معطلی کا مطالبہ
حیدرآباد۔12اکٹوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں طلبہ اور اساتذہ نے آج دن بھر احتجاج منظم کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر کے دورے کے موقع پر غنڈہ گردی اور مارپیٹ کے واقعات کی مذمت کی۔ احتجاجی طلبہ نے صبح ہی سے یونیورسٹی کی مین گیٹ کو بند کردیا تھا اور کسی گاڑی کے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طلبہ اس بات پر ناراض ہیں کہ ہفتہ کے دن سابق وائس چانسلر محمد میاں کے خفیہ دورے کے موقع پر ان کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کی غنڈوں کے ذریعہ پٹائی کی گئی۔ اس حملے میں کئی اساتذہ اور طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔ یونیورسٹی کے حکام نے طلبہ کو پولیس میں شکایت درج کرنے سے روک دیا تھا۔ آج صبح جب طلبہ نے احتجاج شروع کیا اور یونیورسٹی کے پراکٹر اور چیف وارڈن کے رویہ کی مذمت کی تو یونیورسٹی حکام نے پولیس کو طلب کرلیا۔ رائے درگ پولیس نے بعض طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ تاہم یونیورسٹی حکام نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لئے پولیس کو واپس بھیج دیا۔ طلبہ اور ا ساتذہ نے ہفتے کے دن پیش آئے واقعہ کے لئے انچارج وائس چانسلر، پراکٹر اور چیف وارڈن کو ذمہ دار قرار دیا اور ان سے استعفیٰ کی مانگ کی۔ طلبہ کے احتجاج کے سبب یونیورسٹی میں ماحول کشیدہ ہوگیا۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے علاوہ بعض سینئر اساتذہ نے بھی احتجاج کی تائید کی۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تاکہ منظم انداز میں احتجاج کیا جاسکے۔ شام میں انچارج وائس چانسلر اور رجسٹرار نے احتجاجی طلبہ کو بات چیت کے لئے مدعو کیا تاہم طلبہ کا موقف تھا کہ وہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ سابق وائس چانسلر کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ نے احتجاج منظم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وائس چانسلر یونیورسٹی میں کئی بے قاعدگیوں کے ذمہ دار ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی فیصلے کئے گئے۔ یونیورسٹی کی موجودہ ابتر صورتحال کے لئے طلبہ سابق وائس چانسلر کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر کو کشمیر کی ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ راجوری میں واقع اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کے لئے اردو یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر بھی امیدوار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سلیکشن کمیٹی میں بحیثیت رکن یو جی سی، سابق وائس چانسلر محمد میاں موجود ہیں جو اپنے بااعتماد ساتھی کو وائس چانسلر کا عہدہ دلانا چاہتے ہیں۔ اسی دوران یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے طلبہ پر غنڈوں کی جانب سے حملے کے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں وہ انچارج وائس چانسلر سے رپورٹ طلب کریں گے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ سابق وائس چانسلر کو طلبہ اور اساتذہ کے احتجاج کے پس منظر میں یونیورسٹی مدعو نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے شکایت کی کہ یونیورسٹی کے حکام انہیں روزمرہ کی سرگرمیوں سے تاریکی میں رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ چانسلر کی حیثیت سے اس معاملہ کے خاطیوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT