Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پراکٹر اور چیف وارڈن تبدیل

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پراکٹر اور چیف وارڈن تبدیل

نئے وائس چانسلر کا آئندہ ہفتہ جائزہ، طلبہ و اساتذہ کا احتجاج جاری، طلبہ و اساتذہ پر سے مقدمات کی عدم دستبرداری
حیدرآباد۔/17اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نامزد وائس چانسلر پروفیسر اسلم پرویز آئندہ ہفتہ اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پروفیسر اسلم پرویز نے وائس چانسلر کے عہدہ پر تقرر کیلئے مرکزی حکومت سے اظہار تشکر کیا اور وہ ماہرین تعلیم سے مشاورت کے ذریعہ اپنی ترجیحات کو طئے کررہے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔ وہ حیدرآباد آمد سے قبل یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا سے بھی ملاقات کریں گے۔ یونیورسٹی میں گزشتہ چھ دن سے احتجاج کرنے والے ٹیچنگ ، نان ٹیچنگ اور آفیسرس اسوسی ایشن کے نمائندوں نے ڈاکٹر اسلم پرویز کو مبارکباد پیش کی اور یونیورسٹی کی تازہ ترین صورتحال سے واقف کرایا۔ انہوں نے احتجاجی اساتذہ اور طلباء سے اپیل کی کہ وہ احتجاج سے دستبرداری اختیارکرتے ہوئے یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ وہ وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد یونیورسٹی کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں گے تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان کی آمد تک احتجاج جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ جے اے سی کے سکریٹری کے مطابق تینوں اسوسی ایشنوں کے نمائندے ڈاکٹر اسلم پرویز کی آمد کے موقع پر ایرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کریں گے اور انہیں جائزہ حاصل کرنے کے بعد مطالبات پیش کریں گے۔ اسی دوران ڈاکٹر اسلم پرویز کے تقرر پر اساتذہ میں ملے جلے ردعمل کا اظہارکیا جارہا ہے۔ بعض اساتذہ کو امید ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز سابق وائس چانسلرس کی روایات کے برخلاف یونیورسٹی کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دیں گے۔ وہ گزشتہ چند برسوں میں کی گئی مبینہ بے قاعدگیوں اور تقررات کے علاوہ بعض اساتذہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا بھی از سر نو جائزہ لیں گے۔ یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کے احتجاج کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر نے پراکٹر اور چیف وارڈن کو تبدیل کردیا ہے ان کی جگہ دیگر افراد کو یہ ذمہ داریاں دی گئیں۔ طلباء کے خلاف جن اساتذہ نے پولیس میں شکایت درج کی تھی انہوں نے ابھی تک شکایت واپس نہیں لی جس کے باعث طلباء میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ نئے وائس چانسلر کی آمد کے بعد یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول بحال ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT