Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر بھی پرانی روش پر ؟

مولانا آزاد یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر بھی پرانی روش پر ؟

سابق وائس چانسلر کی روایات برقرار ۔ متنازعہ فیصلوں کی توثیق ۔ اردو والوں میں مایوسی
حیدرآباد۔/22مارچ، ( سیاست نیوز) مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کے تقرر کے بعد اردو والوں میں امید جاگی تھی کہ یونیورسٹی میں اصلاحات کے ذریعہ بے قاعدگیوں کا خاتمہ ہوگا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے وائس چانسلر کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرتے ہی ابتدا میں بعض سخت گیر اقدامات کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ سابق وائس چانسلر کی روایات کو جاری نہیں رکھیں گے اور نہ ہی ان کے حواریوں کی حرکتوں کو برداشت کریں گے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ سابق وائس چانسلر محمد میاں کے یونیورسٹی میں موجود حواریوں نے اپنی بااثر لابی کے ذریعہ ڈاکٹر اسلم پرویز پر اثر انداز ہونے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق وائس چانسلر نے شخصی عناد اور مبینہ الزامات کے تحت جن افراد کے خلاف کارروائی کی تھی انہیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے موجودہ وائس چانسلر نے سابق فیصلہ کو برقرار رکھا۔ حالانکہ انہوں نے محمد میاں کی جانب سے نشانہ بنائے گئے افراد کو یقین دلایا تھا کہ ان کے ساتھ مکمل انصاف کریں گے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے طلباء اور ٹیچنگ اسٹاف کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عمل آوری کا تیقن دیا تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم مطالبات ابھی تک مکمل نہیں کئے گئے۔ سابق وائس چانسلر نے سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو میڈیم ٹیچرس کے ڈپٹی ڈائرکٹر کو بعض الزامات کے تحت خدمات سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کو درخواست گذار کی وضاحت پر ازسر نو غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت کے حکم کے تحت ایکزیکیٹو کونسل کا اجلاس 7مارچ کو طلب کیا گیا جس میں خدمات سے برطرفی کے فیصلہ کی دوبارہ توثیق کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق وائس چانسلر نے جن ایکزیکیٹو ممبرس کے ساتھ یہ فیصلہ لیا تھا آج بھی وہی افراد ایکزیکیٹو کونسل میں برقرار ہیں اور انہوں نے سابق وائس چانسلر کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ کسی الزام کے تحت یقینی طور پر کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن خدمات سے برطرفی کا فیصلہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ ایک خاندان کے مستقبل کو تاریک کرنے کے مماثل ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز جو اسلامیات کے ماہر ہیں انہیں چاہیئے کہ اسلامی تعلیمات کے وسیع مطالعہ کی روشنی میں اس طرح کے غیر انسانی فیصلے پر نظر ثانی کریں اورطویل عرصہ سے معطلی کو بطور سزا تصور کرتے ہوئے مذکورہ ڈپٹی ڈائرکٹر کو بازمامور کریں۔ اس طرح ان کی نہ صرف یونیورسٹی بلکہ مسلم سماج میں نیک نامی ہوگی اور انسانی ہمدردی کا بہترین مظاہرہ پیش کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT