Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 17 سال بعد بھی ترقی نہ کرسکی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 17 سال بعد بھی ترقی نہ کرسکی

نئے وائس چانسلر کے تقرر پر یونیورسٹی حلقوں میں مایوسی ، چانسلر جناب ظفر سریش والا کے سفارش کردہ نام ندارد
حیدرآباد۔/16اکٹوبر، (سیاست نیوز) ملک کی پہلی قومی اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے تقرر پر یونیورسٹی کے حلقوں میں مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا کے سفارش کردہ ناموں کو نظرانداز کردیا اور ڈاکٹر اسلم پرویز پرنسپل ذاکر حسین دہلی کالج کو نیا وائس چانسلر مقرر کردیا۔ اس سلسلہ میں صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد کل شام یونیورسٹی کو اطلاع دی گئی۔ چانسلر ظفر سریش والا نے اگرچہ اس تقرر کا خیرمقدم کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح ایک سائنٹسٹ اور تجربہ کار اڈمنسٹریٹر کی تھی۔ وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کو ترقی کی نئی منزلوں کی طرف لے جانے کیلئے ایک تجربہ کار شخصیت کی ضرورت تھی اور طلبہ کو عصری کورسیس سے متعارف کرنے کیلئے وہ ایک سائنسداں کے حق میں تھے لیکن صدر جمہوریہ نے جس نام کو منظوری دی ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے اسکریننگ کمیٹی نے جن تین ناموں کو شارٹ لسٹ کیا تھا اُن میں پہلا نام پروفیسر سراج الرحمن کا تھا جبکہ پروفیسر فیضان مصطفی وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی حیدرآباد دوسرے نمبر پر تھے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز کا نام تیسرا تھا لیکن صدر جمہوریہ نے تیسرے نام کو منظوری دیتے ہوئے تمام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ظفر سریش والا بھی چاہتے تھے کہ پروفیسر سراج الرحمن یا فیضان مصطفی میں سے کسی ایک کا انتخاب ہو۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ نام کو منظوری دینے سے قبل وزارت فروغ انسانی وسائل نے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ ان کے علاوہ یونیورسٹی کے اساتذہ بھی نئے تقرر سے مایوس دکھائی دیئے۔ گزشتہ پانچ دن سے احتجاج کرنے والے اساتذہ اور طلباء نے نئے وائس چانسلر کی آمد تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے وائس چانسلر سے ملاقات اور مطالبات کے بارے میں ان کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ چانسلر ظفر سریش والا نے’ سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نئے وائس چانسلر سے وہ حالیہ عرصہ میں یونیورسٹی میں کئے گئے تقررات، یونیورسٹی موجودہ صورتحال، مختلف کورسیس کی غیر مسلمہ حیثیت اور گزشتہ برسوں میں یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں جمود کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کریں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 17برسوں میں یونیورسٹی نے کوئی خاص پیشرفت نہیں کی اور ملک کے 8شہروں میں واقع کیمپس ابتر حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے کئی کورسیس حتیٰ کہ آئی ٹی آئیز اور دیگر اداروں کی ڈگریاں مسلمہ نہیں ہیں جس کے باعث ہزاروں طلباء کا مستقبل داؤ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہے کہ سابق وائس چانسلرس نے ان اہم اُمور پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے وائس چانسلر کو ایکشن پلان حوالے کریں گے اور اس پر عمل آوری میں مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں۔ چانسلر کے مطابق گیارہویں پنجسالہ منصوبہ کی 105کروڑ روپئے کی رقم کو انہوں نے منظور کرایا ہے جبکہ یہ بارہویں پنجسالہ منصوبہ کا تیسرا سال چل رہا ہے۔ سابقہ وائس چانسلرس نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے حالیہ واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے لہذا طلباء کو چاہیئے کہ وہ احتجاج ختم کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ ہوجائیں۔ وہ ملک کے 8شہروں میں یونیورسٹی کے اسکولس، آئی ٹی آئی اور ہاسٹلس کے قیام کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تمام ریجنل سنٹرس کو عصری سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ مولانا آزاد فاؤنڈیشن سے 530کروڑ روپئے امداد حاصل کرنے کی مساعی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18برسوں میں یونیورسٹی نے آج تک اپنا آن لائن سسٹم تیار نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT