Wednesday , July 26 2017
Home / ہندوستان / مولانا آزاد کو ہند مسلم اتحاد سب سے زیادہ عزیز تھا

مولانا آزاد کو ہند مسلم اتحاد سب سے زیادہ عزیز تھا

مولانا اردو کو سرکاری زبان بنانے کی حمایت کی تھی ۔ سمینار میں مقررین کا اظہار خیال
بارہ بنکی20مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) بھارت رتن مولانا ابوالکلام آزاد کے نزدیک سوراج اور آزادی سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہندو مسلم اتحاد تھا۔وہ مسلمانوں کومذہب پر قائم رہتے ہوئے جنگ آزادی میں حصہ لینے کی دعوت دیتے تھے ۔ ان کا دائرہ ادب، سیاست، مذہب، تاریخ اور فلسفے کے میدان تک پھیلا ہواتھا۔ان خیالات کا اظہار پریرنا ایکشن سوسائٹی کے زیراہتمام مولانا ابوالکلام آزاد: تاریخ ساز شخصیت کے موضوع پرمنعقدہ سمینار میں مقررین نے کیا۔یہ سمیناراتر پردیش اردو اکیڈمی کے تعاون سے منعقدہ کیا گیاتھا۔ اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر عصمت ملیح آبادی ،ودیانت ہندو پی جی کالج لکھنؤ، نے کہا کہ مولانا آزاد کے طور پر دنیا میں شناخت بنانے والے محی الدین احمد کی مذہبی معلومات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اخبار الہلال میں ان کے مضامین غیبی آواز کی مانند مسلم قوم کو متاثر کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد مسلمانوں کو مذہب کی راہ سے جنگ آزادی میں کود پڑنے کی دعوت دیتے تھے ۔ مولانا کی مادری زبان عربی تھی لیکن ان کی اردو تحریریں بھی لاجواب تھیں۔ ان کے الفاظ کا ایک طلسم ہوتا تھا۔ آزاد کا دائرہ ادب، سیاست، مذہب، تاریخ اور فلسفے کے میدان تک پھیلا ہوا تھا ۔ڈاکٹر ملیح آبادی نے کہا کہ آج جو لوگ مسلمانوں کو قومیت کے سبق پڑھا رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ مولانا آزاد کا سبق پڑھ کر وہ اپنے ایمان کو تازہ کر سکتے ہیں۔ مولانا آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن دہلی کی جامع مسجد کے در و دیوار ہندوستان کے مسلمانوں کو جاگتے رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ مولانا کا کہنا تھا کہ اگر آپ جاگنے تیار نہیں تو کوئی بھی طاقت تمہیں جگا نہیں سکتی۔جواہر لعل نہرو پی جی کالج کے سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر احسن بیگ نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ اردو کے خلاف مہم کے دوران مولانا آزاد نے ہندوستانی زبان کو سرکاری کام کاج کی زبان بنانے کی حمایت کی تھی مگر ملک کے بٹوارے کے بعد اردو کا دعوی کمزورپڑ گیا۔ڈاکٹر بیگ کے مطابق مولانا آزاد اردو کو اس کا صحیح مقام دلانا چاہتے تھے ۔ اس کام میں انہیں پنڈت جواہر لعل نہرو کی حمایت حاصل تھی۔سبکدوش انفارمیشن افسر ڈاکٹر ایس ایم حیدر نے کہا کہ مولانا آزاد کی شخصیت کے سینکڑوں پہلو تھے  انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی مذہبی، سماجی اور تعلیمی کارکردگی اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ سماجی اتحاد کے پیروکار تھے ۔انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے تعلق سے مولانا آزاد کی کوششوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں اسے لے کر کتنی تڑپ تھی۔ پٹیل پی جی کالج کی صدر شعبہ اردو ڈاکٹرصفت الزہرہ زیدی نے کہا کہ مولانا آزاد نے جس خاندان میں آنکھ کھولی، وہ علم اور ادب سے مالا مال تھا۔ مولانا جب وزیر تعلیم بنے تو انہوں نے ایسا نصاب تیار کیا جو انتہائی ترقی پسند اور اپنے آپ میں مکمل تھا۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں بڑے رہنماؤں کا نام اس لئے زندہ ہے کیونکہ ان کی قوم نے انہیں سینے سے لگایا۔ آج مسلم قوم کو مولانا آزاد کی وراثت کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔جواہر لعل نہرو پی جی کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عزیز رضا نے مولانا ابوالکلام آزاد اور جدید اردو صحافت پر کہا کہ محض 12 سال کی عمر میں مصباح اخبار کے ایڈیٹر مولانا آزاد جدید اردو صحافت کے روح رواں تھے ۔ مولانا اسرار وارثی نے نظامت کی ۔ آغاز حافظ عبداللہ کی قرآن شریف کی تلاوت سے ہوا۔ شاعر نصیر انصاری نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ شمس زکریا نے اشعار پیش کئے ڈاکٹر عثمانی، کمال خان، حاجی صابر علی، ظفر بن عزیز، نصیر الحق انصاری، جلالددین، مرزا قسیم بیگ، محمد اخلاق ایڈووکیٹ، طارق خاں، عتیق الرحمن ، سید ایاز زیدی، فرحت علی، محمد اطہر سلیم، عبدا لماجد ، خورشید جہاں، زینت افروز، عامرہ محمود اور رخسانہ پروین بھی موجود تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT